جسٹس ڈوگر کی تعیناتی کے بعد شہباز شریف کی ضمانت کے چرچے کیوں؟

اسلام آباد ہائی کورٹ کے نئے چیف جسٹس جسٹس سردار محمد سرفراز ڈوگر کی تعیناتی کے بعد ایک بار پھر شہباز شریف کی متنازعہ ضمانت اور "عمرانی عدالتی دور” کے خاتمے کی بازگشت زوروں پر ہے۔ جہاں یوتھیے تاحال سپریم کورٹ اور صدر مملکت کے فیصلے پر سراپا احتجاج ہیں وہیں عمراندار ججز کو بھی جسٹس سرفراز ڈوگر کی بطور چیف جسٹس تعیناتی ہضم ہوتی نظر نہیں آ رہی۔ تاہم بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ یہ پہلا موقع نہیں کہ جسٹس ڈوگر پی ٹی آئی کے نشانے پر آئے ہوں اسلام آباد ہائیکورٹ کے نومنتخب چیف جسٹس ماضی میں شہباز شریف کی ضمانت دینے پر بھی یوتھیوں کی تنقید ی زد میں آ چکے ہیں۔
لاہور ہائیکورٹ میں شہباز شریف کی منی لانڈرنگ اور آمدن سے زائد اثاثہ جات کیس میں دو رکنی بینچ کے ججز کے مابین اس وقت اختلاف سامنے آیا جب جسٹس سرفراز ڈوگر نے شہباز شریف کی درخواست ضمانت منظور کی جبکہ جسٹس اسجد جاوید گھرال نے اسے مسترد کرنے کی سفارش کر دی اور الزام عائد کیا کہ جسٹس ڈوگر نےشماریاتی اور قانونی مشورے اور بغیر اتفاق رائے کےفوراً شارٹ آرڈر جاری کر دیا۔ اختلاف رائے کے باعث یہ درخواست چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ کے پاس چلی گئی، جنہوں نے 20 اپریل 2021 کو اس کیس کی سماعت کے لیے نیا تین رکنی بنچ تشکیل دیا جس میں جسٹس علی باقر نجفی، جسٹس عالیہ نیلم اور جسٹس شہباز رضوی شامل تھے ۔ بعد ازاں ریفری بینچ نے جسٹس ڈوگر کے مؤقف کو تسلیم کیا اور شہباز شریف کو ضمانت پر رہا کر دیا گیا۔ ناقدین کے مطابق یہ فیصلہ تکنیکی قانونی نکات پر تو درست ہو سکتا ہے، لیکن اس کے سیاسی اثرات نہایت دور رس تھے۔ ایک جانب شہباز شریف کو اپوزیشن لیڈر کے طور پر مقدمات سے نکلنے کا موقع ملا، دوسری طرف یہ تاثر تقویت پکڑ گیا کہ طاقتور سیاسی شخصیات کے لیے عدالتوں کا رویہ نرم اور عام افراد کے لیے کڑا ہوتا ہے۔ جس پر یوتھیوں نے جسٹس ڈوگر کو سوشل میڈیا پر خوب تنقید کا نشانہ بنایا۔
مبصرین کے مطابق اب جسٹس سرفراز ڈوگر کی اسلام آباد ہائیکورٹ میں تعیناتی کو عدلیہ کے "ڈی عمرانائزیشن” کا آغاز کہا جا رہا ہے۔ ان کی موجودگی سے نہ صرف ایک نیا عدالتی مزاج متوقع ہے بلکہ اسلام آباد ہائیکورٹ سے ماضی میں عمران خان کو ملنے والی رعایتوں کی روش کا خاتمہ بھی یقینی ہوتا دکھائی دیتا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ تبدیلی عدالت کو "بے اثر عمرانی سائے” سے ہمیشہ کیلئے آزاد کردے گی،
خیال رہے کہ جسٹس سردار محمد سرفراز ڈوگر اسلام آباد ہائیکورٹ کے ساتویں چیف جسٹس ہیں، جسٹس ڈوگر بطور جج 10 سالہ کیریئر میں 35 ہزار سے زائد کیسز کے فیصلے سنا کر تاریخ رقم کر چکے ہیں، وہ شہباز شریف کی درخواست ضمانت، بہاولپور اسلامیہ یونیورسٹی ویڈیو سکینڈل سمیت دیگر تاریخی کیسز کا حصہ رہے ہیں۔
لاہور ہائیکورٹ سے ٹرانسفر ہو کر آنے والے 56 سالہ جسٹس سردار محمد سرفراز ڈوگر 8 جون 2015 سے لاہور ہائیکورٹ میں بطور جج خدمات سرانجام دے رہے تھے جبکہ یکم فروری 2025 کو اُنہیں اسلام آباد ہائیکورٹ میں ٹرانسفر کیا گیا تھا۔
جسٹس سردار محمد سرفراز ڈوگر نے لاہور ہائیکورٹ میں بطور جج تاریخی فیصلے کیے جنہیں عدالتی نظیر کے طور پر دیکھا جاتا ہے، لاہور ہائیکورٹ میں جسٹس سردار محمد سرفراز ڈوگر نے تقریباً 9 سال 8 ماہ بطور جج فرائض سر انجام دیئے اور 35 ہزار سے زائد کیسز کے فیصلے جاری کیے۔
گزشتہ برس 8 فروری انتخابات کے بعد جسٹس سردار محمد سرفراز ڈوگر کو الیکشن کمیشن اور لاہور ہائیکورٹ میں انتخابی عذرداریوں پر فیصلے کرنے کے لئے الیکشن ٹربیونل مقرر کیا گیا جبکہ بہاولپور اسلامیہ یونیورسٹی سکینڈل کی تحقیقات کے لیے 11 جنوری 2024 کو جسٹس سرفراز ڈوگر کو کمیشن کا سربراہ مقرر کیا گیا۔
بطور سربراہ کمیشن جسٹس سردار محمد سرفراز ڈوگر نے اِسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور کے طلبہ اور اساتذہ کو جنسی ہراسانی اور منشیات کے استعمال سے متعلق الزامات سے بری کرتے ہوئے اِس سکینڈل کی ذمہ داری یوٹیوبرز پر عائد کی۔جسٹس سردار محمد سرفراز ڈوگر نے لاہور ہائیکورٹ میں متعدد مقدمات کی سماعت کے دوران قرار دیا تھا کہ پولیس کی نااہلی کی وجہ سے عدالتیں بدنام ہوتی ہیں، پولیس عدالتی احکامات کو نظر انداز کر کے قانون پر عمل درآمد نہیں کرتی اور سارا الزام عدالتوں پر آتا ہے۔
