ایران پر حملے کے بعد ٹرمپ کا مستقبل داؤ پر کیوں لگ گیا؟

معروف پاکستانی سفارت کار اور سابق سفیر ڈاکٹر ملیحہ لودھی نے کہا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو یہ غلط فہمی تھی کہ بڑے پیمانے پر امریکی اور اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں ایران چند ہی روز میں ہتھیار ڈال دے گا، لیکن اس کے برعکس تہران نے دونوں حملہ آوروں کا بھرپور مقابلہ کرتے ہوئے پوری دنیا کو حیران کر دیا ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ امریکی صدر ٹرمپ ایک بڑی مشکل میں پھنس چکے ہیں جس کے نتیجے میں ان کا اپنا سیاسی مستقبل داؤ پر لگ گیا ہے اور وہ جنگ سے جان چھڑانے کے لیے موقع کی تلاش میں ہیں۔
ڈاکٹر ملیحہ لودھی معروف انگریزی روزنامہ ڈان کے لیے اپنے سیاسی تجزیے میں کہتی ہیں کہ امریکہ نے ایران پر حملہ آور ہو کر جو پنگا لیا ہے اس سے یہ سبق ملتا ہے کہ قوم پرستی کی طاقت سے بڑی کوئی طاقت نہیں ہوتی اور ایرانی عوام نے مشکل وقت میں اکٹھے ہو کر یہ ثابت کر دیا ہے۔ ان کے مطابق جب کسی ملک پر بیرونی جارحیت ہوتی ہے تو وہاں کے عوام میں دفاع وطن کا جذبہ شدت اختیار کر لیتا ہے، اور یہی جذبہ کسی بھی جدید فوجی طاقت کے مقابلے میں فیصلہ کن کردار ادا کرتا ہے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ امریکہ ویتنام، افغانستان اور عراق میں بھی اسی بنیادی حقیقت کو سمجھنے میں ناکام رہا، جہاں مقامی آبادی نے ہار نہ ماننے کی حکمت عملی سے بالآخر امریکہ کو پیچھے ہٹنے پر مجبور کیا۔
ڈاکٹر ملیحہ لودھی کے مطابق ایران کے معاملے میں بھی یہی عنصر نمایاں طور پر سامنے آیا ہے، جہاں قوم پرستی نے داخلی سیاسی اختلافات کو پس پشت ڈال کر پورے ملک کو متحد کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ یہ سمجھنے میں ناکام رہا کہ کسی ملک کی عسکری صلاحیت کو نقصان پہنچانا اس کے عوام کے عزم کو ختم نہیں کرتا۔ انہوں نے اس جنگ کے دوسرے بڑے سبق پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ صدر ٹرمپ کی جانب سے ایران پر حملے کا فیصلہ واضح حکمت عملی، ٹھوس منصوبہ بندی اور ممکنہ نتائج کے درست اندازے کے بغیر کیا گیا، جو ایک سنگین غلطی ثابت ہوا۔ ان کے مطابق امریکہ نہ تو اپنے جنگی مقاصد واضح کر سکا اور نہ ہی یہ اندازہ لگا سکا کہ ایران کس نوعیت کا ردعمل دے گا۔
ڈاکٹر ملیحہ لودھی کا کہنا ہے کہ امریکی قیادت کی ایک بڑی غلط فہمی یہ تھی کہ ایران فوری طور پر پسپائی اختیار کر لے گا، لیکن اس کے برعکس ایران نے نہ صرف بھرپور جوابی کارروائیاں شروع کر رکھی ہیں بلکہ خطے میں اپنے اثر و رسوخ کو استعمال کرتے ہوئے جنگ کا دائرہ وسیع تر کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ خود صدر ٹرمپ بھی ایران کے ردعمل پر حیران دکھائی دیے اور انہوں نے اس کا کھلے عام اعتراف کیا ہے۔ ان کے مطابق ایران کی غیر روایتی حکمت عملی، خصوصا خلیجی ممالک میں تیل کی تنصیبات کو نشانہ بنانا اور آبنائے ہرمز کو بند کرنا، امریکی پالیسی سازوں کے اندازوں کے برعکس ثابت ہوئی ہے۔
ان ایرانی فیصلوں کے نتیجے میں دنیا بھر میں تیل کی قیمتیں تیزی سے بڑھیں، عالمی توانائی منڈیوں میں ہلچل مچ گئی اور عالمی معیشت کو شدید خطرات لاحق ہو گئے۔
ڈاکٹر ملیحہ لودھی کے مطابق یہ تمام عوامل ظاہر کرتے ہیں کہ امریکہ ایک ایسی جنگ میں الجھ گیا ہے جس کے نتائج اور اثرات کا اس نے پہلے اندازہ نہیں لگایا تھا۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ خود کو ایک طاقتور ملک سمجھتے ہوئے اس غلط فہمی میں مبتلا تھا کہ فوجی طاقت کے استعمال سے وہ ایران کو شکست تسلیم کرنے پر مجبور کر دے گا، لیکن وہ ایک دلدل میں پھنسنے کے بعد اس میں دھنستا چلا جا رہا ہے۔
ڈاکٹر ملیحہ لودھی کا کہنا تھا کہ اس جنگ نے امریکہ کی اتحادی پالیسی کی کمزوریوں کو بھی بے نقاب کر دیا ہے۔ صدر ٹرمپ نے جب آبنائے ہرمز کی صورتحال سے نمٹنے کے لیے اتحادیوں سے مدد طلب کی تو بیشتر یورپی ممالک نے اس میں شامل ہونے سے انکار کر دیا۔ اس کی ایک بڑی وجہ یہ تھی کہ امریکہ نے جنگ شروع کرنے سے قبل اپنے اتحادیوں کو اعتماد میں نہیں لیا تھا۔
انہوں نے کہا کہ صدر ٹرمپ کا اپنے اتحادیوں کے ساتھ سخت اور بعض اوقات توہین آمیز رویہ بھی اس صورتحال کا سبب بنا، جس کے نتیجے میں امریکہ ایک مضبوط بین الاقوامی اتحاد بنانے میں ناکام رہا۔
پاکستان دشمن افغان طالبان کو کابل میں اقتدار کس نے دلوایا؟
خلیجی ممالک کے حوالے سے ڈاکٹر ملیحہ لودھی کا کہنا تھا کہ اس جنگ نے امریکی سکیورٹی چھتری کی عملی افادیت پر بھی سوالات اٹھا دیے ہیں، کیونکہ ایران کی جوابی کارروائیوں کے دوران یہ ممالک خود کو غیر محفوظ محسوس کرتے رہے۔ انہوں نے کہا کہ اس صورتحال سے یہ تاثر مضبوط ہوا ہے کہ امریکہ کی ترجیحات میں اپنے اتحادیوں کے مفادات سے زیادہ دیگر عوامل شامل ہیں۔ ڈاکٹر ملیحہ لودھی نے خبردار کیا کہ یہ جنگ مزید پیچیدگی اختیار کر سکتی ہے، تاہم انکے مطابق اب تک کی صورتحال واضح کرتی ہے کہ بغیر واضح حکمت عملی، زمینی حقائق کے ادراک اور مؤثر سفارت کاری کے کوئی بھی فوجی مہم اپنے مقاصد حاصل نہیں کر سکتی، اور یہی وہ بنیادی غلطیاں ہیں جنہوں نے امریکہ کو ایک غیر ضروری جنگ کی دلدل میں پھنسا دیا ہے۔
