امریکی صدر ٹرمپ تڑیاں لگانے کے باوجود کمزور کیوں ہو رہے ہیں؟

نو منتخب امریکی صدر ٹرمپ نے اقتدار سنبھالتے ہی دنیا بھر کے ملکوں کو تڑیاں لگانے کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے، لیکن اپنے اس جارحانہ اور بچگانہ رویے سے وہ نہ صرف خود کمزور ہو رہے ہیں بلکہ امریکہ کا عالمی سپر پاور ہونے کا تاثر بھی خراب کر رہے ہیں۔
معروف لکھاری اور کالم نگار یاسر پیرزادہ روزنامہ جنگ کے لیے اپنی تازہ تحریر میں ان خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ بظاہر ٹرمپ نے پوری دنیا کو ہلا کر رکھ دیا ہے، کینیڈا سے لیکر چین تک اور میکسیکو سے لیکر پانامہ تک، ٹرمپ نے ہر ملک کو کسی نہ کسی وجہ سے ’تڑی‘ لگا دی ہے، مگر سوال یہ ہے کہ کیا اِس حکمتِ عملی سے امریکی طاقت میں اضافہ ہوا ہے؟ اِس میں کوئی شک نہیں کہ امریکہ کی فوجی طاقت کا موازنہ کسی اور ملک سے نہیں کیا جا سکتا مگر یہ تباہی کی طاقت ہے، تعمیری نہیں، جسکا مطلب یہ ہے کہ ٹرمپ کے بچگانہ رویے کی وجہ سے امریکہ کا اثر و رسوخ کم ہوا ہے، ٹرمپ نے جن ممالک پر تجارتی پابندیاں عائد کی ہیں یا اُن پر قبضہ کرنیکی دھمکیاں دی ہیں اُن تمام ممالک نے ترکی بہ ترکی جواب دیا ہے۔ اب یہ ممکن نہیں کہ امریکہ اُن سب ممالک پر حملہ کر کے اُنہیں اپنا حکم ماننے پر مجبور کر دے۔
یاسر پیرزادہ کہتے ہیں کہ ہر طاقت کی کچھ حدود ہوتی ہیں، سپر پاور بھی اِس سے ماورا نہیں، اور اصل طاقت اختیار استعمال کرنے میں نہیں بلکہ اُس اختیار کے خوف سے جنم لیتی ہے، اگر یہ خوف ختم ہو جائے تو طاقت بھی ختم ہو جاتی ہے۔ یہ طاقت کا اصول ہے۔ ٹرمپ سیانا آدمی ہے، اسے بھی یہ اصول جلد سمجھ میں آ جائیگا۔ یاسر کہتے ہیں کہ بھلے وقتوں میں سفارتکاروں کے درمیان ہونیوالی ملاقات کا اعلامیہ جاری کیا جاتا تھا جو سفارتکاری کا ایسا نمونہ ہوتا تھا کہ سمجھ ہی نہیں آتی تھی کہ کون سا ملک کیا پیغام دے رہا ہے۔ دشمن ممالک کے درمیان بھی ملاقاتوں کا اعلامیہ یوں لکھا جاتا تھا کہ بندہ پڑھ کر سوچتا تھا کہ اِس میں باتیں تو تمام بھائی چارے کی لکھی ہیں، دشمنی کہاں تلاش کرنی ہے۔ اِس قسم کے اعلامیوں کو ڈی کوڈ کرنے کیلئے میڈیا پر تجربہ کار اور ریٹائرڈ سفارتکار بلائے جاتے تھے جو اِن پیچیدہ سفارتی بیانات کی تشریح کرکے بتاتے تھے کہ اصل میں فریقین کہنا کیا چاہ رہے ہیں۔
یاسر کہتے ہیں کہ ایسے ہی ایک ملک کا سفیر کسی دوسرے ملک کے دورے پر گیا اور اپنے ہم منصب سے ملاقات کے دوران کہا کہ ’’ہمارے ملک کے عوام آپ سے بے حد محبت کرتے ہیں اور آپ کیساتھ برادرانہ تعلقات چاہتے ہیں!‘‘ دوسرے سفیر کے مترجم نے مختصر کرکے بتایا کہ ’’یہ پوچھ رہے ہیں کہ ہمیں آپ سے کیا فائدہ ہو سکتا ہے؟‘‘ لیکن وہ دن گئے جب خلیل خان فاختہ اڑایا کرتے تھے، اب میرے محبوب قائد ٹرمپ کا دور ہے جس نے ڈپلومیسی اور خارجہ پالیسی کے معنی ہی بدل کر رکھ دیئے ہیں۔ یوکرین کے صدر زی لنسکی سے ہونیوالی حالیہ ملاقات میں ٹرمپ اور اُنکے نائب صدر نے جو کچھ کیا اُسکے بعد سفارتکاری اب وہ نہیں رہی جو ماضی میں ہوا کرتی تھی۔ یہ کلپ شروع سے آخر تک دیکھنے والا ہے، اگر آپ ٹرمپ کے تبصروں پر ہنس ہنس کے دہرے نہ ہو جائیں تو پیسے واپس۔
جس صحافی کا سوال ٹرمپ کو پسند آتا، وہ اُس پر ’I love this guy‘ کہتا اور جو اُسے پسند نہیں آتا تھا اُسکے بارے میں بلا تکلف بول دیتا ہے کہ یہ بیہودہ سوال ہے۔ اِس میڈیا بریفنگ کے دوران زی لنسکی اور ٹرمپ آپس میں چولیں مارتے بھی دکھائی دیتے ہیں، ٹرمپ یوکرین کے صدر، عوام اور فوج کی تعریف بھی کرتا ہے مگر زی لنسکی کی شکل ایسی تھی جیسے کوئی ناراض داماد سُسرال آیا ہو اور اسے سٹیل کے گلاس میں پانی پیش کر دیا گیا ہو۔ بات وہاں سے بِگڑی جب امریکی نائب صدر کے تبصرے پر زی لنسکی نے اُس سے وکیلوں کی طرح جِرح شروع کر دی، یوکرینی صدر نے امریکی نائب صدر کو آپ جناب کہنے کی بجائے جے ڈی کہہ کر یوں مخاطب کیا جیسے وہ اُسکا لنگوٹیا یار ہو۔ جے ڈی بھی ٹرمپ سے دو ہاتھ آگے ہے، اُس نے بھی زی لنسکی کو کھری کھری سنائیں اور صاف کہہ دیا کہ وہ ایک ناشکرا انسان ہے جو امریکہ کا احسان مند ہی نہیں حالانکہ وہ اُسکا سب سے بڑا حمایتی ہے۔
یوکرینی صدر کی رسوائی سے پاکستان کو کیا سبق سیکھنا چاہیے ؟
تاہم دنیا بھر کے میڈیا نے صدر ٹرمپ اور ان کے نائب صدر کی جانب سے یوکرائنی صدر کے ساتھ ہونے والی آن کیمرہ گفتگو کا تجزیہ یہی کیا ہے کہ اس میں یوکرائنی صدر کی کم اور امریکی صدر اور نائب صدر کی زیادہ بے عزتی ہوئی جس کی دعوت انہوں نے خود دی۔
