کپتان کے اقتدار کی کشتی کا سوراخ بھرنا ممکن کیوں نہیں؟

سینیئر صحافی فہد حسین نے کہا ہے کہ وزیراعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد اور اسکے نتیجے میں پارٹی میں ہونے والی ٹوٹ پھوٹ نے ان کے اقتدار کو شدید خطرات سے دوچار کر دیا یے اور
صرف سمجھداری اور دانشمندی ہی تبدیلیوں کی اس خوفناک لہر کا رخ موڑ سکتی ہے
جو وقت کے ساتھ ساتھ بلند ہوتی جارہی ہے۔ انکا کہنا یے کہ یہ مشن مشکل ضرور لیکن ‘مشن امپوسیبل’ قطعی نہیں ہے۔ لیکن بظاہر وزیراعظم کا موجودہ سیاسی بحران میں اپنا عہدہ برقرار رکھنا مشکل نظر آتا ہے۔
فہد حسین نے اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں کہا ہے کہ اپوزیشن کی جانب سے وزیر اعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد جمع کرائے جانے کے بعد تیزی سے بدلتے منظر نے اسلام آباد اور لاہور میں بیک وقت کئی ممکنہ سیاسی تبدیلیوں کو جنم دیا ہے۔ یہ تبدیلیاں اس حوالے سے روزانہ رونما ہونے والے واقعات سے بڑھ کر ہیں۔ اس تمام معاملے کا محور حزب اختلاف کا یہ اعتماد ہے کہ ان کا تیار کردہ ‘گیم پلان’ ناکامی سے دوچار نہیں ہوسکتا، تاہم اس حوالے سے بات ایک بڑے ‘اگر’ پر آکر رک جاتی ہے کیونکہ کھیل تو دونوں اطراف سے کھیلا جاتا ہے اور حکومت کی جانب سے ابھی جواب دینا باقی ہے۔
بقول فہد حسین اس حوالے سے دیکھا جائے تو تحریک عدم اعتماد قسمت کے گھن چکر کی فقط ایک کڑی ہے، جسے آہستگی سے مگر سوچ سمجھ کر اور دانستہ حرکت دینے کا سلسلہ شروع ہو چکا ہے۔ اس عمل کے پیچھے دو بڑی وجوہات خاصے عرصے سے عمل پیرا ہیں۔ ان میں سے پہلی وجہ وزیراعظم کی جانب سے پنجاب اور اسٹیبلشمنٹ کے حوالے سے کی جانے والی ‘مس مینجمنٹ’ ہے۔ ان دونوں وجوہات نے ایک خاص عمل کا مل کر آغاز کر دیا ہے جو اب عروج کی طرف گامزن ہے۔ قومی اسمبلی میں عدم اعتماد کے لیے ابھی اور اس ماہ کے اختتام تک پیش آنے والے واقعات یا تو سیاسی منظر نامے کی نئی اسٹریٹجک صف بندی کی تائید کریں گے یا پھر تحریک عدم اعتماد کی ناکامی کی صورت میں کسی غیر متوقع نتیجہ کی صورت میں برآمد ہوں گے۔
فہد حسین کے مطابق پنجاب کے اندر موجود رنجشوں کو حکمران جماعت کے اندر دراڑ کی صورت میں رونما ہونا ہی تھا۔ کپتان کے دوستوں، اتحادیوں اور بہی خواہوں نے انہیں بار بار اور بارہا کہا اور منت تک کی کہ وزیراعلیٰ کو تبدیل کیا جائے اور صوبے میں تیزی سے پیدا ہوتے سیاسی اور حکومتی بحران پر قابو پایا جائے، لیکن ایسا بالکل نہ ہوا۔ اگر وہ صحیح وقت پر عمل کر گزرتے تو ممکنہ طور پر جہانگیر ترین گروپ نامی کسی گروپ کا وجود نہ ہوتا۔ اور اگر ہوتا بھی تو اس طاقت کی تلاش میں ہی مصروف رہتا کہ جو اس کے پاس آج موجود ہے۔ یہ طاقتور، مضبوط اور جارح گروہ تحریک انصاف کی قیادت کے صحیح وقت پر صحیح فیصلے کرنے میں ناکامی کا براہ راست نتیجہ ہے۔
جن لوگوں کا خیال ہے کہ اس گروہ کو اب ترقیاتی فنڈز یا عہدوں کے ذریعے رام کیا جا سکتا ہے، وہ صورتحال کی مکمل تصویر دیکھنے سے قاصر ہیں۔ وہ اس حوالے سے ہونے والی تصویر کشی کو بھی نہیں دیکھ پا رہے کہ ایمپائر کا غیر جانبدار ہونا یکایک نہیں، بلکہ اس کا سبب جڑواں شہروں کے درمیان لمحہ بہ لمحہ وسیع تر ہوتی خلیج ہے۔ اس صورتحال سے مکمل طور پر بچا جا سکتا تھا۔
فہد کہتے ہیں کہ آج کے تناظر میں نیوٹرل کی اصطلاح سے مراد دونوں جانب سے یہی لی جاتی ہے کہ جو ہونے جا رہا ہے اسے ہونے دیا جائے۔ سیاسی تجزیہ کار کہتے ہیں کہ شاید اسی لیے عمران خان نے فرسٹریشن کا شکار ہوکر نیوٹرل کو ایک جانور سے تشبیہ دے دی ہے جو کسی کی سائیڈ نہیں لے رہا اور اپنی غیر جانبداری پر مصر ہے۔ لہذا اپوزیشن نے تحریک انصاف کے ناراض یا مایوس یا دونوں کیفیات کا شکار ممبران قومی اسمبلی کو ساتھ ملانے کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے۔
یہ وہ لوگ تھے جو اپنا غصہ اور مایوسی طاقتور حلقوں کے دبائو کے پیش نظر ظاہر نہیں کر رہے تھے چنانچہ اب جب ان سے وہ دباو ہٹ گیا ہے تو وہ اپنی قسمت کا فیصلہ خود کرنے جا رہے ہیں۔ گذشتہ چند ہفتے، بلکہ ماہ یوں گذرے کہ ان ارکان نے اپوزیشن کے حوالے سے اپنے اراداے کو عملی میدان میں جانچا اور اس دوران ایک نظر اپنے فون پر رکھی کہ کہیں دوبارہ بج نہ اٹھے۔ لیکن اس مرتبہ جب ان کے فون کی گھنٹیاں نی بجیں تو وہ اتنے پر اعتماد ضرور ہو گئے کہ شجر ممنوعہ کو ذرا سا چکھ لیں۔
پنجاب کے تعلیمی اداروں میں موسم گرما کی تعطیلات کا اعلان
اور یہ پھل انہیں میٹھا معلوم ہو رہا ہے۔ کپتان حکومت کی ناکامی ترین پرفارمنس کے بعد اب پنجاب سے تعلق رکھنے والے رکن قومی اور صوبائی اسمبلی ایک ایسے ٹکٹ کی تلاش میں ہیں جو ان کی کامیابی کی یقینی ضمانت ہو۔ اس انتخاب میں ان طاقت ور حلقوں کا انتخاب بھی شامل تھا جو اس مرتبہ آڑے نہیں آئے۔ یوں معاملہ شدت پکڑنے لگا۔ یہ وہ لمحہ تھا جب حزب اختلاف کے کلیدی رہنمائوں کو اندازہ ہوا کہ وزیراعظم کی زرہ میں ایک ایسی جگہ موجود ہے کہ جس کے آر پار وہ وار کر سکتے ہیں۔
فہد حسین کے بقول پل پل بدلتی سیاسی صورتحال میں حلیفوں کا کردار سب سے زیادہ اہمیت کا حامل ہے لیکن وہ غیر جانبدار نہیں ہیں۔ ریڈ زون کے ذرائع کے مطابق ایم کیو ایم متلاشی نگاہوں سے دور بہت دور اپوزیشن سے مشورہ کرتی رہی۔ ‘باپ’ پارٹی والے بھی بہت گہرے انداز میں اپوزیشن سے تعلق برقرار رکھنے میں کامیاب رہے ہیں۔ مسلم لیگ (ق) کے چوہدری شجاعت کی مولانا فضل الرحمان اور آصف زرداری سے پچھلے دنوں اسلام آباد میں ملاقاتوں کے بعد ق لیگ اب اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے جا رہی ہے۔ لہذا کپتان کا اقتدار بچنا مشکل دکھائی دیتا ہے۔
