بریگیڈیئر اسد منیر کے قتل کے ذمہ دار جسٹس جاوید اقبال کیوں؟

خود پر بنائے گئے نیب کے جھوٹے کرپشن کیس میں ممکنہ گرفتاری اور ذلت سے بچنے کے لیے خودکشی کرنے والے بریگیڈیئر (ر) اسد منیر کی احتساب عدالت سے بریت کے بعد ان کے خاندانی ذرائع نے چیئرمین نیب جسٹس جاوید اقبال کو قاتل قرار دیتے ہوئے انکے خلاف سخت کاروائی کا مطالبہ کیا ہے جن کی منظوری سے ایک جھوٹا ریفرنس بنایا گیا۔
یاد رہے کہ بریگیڈیئر (ر) اسد منیر نے 16 مارچ 2019 کو نیب راولپنڈی کے رویے کیخلاف احتجاجاً ڈپلومیٹک انکلیو میں اپنے فلیٹ میں پھندے سے لٹک کر خودکشی کر لی تھی۔ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کے نام اپنے آخری خط میں اسد منیر نے نیب کو اپنا قاتل قرار دیتے ہوئے بے گناہی کی قسم کھائی تھی جو اب ثابت ہوگئی لیکن افسوس کہ جان دینے کے باوجود چیف جسٹس نے ان کے خط پر کوئی کارروائی نہیں کی۔
بریگیڈئیر اسد منیر کے خلاف نیب ریفرنس کا فیصلہ 2 مارچ 2022 کو احتساب عدالت کے جج محمد اعظم خان نے سنایا۔ اسی کیس میں نامزد ایک اور ملزم حسین کے وکیل عمران شفیق ایڈووکیت نے بتایا کہ عدالت کے جج اعظم خان نے قرار دیا کہ یہ نیب کا کیس بنتا ہی نہیں تھا۔ سینئر صحافی اعزاز سید سے بات کرتے ہوئے عمران شفیق نے بتایا کہ اس کیس میں اسلام آباد ڈویلپمینٹ اتھارٹی اور دیگر ادارے بھی تحقیقات کر چکے مگر کسی کو بریگیڈیئر (ر) اسد منیر مرحوم سمیت کسی ملزم کے خلاف کسی فائدے کے حصول کا کوئی ثبوت نہیں مل سکا۔
عمران شفیق ماضی میں خود بھی نیب پراسیکیوٹر کے طور پر خدمات انجام دیتے رہے ہیں مگر 2019 میں ہی وہ نیب کے ادارے سے پیشہ وارانہ وجوہات کی بنا پر مستعفی ہوگئے تھے۔
یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ نیب راولپنڈی کی طرف سے یہ کیس سال 2018 میں اس وقت میڈیا کی توجہ کا مرکز بنا کہ جب نیب نے وفاقی ترقیاتی ادارے سی ڈی اے کے سابق ممبر پلاننگ بریگیڈیئر (ر) نصرت اللّٰہ، سابق ڈائریکٹر غلام سرور سندھو اور ایک ٹھیکے دار محمد حسین کو گرفتار کیا۔ تب نیب کا مؤقف تھا کہ سال 2008 میں اسلام آباد کے ڈپلومیٹک ایریا میں شٹل سروس کے لیے ان افسران نے ٹھیکہ دار محمد حسین کو ٹھیکہ اور 4، 5 ایکٹر قیمتی قطعہ اراضی الاٹ کر کے کرپشن کی ہے۔
تاہم سی ڈی اے افسران کا مؤقف تھا کہ یہ کرپشن نہیں بلکہ ویزہ حاصل کرنے والے افراد کو سیکیورٹی نکتہ نظر کے عین مطابق ڈپلومیٹک انکلیو میں بھیجنے کے لیے قانون کے مطابق سارا کام کیا گیا ہے۔ اسی دوران نیب راولپنڈی اسی کیس میں چپکے سے سابق چیئرمین سی ڈی اے کامران لاشاری، سابق ممبر پلاننگ بریگیڈیئر (ر) اسد منیر سے بھی پوچھ گچھ کر رہی تھی۔ اسد منیر کو نیب راولپنڈی آفس میں بلا کر گھنٹوں بٹھایا جاتا اور انکی تذلیل کی جاتی۔ اسد منیر خود کسی زمانے میں آئی ایس آئی کے خیبر پختون خواہ کے کمانڈر رہنے کے ساتھ ساتھ فوج میں بھی اہم عہدوں پر رہ چکے تھے، مگر کسی موقع پر بھی انہوں نے اپنے تعلقات یا ماضی کے عہدوں کا رعب نیب افسران پر نہیں جمایا تھا۔
بقول اعزاز سید، نیب نے اسد منیر کا نام ای سی ایل پر بھی ڈال دیا تھا مگر انہوں نے کبھی اس معاملے کا نہ تو اپنے دوستوں سے ذکر کیا اور نہ ہی اپنے سگے ریٹائرڈ کرنل بھائی خالد منیر سے اس پر بات کی تھی۔ اسد منیر کے قریبی ساتھیوں نے بتایا تھا کہ وہ ہمیں ہتھکڑی میں بندھا دیکھ کر بہت پریشان ہوتے تھے۔ ان کی پریشانی تب اور بھی بڑھ جاتی تھی جب ہم سے میڈیا والے کیمروں پر سوال کرتے تھے، وہ ہم سے کہا کرتا تھے کہ ’میں ایسی صورتحال کبھی قبول نہیں کروں گا‘۔ اسد منیر نے 14 مارچ 2019 کی رات 8 بجے اپنے کمپیوٹر پر آخری خط چیف جسٹس سپریم کورٹ کے نام لکھا اور کہا ’میں بے گناہ ہوں اور اپنی جان دے رہا ہوں اس لیے کہ جو رویہ میرے ساتھ اپنایا گیا وہ آئندہ کسی کے ساتھ نہ اپنایا جائے‘۔ 15 مارچ علی الصبح اسد منیر نے موت کو گلے لگالیا۔
اس وقت کے چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے بھی اس معاملے پر کوئی غیر جانبدارانہ تحقیقات کروانے کی بجائے نیب سے رپورٹ طلب کی تھی۔ نیب نے اسد منیر کے ساتھ روا رکھے سلوک کے بارے میں کوئی رپورٹ تیار کی یا نہ کی، اس کا آج تک اسد منیر کے خاندان کو بھی علم نہیں۔ جب اسد منیر کے بھائی کرنل (ر) خالد منیر سے رابطہ کرکے ان کے بھائی کی بریت کے بارے میں سوال کیا گیا تو وہ بولے، ’ میں اس پر کیا کہہ سکتا ہوں، صرف یہی کہوں گا کہ میرا دکھ دوبارہ ہرا ہوگیا ہے‘۔
اس کیس میں سی ڈی اے افسران نصرت اللّٰہ، غلام سرور سندھو، محمد حسین وغیرہ نیب کی طرف سے گرفتار ہوئے مگر کیس کا انجام یہ نکلا کہ نیب راولپنڈی کے تفتیشی ملزمان کیخلاف کسی فائدے کا کوئی ٹھوس ثبوت سامنے نہیں لاسکے تاہم اس سارے معاملے میں گرفتار رہنے والے افسران اور جان تک ہار دینے والے اسد منیر کے گھر والوں پر کیا بیتی اس کا شائد کوئی بھی اندازہ نہ لگا پائے بشمول ان لوگوں کے جنہوں نے یہ کیس گھڑا تھا۔ تاہم اب نیب ریفرنس میں بریت کے بعد اسد منیر کے خاندانی ذرائع یہ مطالبہ کر رہے ہیں کہ ان کے قتل کے الزام میں نیب چیئرمین جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال کے خلاف کارروائی کی جائے۔
Why Justice Javed Iqbal responsible for murder Asad Munir? video
