مریم حکومت عوام کو سموگ کی تباہ کاریوں سے بچانے میں ناکام کیوں؟

سموگ کی وجہ سے پنجاب کے مختلف شہروں میں ماحولیاتی آلودگی کا مسئلہ ایک سنگین بحران کی شکل اختیار کر گیا ہے۔  سموگ کی وجہ سے لاکھوں افراد مختلف بیماریوں کا شکار ہو چکے ہیں جبکہ صوبائی حکومت صرف زبانی جمع خرچ میں مصروف دکھائی دیتی ہے اور سموگ کی صورتحال کے پیش نظر صوبائی دارالحکومت لاہور اور ملتان میں ہیلتھ ایمرجنسی نافذ کردی گئی ہےجبکہ تعلیمی اداروں کی مزید ایک ہفتہ بندش اور ہوٹلز کے اوقات کار کی تبدیلی سمیت متعدد پابندیاں عائد کر دی گئی ہیں تاہم زمینی حقائق یہ ہیں کہ حکومت اپنی ہی عائد کردہ پابندیوں پر عملدرآمد کروانے میں تاحال یکسر ناکام دکھائی دیتی ہے۔ جبکہ دوسری جانب ہر گزرتے دن کے ساتھ سموگ کی شدت میں اضافہ ہوتا نظر آتا ہے۔

پنجاب کے مختلف شہریوں جن میں لاہور اور ملتان سہرفہرست ہیں وہاں رواں ماہ ائیر کوالٹی انڈیکس متعدد مرتبہ ایک ہزار سے اوپر گیا۔

خیال رہے کہ جب یہ نمبر 300 سے اوپر جاتا ہے تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ ماحول چرند پرند و انسانوں کی صحت کے لیے خطرناک ہو گیا ہے۔

 حکام اس ماحولیاتی بحران سے نمٹنے کیلئے بھرپور کوشش کرنے کے دعوے کرتے تو دکھائی دیتے ہیں تاہم عملی اقدامات نہ اٹھانے ہی وجہ سے یہ بحران ہر گزرتے دن کے ساتھ شدت اختیار کرتا جا رہا ہے۔

تاہم یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ پنجاب میں سموگ کی کیا وجوہات ہیں، اس کی روک تھام کے لیے اٹھائے گئے حکومتی اقدامات کیا کافی ہیں اور کچھ شہروں میں فضائی آلودگی ہونے کے باوجود سموگ خطرناک کیوں نہیں بنتی؟

پاکستان کے کنسورشم فار ڈویلپمنٹ پالیسی ریسرچ کے مطابق گندم اگانے کے لیے ہر سال اکتوبر اور جنوری کے درمیان چاول کی فصل کی 85 لاکھ ٹن باقیات میں سے کم از کم 36 لاکھ سے 50 لاکھ ٹن باقیات کو کھیتوں کو صاف کرنے کے لیے جلا دیا جاتا ہے۔

ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں فضائی آلودگی کے اخراج کا 20 فیصد فصلوں کو جلانے سے منسوب ہے جبکہ فضائی آلودگی میں سب سے زیادہ حصہ ٹرانسپورٹ اور ایندھن کے جلنے سے پیدا ہونے والی گیسز کی وجہ سے ہے۔

پاکستان ایئر کوالٹی انیشی ایٹو کے بانی عابد عمر کا کہنا ہے کہ ہوا میں آلودہ گیسز کا اخراج ہمیشہ سے ہے اور رہے گا۔پنجاب حکومت کےسموگ سے نمٹنے کے منصوبے پر تنقید کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’گاڑیوں اور ٹرکوں کی آمد و رفت پر پابندی لگانا یا تُکا لگا کر ان کے اخراج کے نظام کو چیک کرنے سے کچھ نہیں ہو گا۔ کیونکہ لوگ جرمانہ بھر دیتے ہیں یا دوسرے طریقے نکال لیتے ہیں۔ خراب گاڑیوں سے مضر صحت دھوئیں کا اخراج بند نہیں ہوتا۔‘ اس کیلئے جامع اور مربوط حکمت عملی مرتب کرنی ہو گی تاکہ اس مسئلے کا ہمیشہ کیلئے تدارک کیا جا سکے۔

ماہرین کے مطابق ورلڈ بینک جیسے اداروں اور تنظیموں کی جانب سے پنجاب حکومت کو ماحولیاتی آلودگی سے نمٹنے کے لیے لاکھوں ڈالرز کے عطیات دئیے گئے لیکن یہاں ہم کانفرنس اور ورکشاپ کر کے سمجھتے ہیں ہمارا کام ہو گیا۔‘

عابد عمر نے ورلڈ بینک کی جانب سے پنجاب حکومت کو 2018 میں فضائی آلودگی سے نمٹنے کے لیے عطیہ کیے ہوئے فنڈز کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بتایا کہ ’اس میں کہا گیا تھا کہ لاہور میں 30 ایئر کوالٹی مانیٹر نصب کیے جائیں گے۔ تاہم تا حال صرف چار ایسے مانیٹر لگائے گئے ہیں جن میں سے صرف دو درست طور پر کام کر رہے ہیں۔‘

ماہرین کے مطابق حکومت کی جانب سے صرف پابندیاں لگانے یاصنعتیں بند کروانے سے سموگ کا مسئلہ حل نہیں ہو گا بلکہ ان میں استعمال ہونے والا ایندھن بدلنا ہو گا جس کے دیگر متبادل موجود ہیں۔ اس کے علاوہ شمسی توانائی کا بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔‘

سموگ کیوں ہوتی ہے اور کراچی جیسے شہر میں فضائی آلودگی پنجاب سے کم کیسے ہے اس سوال پر روشنی ڈالتے ہوئے ماہرین نے کہا کہ یہ ایک قدرتی عمل ہے جسے ’تھرمل اِنورژن‘ کہتے ہیں۔

اس بارے میں بات کرتے ہوئے انجینیئر ارشد عباسی کہتے ہیں کہ جب درجہ حرارت زیادہ ہوتا ہے تو آلودہ گیسز آسمان میں اوپر کی طرف اڑ جاتی ہیں جبکہ جب درجہ حرارت نیچے گرتا ہے تو یہ گیسز زمین پر ہی رہ جاتی ہیں۔ ’کراچی میں کیونکہ سمندر کی طرف سے ہوا چلتی ہے اور وہاں کا موسم گرم رہتا ہے تو وہاں فضائی آلودگی ہونے کے باوجود سموگ کی سطح اس طرح نہیں ہوتی جیسے پنجاب میں ہوتی ہے۔‘

Back to top button