نریندر مودی عمران سے مباحثہ کیوں نہیں جیت پائیں گے؟

حالیہ دنوں امریکی صدر بائیڈن کی جانب سے ٹیلی پرامپٹر کے ذریے قوم سے خطاب اور عمران خان کی جانب سے بھارتی وزیرا عظم نریندر مودی کو ٹی وی پر لائیو مباحثے کا چیلنج دینے کے بعد سوشل میڈیا پر ٹیلی پرامپٹر ٹرینڈ کر رہا ہے۔

واضح رہے کہ ٹیلی پرامپٹر مشین دراصل نریندر مودی کی چھیڑ ہے کیونکہ وہ فی البدیہہ بولنے کی بجائے ہمیشہ اس مشین کا سہارا لیتے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ نریندر مودی فی البدیہہ بولنے میں مہارت نہیں رکھتے لہذا ٹیلی پرامپٹر مشین کا استعمال کرتے ہیں جو عموما نیوز چینلز میں خبریں سنانے کے لیے نیوز کاسٹرز استعمال کرتے ہیں۔اس مشین کا فائدہ یہ ہے کہ آپ لکھا ہوا مٹیریل آسانی سے پڑھتے چلے جاتے ہیں کیونکہ وہ آپ کی آنکھوں کے سامنے آتا چلا جاتا ہے۔

انڈیا میں اکثر سوشل میڈیا صارفین یہ پوچھ رہے ہیں کہ عمران خان نے نریندر مودی کو مباحثے کا چیلنج تو دے دیا ہے لیکن کیا نریندر مودی ٹیلی پرامپٹر کے بغیر جیت پائیں گے یا نہیں۔ وزیر اعظم عمران خان کی نریندر مودی کو مناظرے کی پیشکش اور ٹیلی پرامپٹر کی بحث اس وقت دو براعظموں میں سوشل میڈیا صارفین کی دلچسپی کا مرکز ہے۔ دراصل گذشتہ روز سے ٹیلی پرامپٹر کے نام سے ایسا ہی ایک ٹرینڈ دنیا کے دو مختلف براعظموں میں صارفین کی دلچسپی کا باعث بنا ہوا ہے۔

اس کی ایک وجہ تو امریکہ کے صدر جو بائیڈن کا روس پر پابندیاں عائد کرنے کے حوالے سے قوم سے خطاب تھا جس کے دوران جو بائیڈن کی نظریں ٹیلی پرامپٹر پر مرکوز رہیں اور وہ انتہائی توجہ سے اپنی تقریر پڑھتے رہے، لیکن انہیں دیکھنے اور سننے والوں نے محسوس کیا کہ جہاں روس کے اقدامات کا ذکر کرتے ہوئے ان کے لہجے میں غصہ چھلکنا چاہیے تھا وہاں وہ دھیمے انداز میں بات کر رہے تھے کیونکہ ان کی تمام تر توجہ ٹیلی پرامپٹر پر تھی۔ ٹیلی پرامپٹر کے زیر بحث آنے کی دوسری وجہ وزیرِ اعظم عمران خان کی جانب سے وزیرِ اعظم نریندر مودی کو دونوں ہمسائیوں کے درمیان مسائل کے حل کے لیے براہ راست مناظرے کی پیشکش کرنا تھی۔

عمران خان نے روسی ٹی وی چینل کو دیے گئے انٹرویو میں انڈین وزیرِ اعظم نریندر مودی سے براہ راست مناظرہ کرنے کی خواہش کا اظہار کیا تھا۔ انھوں نے یہ بات ایسے موقع پر کہی جب وہ روس کے دو روزہ دورے کے لیے ماسکو روانہ ہونے والے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ انڈین وزیرِ اعظم نریندر مودی کے بارے میں مشہور ہے کہ وہ ٹی وی پر مباحثوں سے کتراتے ہیں اور اسی لیے انھوں نے 2014 سے اقتدار میں آنے کے بعد سے کبھی باقاعدہ نیوز کانفرنس نہیں کی۔ ان کے ساتھ رواں برس ٹیلی پرامپٹر سے منسلک ایک دلچسپ واقعہ بھی پیش آ چکا ہے جب انکا ٹیلی پرامپٹر چلنا رک گیا اور انہوں نے بھی تقریر روک دی۔

کیا بڑی عدالتیں نور کے قاتل کی سزا برقرار رکھ پائیں گی

یہی وجہ ہے کہ انڈیا میں اکثر سوشل میڈیا صارفین یہ پوچھ رہے ہیں کہ عمران نے مودی کو پیشکش کر تو دی لیکن کیا مودی ٹیلی پرامپٹر کے بغیر کچھ کر پائیں گے۔ ایسی ہی تنقید امریکی صدر جو بائیڈن پر ہو رہی ہے جن سے ان کے حامی ایک نازک موقع پر ایک مضبوط انداز میں کی گئی تقریر کی امید کر رہے تھے۔ عمران خان نے روسی ٹی وی چینل ’آر ٹی‘ کو دیے گئے انٹرویو کے دوران ایک سوال کے جواب میں کہا کہ وہ اپنے انڈین ہم منصب سے بات چیت کے ذریعے مسائل کا حل چاہیں گے، انھوں نے کہا کہ ’مجھے نریندر مودی کے ساتھ بحث کر کے خوشی ہو گی۔

عمران خان نے کہا کہ یہ برصغیر کی ایک ارب سے زیادہ آبادی کے لیے بہترین بات ہو گی اگر دو ہمسایہ ممالک اپنے اختلافات بات چیت کے ذریعے حل کر سکیں۔ تاہم اس کے بعد ٹیلی پرامپٹر کی بحث شروع ہونے کی وجہ یہ تھی کہ صارفین کو نریندر مودی سے متعلق ایک اور واقعہ یاد آیا جس سے ان کی براہ راست تقریر کرنے سے کترانے کی بارے میں معلوم ہوتا ہے۔

رواں برس جنوری میں انڈین وزیر اعظم نریندر مودی، جنھیں اُن کی جماعت ’عظیم مقرر‘ قرار دیتی ہے، ورلڈ اکنامک فارم سے خطاب کر رہے تھے کہ اچانک اُن کے بولنے کی رفتار مدھم پڑ گئی اور بظاہر ایسا لگا کہ الفاظ نے اُن کا ساتھ دینا چھوڑ دیا ہے۔ مسئلہ یہ ہوا کہ وہ جس ٹیلی پرامپٹر سے دیکھ کر تقریر کر رہے تھے اس میں کوئی فنی خرابی ہو گئی۔ تب بھی ان پر ایک انٹرنیشنل فورم پر تقریر کے دوران خاموش یو جانے پر خاصی تنقید کی گئی۔ یہی وجہ تھی کہ وزیرِ اعظم عمران خان کی پیشکش کے بعد انڈین صارفین کو ٹیلی پرامپٹر کی یاد آ گئی۔

انڈیا اور پاکستان میں جہاں سوشل میڈیا صارفین اس چٹ پٹے مباحثے کا خواب دیکھ کر ہی خاصے محظوظ ہو رہے ہیں وہیں اکثر صارفین اس حوالے سے موجود مشکلات کا بھی ذکر کر رہے ہیں۔ انڈیا میں ایک صارف اشیس باسو نے اس مباحثہ کے بارے میں لکھا کہ یہ تمام مباحثوں کی ماں ہو گی اگر انڈین وزیرِ اعظم ٹیلی پرامپٹر کے بغیر پڑھنا سیکھ لیں تو۔

اس ٹویٹ کے جواب میں ایک صارف نے لکھا کہ ’پاکستان اور انڈیا کے لیے ’مباحثوں کی ماں‘ سے کیا فرق پڑے گا سوائے چند وائرل میمز اور سوشل میڈیا صارفین کے محظوظ ہونے کے علاوہ۔ ایک انڈین صارف بریندر شرما نے لکھا کہ مودی یہ چیلنج قبول نہیں کر سکتے۔ جیسا کہ ہم سب جانتے ہیں مودی ٹیلی پرامپٹر کے بغیر بات نہیں کر سکتے۔ مودی پریس کانفرنس نہیں کر سکتے اور عمران خان نے ان سے مباحثے کا مطالبہ کر دیا ہے۔ ایک اور صارف نے لکھا کہ ’عمران خان نے بھی ہمارے وزیرِ اعظم کے لائیو اور دو طرفہ بات چیت سے کترانے کا مذاق اڑانا شروع کر دیا ہے۔

دوسری جانب سے صدر جو بائیڈن پر تنقید کرتے ہوئے صارف ڈیرک ہنٹر نے لکھا کہ کیا وجہ ہے کہ خارجہ پالیسی کے نام نہاد ماہر کو ٹیلی پرامپٹر کو گھورنا پڑ رہا ہے حالانکہ وہ اس دوران بنیادی باتیں کر رہے ہیں۔ تاہم بحث کو واپس جو بائیڈن کی جانب لیے جاتے ہیں جو اس معاملے پر تنقید کی زد میں ہیں۔ رونی جیکس نے لکھا کہ بائیڈن کا قوم سے خطاب ایک المیے سے کم نہیں تھا۔

ان کی تقریر میں پورے الفاظ بھی نہیں بولے گئے اور وہ ٹیلی پرامٹر سے مشکل سے پڑھ پا رہے تھے۔ ہمیں اوول آفس میں تبدیلی درکار ہے، دنیا تبدیل ہو رہی ہے اور یہ ٹھیک نہیں ہے۔ نک ایڈمز نے لکھا کہ کیا کوئی شخص جو بائیڈن کی ٹیلی پرامپٹر سے پڑھنے میں مدد کر سکتا ہے؟ یہ انتہائی شرمندگی کا باعث ہے۔

Back to top button