پرویز الٰہی کے وزیر اعلیٰ بننے کے امکانات روشن کیوں نہیں؟

پاکستانی سیاست میں موقع پرستی کی علامت سمجھے جانے والے چودھری پرویز الٰہی کی جانب سے اپوزیشن کو آخری لمحات میں دھوکہ دیے جانے کے باوجود نواز لیگ اور پیپلز پارٹی کی قیادت کو پورا یقین ہے کہ وہ مرکز میں عمران مخالف تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کے بعد پنجاب میں اپنا وزیر اعلیٰ بھی بنوانے میں کامیاب ہو جائیں گی اور پرویز الٰہی کو دھول چاٹنا پڑ جائے گی۔

بتایا جا رہا ہے کہ پرویزالٰہی کی جانب سے دھوکہ دئیے جانے کے بعد اپوزیشن نے پنجاب کی وزارت اعلیٰ قابو کرنے کا منصوبہ بنانا شروع کر دیا ہے۔ شریف خاندان تو پہلے بھی گجرات کے چوہدریوں پر بھروسہ کرنے کے لئے تیار نہیں تھا لیکن سابق صدر آصف زرداری نے مرکز میں قاف لیگ کی حمایت حاصل کرنے کے لیے شریف خاندان کو اس بات پر آمادہ کیا تھا کہ پرویز الٰہی کو پنجاب کی وزارت اعلیٰ سونپ دی جائے۔

اس دوران پرویز الہی کی جانب سے بار بار یہی اطلاع ملتی رہی کہ وہ دونوں جانب وزارت اعلی کے حصول کے لیے ڈبل گیم کھیلنے میں مصروف ہیں، لیکن انہیں چند روز پہلے اپوزیشن اتحاد کی جانب سے حتمی طور پر وزیر اعلی بنانے کے حوالے سے آگاہ کردیا گیا تھا کیونکہ پنجاب اسمبلی میں دوسرے نمبر کی اکثریتی جماعت کے سربراہ نواز شریف نے اس فیصلے کی منظوری دے دی تھی۔

لہذا اپوزیشن سے وزارت اعلیٰ کا معاہدہ طے ہو جانے کے بعد اور پنجاب اسمبلی میں عثمان بزدار کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش ہونے کے فوری بعد پرویزالٰہی کا دھوکہ اپوزیشن کے لیے ایک صدمے سے کم نہیں۔ لیکن اب اپوزیشن قیادت کی جانب سے پنجاب کی وزارت اعلی کے امیدوار کا نام طے کرنے کے لیے مشاورت شروع کر دی گئی ہے۔ اپوزیشن ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر تو وزارت اعلی نواز لیگ کو دینے کا فیصلہ ہوا تو حمزہ شہباز وزیراعلی کے امیدوار ہوں گے،

چودھری شجاعت کی پارٹی ، خاندان میں اختلافات کی تردید

لیکن چونکہ پی ٹی آئی کے ناراض دھڑوں کو ساتھ ملائے بغیر پنجاب اسمبلی میں اکثریت حاصل کرنا ممکن نہیں، لہذا اس بات کا بھی امکان ہے کہ علیم خان کو پرویز الہی کے مقابلے میں وزارت اعلی کا امیدوار بنا دیا جائے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پنجاب میں وزارت اعلی کے عہدے پر تبدیلی کے معاملے میں ترین گروپ اور علیم گروپ فیصلہ کن اہمیت اختیار کر گئے، علیم خان نے اپنے گروپ کے 10 ممبران پنجاب اسمبلی سے مشاورت شروع کر دی ہے۔

اسکے علاوہ علیم خان نے پنجاب اسمبلی میں 14 ناراض پی ٹی آئی ارکان پر مشتمل ہم خیال گروپ سے بھی رابطے کرلیے ہیں، دوسری جانب یہ اطلاع ہے کہ ترین گروپ کے 10 سے زائد اراکین پنجاب اسمبلی نے پہلے ہی مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کے ساتھ مستقبل کا انتخابی الحاق کر لیا ہے اور وہ اپوزیشن کیمپ میں جاچکے ہیں۔ علیم گروپ کے ذرائع کا کہنا ہے کہ انکے لیے حکومتی امیدوار کے طور پر پرویز الہی کو ووٹ دینا ممکن نہیں ہو گا۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ترین گروپ کے 18 اور علیم گروپ کے 10 سے زائد اراکین پنجاب اسمبلی نئے وزیر اعلی کے انتخاب میں ٹرمپ کارڈ بن گئے ہیں۔

حکومتی امیدوار ہو یا اپوزیشن کا امیدوار، ان دو گروپس کی حمایت کے بغیر کسی کا بھی وزیراعلی بنا ممکن نہیں، بتایا جاتا ہے کہ ترین گروپ کے 18 میں سے اکثریت اراکین پنجاب اسمبلی اور قومی اسمبلی کئی روز پہلے اپوزیشن کیمپ کو جوائن کر چکے ہیں جس کی تصدیق ترین گروپ کے ترجمان ایم پی اے سلمان نعیم کر چکے ہیں۔ ذرائع کے مطابق ترین گروپ کے دس سے زیادہ ایم پی ایز کے آئندہ کی انتخابی سیاست کے حوالے سے اپوزیشن سے معاملات طے پاچکے اور اکثریت نے مسلم لیگ ن کا انتخاب کر لیا ہے۔

ایسے میں پرویزالہی کو ترین گروپ کے تمام ایم پی ایز کے ووٹ ملنا کسی صورت ممکن نہیں، لہذا عمران کی جانب سے امیدوار بنائے جانے کے باوجود انکے لیے وزیر اعلی بننا آسان نہیں ہو گا اور اس بات کا قوی امکان موجود ہے کہ پرویز الٰہی کا یہ سیاسی جوا ناکام ہو جائے۔

Why prospects of Pervez Elahi becoming CM are not bright? ] Video

Back to top button