بجلی اور پٹرول پر ریلیف عوام کو مہنگی کیوں پڑنے والی ہے؟

کپتان حکومت کی جانب سے ملک کو تاریخی مہنگائی کا تحفہ دینے کے بعد

اب پٹرول اور بجلی کی قیمتوں میں کمی کر کے عوام کو نام نہاد ریلیف کا لالی پاپ تو دیا جا رہا ہے،

تاہم حقیقت یہ ہے کہ انہیں ماموں بنایا جا رہا ہے کیونکہ اس ریلیف کی مد میں پیسہ اکٹھا کرنے کے لیے ان پر مزید ٹیکس لگائے جانے کا منصوبہ بنایا جا رہا ہے۔
معاشی ماہرین نے بجلی اور پٹرول کی قیمتوں پر دیئے جانے والا نام نہاد ریلیف کو آئی ایم ایف پیکج کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے خدشے کا اظہار کیا ہے کہ اس طرح کے نمائشی اقدامات سے ایک تو آئی ایم ایف ناراض ہوگا اور دوسرا حکومت بجلی اور پیٹرول کی سبسڈی کا خسارا پورا کرنے کے لیے عوام پر نئے ٹیکسز لگائے گی جس سے مہنگائی اور بڑھے گی اور معاشی صورت حال مزید خراب ہو جائے گی۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ پیٹرول کی قیمت میں بارہ روپے فی لیٹر اضافے کے بعد دس روپے فی لیٹر کمی اور بجلی کی قیمت میں نو روپے فی یونٹ اضافے کے بعد پانچ روپے فی یونٹ کمی کا لالی پاپ دینا دراصل عوام کو ماموں بنانے کی ایک بھونڈی کوشش ہے۔ انکے خیال میں وزیراعظم عمران خان اقتدار ہاتھ سے جاتا دیکھ کر خود کو دردمند رہنما ثابت کرنے کے لیے اس طرح کے کھوکھلے اقدامات کر رہے ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ ان کے دور میں لئے گئے قرض آنے والی حکومت اتارے گی اس لیے اب عوام کی حمایت کرنے کی حاصل کرنے کے لئے وہ ایسے نمائشی اقدامات کرنے پر اتر آئے ہیں حالانکہ لوگ جانتے ہیں کہ انہیں ریلیف نہیں دی جا رہی بلکہ ان کے ساتھ واردات ڈالی جا رہی ہے۔
واضح رہے کہ وزیرِ اعظم نے 28 فروری کو قوم سے خطاب میں پیٹرول کی فی لٹر قیمت میں 10روپے جب کہ بجلی کی فی یونٹ قیمت میں پانچ روپےکمی کا اعلان کیا۔ لیکن معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ آئندہ بجٹ تک یہ سبسڈی برقرار رکھنا حکومت کے لیے آسان نہیں ہو گا۔ خیال رہے کہ وزیرِ اعظم کا یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب روس، یوکرین تنازع کی وجہ سے عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں مزید اضافے کا اندیشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔حکومت کی جانب سے جاری نوٹی فکیشن میں کہا گیا ہے کہ تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے باوجود وزیر ِاعظم نے نہ صرف آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی کی جانب سے 10 روپے اضافے کی سمری مسترد کی، بلکہ محدود مالی وسائل کے باوجود اس کے ساتھ ہی پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں10 روپے تک مزید کمی کرنے کا بھی حکم دیا ہے۔ حکومت کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس سے قبل بھی وہ صارفین پر اس کا بوجھ کم کرنے کے لیے 70 ارب روپے ماہانہ خرچ کر رہی تھی۔ لیکن اس فیصلے پر حیرانی صرف شہریوں ہی کو نہیں بلکہ معاشی ماہرین کو بھی ہو رہی ہے اور وہ بھی اس فیصلے کے پیچھے کوئی معاشی منطق تلاش کرتے نظر آ رہے ہیں۔
معاشی ماہر اور تجزیہ کار فہد رؤف کے خیال میں پیٹرول کی قیمت میں 10 روپے فی لٹر کمی کرنے سے حکومتی محصولات میں 10 ارب روپے ماہانہ کمی ہو گی۔ اسی طرح ڈیزل کی قیمتوں میں بھی 10 روپے کمی سے آٹھ ارب روپے ماہانہ کمی ہو گی۔ بجلی کی قیمت پانچ روپے فی یونٹ کم کرنے سے حکومت کو 42 ارب روپے ماہانہ کے خسارے کا سامنا ہو گا۔ یوں کُل ملا کر یہ کوئی 60 ارب روپے ماہانہ کی رقم بنتی ہے اور چار ماہ میں یہ رقم 240 ارب روپے کے ارد گرد پہنچتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس ریلیف سے جہاں پاکستانی روپے پر دباؤ مزید بڑھے گا وہیں آئی ایم ایف کا پروگرام بھی ڈی ریل ہوسکتا ہے جس کے تحت پاکستان کو ابھی ایک ارب ڈالرز مزید ملنا ہے۔
معاشی ماہرین کے مطابق حکومت کے اس اقدام کو سمجھنے سے پہلے یہ جاننا ضروری ہے سیاست اور معیشت کئی لحاظ سے ایک دوسرے سے ملی ہوئی ہیں۔ ان کے خیال میں اس فیصلے میں معاشی پہلو کے بجائے سیاسی مصلحت زیادہ نظر آتی ہے۔ کیونکہ اس وقت حکومت کو مہنگائی کی وجہ سے کافی سخت نکتہ چینی کا سامنا ہے۔ اور حکومت نے ایسے کئی وعدے کر رکھے تھے جنہیں پورا کرنا ممکن دکھائی نہیں دیتا کیونکہ حکومت کے پاس وسائل نہیں ہیں کہ وہ لوگوں کو ریلیف دے سکے۔ ماہر معیشت اسد شاہ کہتے ہیں کہ ایک جانب آئی ایم ایف پروگرام کے ذریعے مالی خسارے کو کم کیا جارہا ہے تو دوسری جانب حکومت 250 ارب روپے کے لگ بھگ ریلیف فراہم کررہی ہے۔ یہ براہ راست آئی ایم ایف کے پروگرام سے متصادم ہے۔
حکومت کے اس عمل سے ملک کا مالی خسارہ اور توانائی کے شعبے میں گردشی قرضہ کم ہونے کے بجائے مزید بڑھے گا۔ آئی ایم ایف نے تجویز کیا تھا کہ وہ اجناس پر سب کو سبسڈی دینے کے بجائے انتہائی غریب افراد کو براہ راست سبسڈی دے۔ جس کا ڈیٹا احساس پروگرام کے تحت حکومت کو باآسانی دستیاب ہے۔ ان کے خیال میں اگر یہ طریقۂ کار اپنایا جاتا تو یہ آئی ایم ایف کو بھی قابل قبول ہوتا۔ اسد علی شاہ کا کہنا تھا کہ انہیں نہیں معلوم کہ اب آئی ایم کے پرگرام کا کیا مستقبل ہوگا اور یہ حکومت نے بڑا رسک لیا ہے۔ یہ پروگرام فروری سے معطل رہنے کے بعد ابھی چند ہفتے قبل ہی بڑی مشکل سے بحال ہوا ہے۔ لہذا بجلی اور پٹرول کی قیمتوں میں کمی کے بعد اس بات کا قوی امکان ہے کہ حکومت مذید ٹیکس لگائے گی تاکہ اپنا خسارہ پورا کر سکے۔

Why relief on electricity and petrol going to cost people dearly? video

Back to top button