پاکستان کے لیے روس امریکہ کا متبادل کیوں نہیں ہے؟

امریکہ میں برسراقتدار آنے کے بعد جوبائیڈن انتظامیہ نے جس سنگدلانہ طریقے سے پی ٹی آئی حکومت کو فارغ کیا ہے اسکے بعد وزیر اعظم عمران خان نے یہی مناسب سمجھا کہ وہ چین اور روس سے خارجہ تعلقات بڑھانے کی کوشش کریں تاکہ امریکہ کی کمی دور کی جا سکے۔ اسی لئے چین کے دورے کے بعد اب وہ روس کے دورے پر روانہ ہوگئے۔ تاہم اسلام آباد میں سفارتی حلقوں کا کہنا ہے کہ روس اور جین کسی بھی صورت پاکستان کے لیے امریکہ کا متبادل ثابت نہیں ہو سکتے لہذا وزیراعظم کے دوروں سے کوئی خاص امید نہیں باندھنی چاہیے۔
وزیراعظم عمران خان روس کے صدر ولادیمیر پوتن کے دعوت پر 23 اور 24 فروری کو ماسکو کا دو روزہ دورہ کر رہے ہیں جو کہ 23 برسوں میں کسی پاکستانی صدر یا وزیراعظم کا روس کا پہلا دورہ ہے۔ تاہم موجودہ عالمی اور علاقائی حالات کے تناظر میں اس دورے کی ٹائمنگ کو نامناسب قرار دیا جا رہا ہے۔
وجہ یہ ہے کہ اسوقت مغربی ممالک اور روس کے مابین یوکرین کے ایشو پر کشیدگی بظاہر بلند ترین سطح پر ہے اور اس میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ دوسری جانب پاکستانی اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے وزیر اعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانے کے اعلان کے بعد اندرون ملک بھی سیاسی حالات کشیدہ ہیں۔ یوں یہ دورہ غیر معمولی حالات میں ہو رہا ہے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بظاہر وزیراعظم عمران خان کے اس دورے سے پاکستان کو کوئی فائدہ حاصل ہونے والا نہیں ہے سوائے اسکے کہ امریکہ کو معلوم ہو جائے کہ اسلام آباد کے پاس دوسری کے لیے اور آپشنز بھی موجود ہیں۔ تاہم یہ حقیقت بھی پیش نظر رکھنی چاہیے کہ امریکہ کو دنیا کی سب سے بڑی سپر پاور کے علاوہ سب سے بڑی جمہوریت بھی سمجھا جاتا ہے جب کہ صدر ولادیمیر پوتن بھی عمران خان کی طرح ایک مطلق العنان حکمران سمجھے جاتے ہیں۔
سیاسی تجزیہ کار کہتے ہیں کہ رُوس اور امریکا، دونوں ہی دُنیا کے نہایت طاقتور ممالک ہیں۔ سرد جنگ کے ایام میں دونوں کا پلڑا برابر رہا۔ تب پاکستان کا وزن امریکی پلڑے میں رہا جس کی وجہ سے اسے کئی نقصانات بھی اُٹھانا پڑے۔ امریکا کی جانب پاکستان کے واضح جھکاؤ کا فائدہ بھارت نے اُٹھایا۔ رُوس اور بھارت نے ایک دوسرے کا ہاتھ تھام کر متحدہ پاکستان کو شکست و ریخت سے دوچار کر دیا۔ کہا جاتا ہے کہ پاکستان کے دولخت کرنے میں رُوس اور بھارت کا یکساں کردار تھا۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ اگر تشکیلِ پاکستان کے فوراً بعد پہلے وزیر اعظم لیاقت علی خان، ماسکو کا دَورہ کرنے کے بجائے واشنگٹن نہ جاتے تو بعد ازاں رُوسیوں کا پاکستان کے خلاف رویہ اسقدر معاندانہ کبھی نہ ہوتا ۔
آصف زرداری نے شہباز شریف کو وزیراعظم کا امیدوار قرار دیدیا
اگر بریگیڈیئر (ر) اے آئی ترمذی کی مشہور کتاب Profiles of Intelligence پڑھی جائے تو پتہ چلتا ہے کہ سرد جنگ کے ایام میں اسلام آباد میں رُوسی خفیہ ایجنسیاں پاکستان کے خلاف کیا گُل کھلاتی رہی ہیں۔ ایک وقت ایسا بھی آیا کہ امریکی خوشنودی کی خاطر پاکستان میں ریاستی سرپرستی میں رُوس اور رُوسی کمیونزم کی سخت مخالفت کی جاتی تھی۔ رُوسی جامعات سے اعلیٰ اور پیشہ ورانہ تعلیم حاصل کرکے واپس پاکستان آنے والے پاکستانی طالب علموں کو مشتبہ نظروں سے دیکھا جاتا تھا۔
تاہم جس امریکہ کی خاطر پاکستان نے یہ سب کچھ کیا وہ افغانستان سے اتحادی فوجوں کے انخلاء کے بعد اسلام آباد سے دوری اختیار کر چکا ہے۔ اس لحاظ سے وزیراعظم کے دورہ روس کو خارجہ تعلقات کی سمت میں بڑی تبدیلی کی علامت کے طور پر بھی دیکھا جا رہا ہے۔ پاکستانی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ عمران خان کا دورہ روس ایک اشارہ ہے کہ اسلام آباد اب کسی ایک ملک سے جڑنے کی پالیسی ترک کرتے ہوئے کثیر ملکی پالیسی میں دلچسپی رکھتا ہے۔ پاکستان اپنے خطے کی بڑی طاقتوں سے اس امید پر تعلقات کو بڑھانا چاہتا ہے کہ تجارت اور توانائی کی راہداری کے طور پر اپنی صلاحیتوں کا استعمال کرتے ہوئے اپنی معیشت میں بہتری لا سکے۔
تاہم عمران خان کا دورہ ماسکو ایک ایسے موقع پر کیا جا رہا ہے جب مغربی ممالک اور روس کے درمیان یوکرین کے معاملے پر کشیدگی میں اضافہ ہو رہا ہے۔ مبصرین کا خیال ہے کہ اس سے یہ اشارہ بھی جا سکتا ہے کہ پاکستان امریکہ مخالف اور مغرب مخالف اتحاد کا حصہ بننے کی کوشش کر رہا ہے۔ دوسری جانب پاکستان کے یوکرین کے ساتھ بھی اچھے تعلقات ہیں اور اس دورے کے باعث پاکستان اور یوکرین کے تعلقات کو بھی دھچکا پہنچ سکتا ہے۔ اسلام آباد انسٹیٹیوٹ آف سٹریٹجک سٹڈیز سے منسلک روسی امور کے ماہر تیمور خان کا ماننا ہے کہ پاکستان نے اس دورے کے اعلان سے قبل ضرور اپنے اتحادیوں کو اعتماد میں لیا ہو گا۔
وہ کہتے ہیں کہ ’لیکن پھر بھی یہ دورہ خاصے نازک وقت میں کیا جا رہا ہے جب روس کی تمام تر توجہ اور وسائل یوکرین تنازع پر مرکوز ہیں، یہ اس دورے کے لیے کوئی بہترین وقت تو نہیں ہے اور اس کے باعث پاکستان کو جتنی میڈیا کی توجہ کی توقع ہے وہ انہیں نہیں مل پائے گی۔‘ ان کا کہنا تھا کہ ’حالانکہ یہ دورہ یہ ثابت کرتا ہے کہ پاکستان اپنی خارجہ پالیسی میں تنوع لانے کی کوشش کر رہا ہے اور وہ کسی ایک کیمپ کی حمایت نہیں کرنا چاہتا، جیسے ماضی میں دیکھنے میں آیا ہے، اس دورے کی ٹائمنگ ایسی ہے کہ اس سے ممکنہ طور پر غلط اشارے بھی جا سکتے ہیں۔‘
دودری جانب سیاسی تجزیہ کار ڈاکٹر حسن عسکری رضوی کے مطابق ’پاکستان اور روس کے مابین تعاون کبھی اس درجے کا نہیں ہو گا جو پاکستان کا امریکہ اور چین کے ساتھ ہے لیکن اس کے باوجود وزیر اعظم کا روس کا دورہ تعلقات میں بہتری کے عمل کو شروع کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔‘ یہ دورہ ایسے موقع پر ہو رہا ہے جب روسی افواج یوکرین کی سرحد پر تعینات ہیں اور مغربی ممالک کے روس کے ساتھ تعلقات انتہائی کشیدہ ہیں. جہاں پاکستان کی کوشش ہے کہ وہ روس سے بہتر معاشی شراکت داری قائم کرے، ماسکو کی دلچسپی اسلام آباد سے سکیورٹی تعلقات قائم کرنے میں ہے۔
روسی امور کے ماہر تیمور خان کے مطابق جب روسی صدر ولادیمیر پوتن نے سنہ 2014 میں پاکستان پر عائد یکطرفہ پابندیوں کو ختم کیا تو اس سے دونوں ملکوں کو قریب آنے میں مدد ملی۔ ماضی کے حریفوں نے ایک دفاعی معاہدے پر دستخط کیے جس کے بعد روس نے چار روسی ساختہ ایم ائی 35 ایم جنگی ہیلی کاپٹر پاکستان کو فروخت کرنے کا معاہدہ کیا۔ اس کے بعد سے دونوں ملکوں کے درمیان دفاعی تعاون میں اضافہ ہوا ہے۔ امریکہ اور نیٹو کی افغانستان سے روانگی کے بعد دونوں ملک مزید قریب آئے ہیں۔
تیمور خان سمجھتے ہیں کہ پاکستان روس اور چین کے مابین ایک پُل کا کردار ادا کر سکتا ہے۔ 2018 میں پاکستان اور روس کے مابین مشترکہ فوجی مشاورتی کمیٹی کا قیام عمل میں لایا گیا تھا جس کے تحت پہلی بار پاکستان کے فوجی افسران کی روس میں فوجی تربیت کے دروازے کھلے تھے دونوں ملکوں نے انسداد دہشتگردی کی حوالے سے کئی مشترکہ مشقیں کی ہیں جن میں پاکستانی فوج کے سپیشل سروسز گروپ نے حصہ لیا ہے۔
روس کی بیرونی انٹیلیجنس ایجنسی کے سربراہ نے چند ماہ پہلے خطے کے ممالک کے انٹیلیجنس سربراہان کے اجلاس میں شرکت کے لیے پاکستان کا دورہ کیا تھا۔ اب جب امریکہ کی جانب سے پاکستان کی امداد میں کمی ہو رہی ہے تو ماہرین سمجھتے ہیں کہ مستقبل میں پاکستان روس سے اسلحہ خرید سکتا ہے جو امریکہ کے مقابلے میں سستا اور معیار میں چینی اسلحے سے بہتر ہے۔
ڈاکٹر حسن رضوی سمجھتے ہیں کہ واشنگٹن اور اسلام آباد کے تعلقات میں تناؤ اور بداعتمادی نے ایک ایسا خلا پیدا کیا جسے بیجنگ نے پُر کیا ہے اور اب روس بھی اس خلا کو پُر کرنے کے لیے آگے بڑھ رہا ہے۔ ’پاکستان اور روس نے اعتماد سازی کے لیے کچھ چھوٹے اقدامات کیے ہیں لیکن اس کے علاوہ ابھی تک دونوں ملکوں کے درمیان تعاون میں کوئی بڑی پیش رفت نہیں ہوئی ہے۔ لہذا وزیراعظم عمران خان کا دورہ روس علامتی طور پر تو اہمیت کا حامل ہے لیکن عملی طور پر اس سے کوئی فوائد حاصل ہونے کا امکان نہیں ہے۔
