پاکستان کو غزہ فوج بھیجنے سے پہلے 100 بار سوچنا کیوں چاہیے؟

 

 

امریکہ میں پاکستان کی سابق سفیر ڈاکٹر ملیحہ لودھی نے خبردار کیا ہے کہ پاکستان کی جانب سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے غزہ امن منصوبے کے تحت مجوزہ انٹرنیشنل فورس میں فوجی دستے بھیجنے کا فیصلہ نہایت حساس، پرخطر اور قومی مفادات سے جڑا ہوا معاملہ ہے، جس پر انتہائی احتیاط کے ساتھ غور کیا جانا چاہیے۔

 

انگریزی روزنامہ ڈان میں سیاسی تجزیے میں ڈاکٹر ملیحہ لودھی کا کہنا ہے کہ پاکستان میں اس حوالے سے عوامی سطح پر سوالات اور خدشات بڑھ رہے ہیں کہ آیا غزہ میں تعینات کی جانے والی مجوزہ کثیر القومی فورس میں شمولیت دانشمندانہ فیصلہ ہوگا یا نہیں۔ یہ فورس امریکی قیادت میں ایک امریکی جنرل کے ماتحت کام کرے گی اور ٹرمپ امن منصوبے کا اہم جزو سمجھی جاتی ہے، تاہم اس کی کامیابی کا انحصار حماس کی رضامندی پر ہے، جو تاحال حاصل نہیں ہو سکی۔ ملیحہ  لودھی کے مطابق حکومتِ پاکستان نے امریکہ کو آگاہ کیا ہے کہ وہ آئی ایس ایف میں شمولیت پر غور کر رہی ہے لیکن حتمی فیصلہ ابھی نہیں کیا گیا۔

 

یاد رہے کہ گزشتہ ماہ وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا تھا کہ پاکستان اس فورس میں حصہ ڈالنے کے لیے تیار ہے، تاہم حماس کو غیر مسلح کرنا پاکستان کی ذمہ داری نہیں ہوگی۔ انہوں نے یہ بھی واضح کیا تھا کہ فورس کے مینڈیٹ اور شرائط طے ہونے کے بعد ہی حتمی فیصلہ کیا جائے گا۔ پاکستان گزشتہ کئی ماہ سے امریکہ کے ساتھ فورس کے مینڈیٹ، کمانڈ سٹرکچر اور دیگر امور پر بات چیت کر رہا ہے۔ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے بھی اس کی تصدیق کی ہے، تاہم ان کے مطابق تاحال کئی بنیادی معاملات زیر بحث ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ دیگر مسلم ممالک، جو ابتدا میں اس فورس میں دلچسپی رکھتے تھے، اب محتاط رویہ اختیار کر رہے ہیں اور کسی نے بھی فوجی دستے دینے کا اعلان نہیں کیا۔

 

ڈاکٹر ملیحہ لودھی نے نشاندہی کی کہ 16 دسمبر کو دوحہ میں امریکی سینٹرل کمانڈ کے زیر اہتمام ہونے والی کانفرنس میں بھی انٹرنیشنل فورس کے مینڈیٹ پر اتفاق رائے نہیں ہو سکا۔ ان کے مطابق اگر اس فورس کا کردار حماس یا دیگر فلسطینی مزاحمتی گروہوں کو بزور طاقت غیر مسلح کرنا ہوا تو بیشتر مسلم ممالک اس میں شامل نہیں ہوں گے۔ سابق سفیر کے مطابق غزہ کی موجودہ صورت حال اور ٹرمپ امن منصوبے کا دوسرا مرحلہ شدید رکاوٹوں کا شکار ہے۔ اسرائیل اور حماس کے درمیان اختلافات برقرار ہیں جبکہ امریکہ اور اسرائیل کے درمیان بھی تناؤ پایا جاتا ہے۔

 

اسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو کو صدر ٹرمپ کی جانب سے 29 دسمبر کو ملاقات کی دعوت دی گئی ہے، جس کے نتائج امن عمل کے مستقبل پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔ ادھر غزہ میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی حملے جاری ہیں اور اکتوبر سے اب تک 400 سے زائد فلسطینی جاں بحق ہو چکے ہیں۔ اسرائیل کی جانب سے مکمل انخلا سے انکار کی صورت میں حماس کے غیر مسلح ہونے کا امکان بھی نہیں، جس سے آئی ایس ایف کی تعیناتی مزید پیچیدہ ہو جاتی ہے۔ ڈاکٹر لودھی کے مطابق امن فورس نہ تو اقوام متحدہ کی روایتی امن فوج ہوگی اور نہ ہی مکمل طور پر غیر جانبدار۔ اسے امن نافذ کرنے کی ذمہ داریاں سونپی جائیں گی اور اسرائیل کے ساتھ قریبی تعاون کرنا ہوگا، جبکہ فورس میں شامل ممالک کے انتخاب میں بھی اسرائیل کا کردار ہوگا۔ حماس پہلے ہی ایسے کسی بھی بین الاقوامی فورس کو مسترد کر چکی ہے جو اقوام متحدہ کی نگرانی کے بغیر یا مزاحمتی گروہوں کو غیر مسلح کرنے کے لیے تعینات کی جائے۔ انہوں نے زور دیا کہ اگر امن فورس کا مینڈیٹ حماس کے خلاف کارروائی کرنا ہوا تو پاکستان کو اس میں شمولیت سے گریز کرنا چاہیے، کیونکہ یوں پاکستانی فوج کو براہ راست فلسطینیوں کے ساتھ تصادم کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، جسکے سنگین سیاسی اور عوامی نتائج ہوں گے۔

تحریک انصاف کااگلے6ماہ سڑکوں پرنکلناممکن کیوں نہیں؟

ڈاکٹر ملیحہ لودھی نے خبردار کیا کہ اسرائیل کے ساتھ عملی تعاون بالواسطہ طور پر اسرائیل کو تسلیم کرنے اور ابراہیم معاہدوں کی جانب قدم بڑھانے کے مترادف ہوگا، جو فلسطینی ریاست کے قیام کے بغیر پاکستان کی دیرینہ پالیسی کے منافی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک غیر واضح اور متنازع امن منصوبے کے تحت پاکستانی فوجیوں کو خطرے میں ڈالنا قومی مفاد کے خلاف ہو سکتا ہے، اس لیے فیصلہ کرتے وقت پاکستان کے قومی مفادات کو مقدم رکھا جانا چاہیے۔

Back to top button