حکومت کو عمران کی مذاکرات کی پیشکش کیوں نہیں ٹھکرانی چاہیے ؟

معروف اینکر پرسن اور تجزیہ کار سلیم صافی نے کہا ہے کہ اگر تحریک انصاف کے بانی عمران خان واقعی سچے دل کے ساتھ حکومت سے مذاکرات کرنا چاہتے ہیں تو حکمرانوں کو خان کی یہ خواہش دھتکارنے کی بجائے صلہ رحمی سے کام لیتے ہوئے ان کے ساتھ مذاکرات کرنے چاہیے تاکہ ملک آگے بڑھ سکے۔
یاد رہے کہ ماضی میں صرف فوجی اسٹیبلشمنٹ سے مذاکرات پر اصرار کرنے والے عمران خان اب حکومت سے مذاکرات پر بھی آمادہ ہیں لیکن حکومت کا یہ موقف ہے کہ کسی این آر او پر مذاکرات نہیں ہوں گے۔ حکومت کا اصرار ہے کہ سانحہ 9 مئی کے ذمہ داروں کو این آر او نہیں دیا جا سکتا اور ان کا قانون کے مطابق مکمل احتساب ہو گا۔
اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں سلیم صافی کہتے ہیں کہ عمران خان کی مذاکرات کی خواہش کو دھتکارنے کی بجائے حکومت اپنے کمزور ہو جانے والے حریف کے بارے میں صلہ رحمی سے کام لے۔ انکے مطابق حکومت کے بعض وزرا کے بیانات دیکھ کر لگتا ہے کہ وہ جان گے ہیں کہ عمران خان اب کمزور پوزیشن میں آ گئے ہیں۔ انہوں نے حکومت کے خلاف احتجاج کے سارے آپشن آزما لیے اور سب ناکام رہے۔ ایک آخری آپشن سول نافرمانی کا بچا ہے جس کا اعلان کرنے کے باوجود عمران خان اس پر عمل درآمد سے گھبرا رہے ہیں چونکہ انہیں ایک بار پھر ناکامی کا خدشہ ہے۔ اس لئے حکومتی وزرا کا لہجہ بھی سخت ہوگیا ہے۔ یہ لوگ دلیل دیتے ہیں کہ عمران خان نے اپنے دور میں ہمارے ساتھ بہت کچھ برا کیا۔ انکا کہنا ہے کہ ہمیں بے گناہ جیلوں میں ڈالا گیا۔ اسکے باوجود بطور اپوزیشن لیڈر شہباز شریف انہیں دعوت دیتے رہے کہ آئیے، میثاق معیشت کرتے ہیں، لیکن عمران ان سے ہاتھ ملانے کو تیار نہ تھے۔
سلیم صافی یاد دلاتے ہیں کہ جب اپوزیشن مذاکرات کی بات کرتی تو وزیراعظم عمران خان اور اور ان کے وزرا طعنہ دیتے کہ وہ این آر او مانگ رہے ہیں۔ اس لئے وہ بھی اب عمران خان سے بات چیت کرنے سے انکاری ہیں اور انہیں این ار او نہیں دینا چاہتے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ عمران خان سے مذاکرات کے لیے یہ مناسب وقت نہیں۔ لیکن میری ناقص رائے کے مطابق مذاکرات کے لئے سب سے مناسب وقت یہی ہے۔
بقول سلیم صافی، پہلی بات تو یہ ہے کہ اگر مسلم لیگ (ن) کے کچھ رہنمائوں کے ساتھ زیادتی ہوگئی تھی اور وہ جیلوں میں ڈالے گئے تھے تو اب تحریک انصاف کے رہنمائوں کے ساتھ بھی ایسا ہوگیا ہے۔ ان کے لیڈر نواز شریف، شہباز شریف، حمزہ شہباز اور مریم نواز نے جیل کاٹی تو عمران اور ان کی اہلیہ بھی اس مرحلے سے گزرے۔ حکومتی وزرا کے زعم کی دوسری وجہ یہ ہے کہ معیشت کے کچھ اشاریے بہتر ہوگئے ہیں لیکن معیشت کے کچھ اشاریوں کے بہتر ہونے کا یہ مطلب نہیں کہ ملک معاشی طورپر مستحکم ہوگیا ہے بلکہ اب بھی کافی چیلنجز درپیش ہیں۔ بجلی کے بل اب بھی لوگوں کی قوت ادائیگی سے زیادہ ہیں۔ بے روزگاری اب بھی زوروں پر ہے ۔ برین ڈرین کا سلسلہ اب بھی جاری ہے ۔ لیکن سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ خود حکمران بھی یہ مانتے ہیں کہ سیاسی استحکام کے بغیر معاشی استحکام نہیں آسکتا اور ظاہر ہے کہ سیاسی استحکام کے لئے مذاکرات کی ضرورت ہے۔
سلیم صافی کے بقول عمران خان کی مذاکرات کی پیشکش قبول کرنے کی تیسری وجہ یہ ہے کہ پی ٹی آئی کے احتجاج حکومت گرانے میں ناکام تو رہے لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ حکومت مضبوط ہوگئی ہے۔ حکومت جیسے پہلے کمزور تھی اب بھی ویسے ہی کمزور ہے۔ ویسے بھی صدر آصف زرداری کسی بھی وقت پینترا بدل کر حکومت گرا سکتے ہیں۔ اگر وہ ایسا نہیں کرتے تو نون لیگ کو پیپلزپارٹی کی بلیک میلنگ کے ساتھ ہی حکومت کرنا ہو گی۔ صافی کے بقول چوتھی وجہ یہ ہے کہ معاشرتی حوالوں سے اس وقت ملک کو شدید نقصان پہنچ رہا۔ اداروں پر عوام کے اعتماد میں کمی آرہی ہے۔ اسوقت جو پولیٹکل پولرائزیشن ہے اس کی وجہ سے سیاست معمول کی سیاست نہیں بن سکتی اور ریاست کے وجود کو لگے زخم مزید گہرے ہوتے جارہے ہیں۔
حکومت کے لیے عمران خان کی مذاکرات کی خواہش قبول کرنے کی پانچویں وجہ یہ ہونی چاہیئے کہ نظریات جو بھی ہوں لیکن پی ٹی آئی والے بھی اسی ملک کے شہری ہیں اور نون لیگ اور پیپلز پارٹی والے بھی۔ یہ کوئی اسلام اور کفر کی جنگ نہیں ہے۔ آج ایک بندہ ایک پارٹی میں ہوتا ہے تو کل وہ بندہ دوسری پارٹی میں ہو گا۔ ہر ٹاک شو سے نکل کر ان جماعتوں کے نمائندے پھر اکٹھے بیٹھے ہوتے ہیں۔ سلیم صافی کے بقول یہ وہ وجوہات ہیں جو تقاضہ کرتی ہیں کہ انتقامی سوچ ترک کرکے آپس میں بات کی جائے۔ ایک دوسرے کی کمزوریوں سے فائدہ اٹھانے کی بجائے ایک دوسرے کی کمزوریوں کو مدنظر رکھا جائے ۔ بس بہت ہوگیا ۔اب ایک فریق بھی کچھ پیچھے ہٹے اور دوسرا فریق بھی۔ صرف مسلم لیگ اور پی ٹی آئی نہیں بلکہ تمام سیاسی اور دینی جماعتیں آپس میں بیٹھیں۔ میثاق معیشت اور میثاق جمہوریت پر اتفاق رائے پیدا کریں۔ یہ جماعتیں یا تو قومی حکومت پر اتفاق کرلیں یا پھر ایسے قوانین بنائیں کہ اگلے الیکشن میں دھاندلی نہ ہوسکے۔
کیا فیض کے کورٹ مارشل کے بعد فوج سیاست میں مداخلت سے باز آئے گی ؟
سلیم صافی کہتے ہیں کہ پانچ سال کی مدت پوری کرنے کی بجائے موجودہ حکومت اپنی مدت کم کرے اور جلد نئے انتخابات کا انعقاد کروائے۔ انکا کہنا ہے کہ کچھ لوگوں کو ایسی باتیں محض خواب لگتی ہیں لیکن ان کی خدمت میں عرض ہے کہ کیا سال پہلے کوئی سوچ سکتا تھا کہ پی ٹی آئی اور جے یو آئی ساتھ بیٹھیں گی ۔ جن لوگوں نے پاکستان کا متفقہ آئین بنایا وہ بھی کوئی آسمان سے اترے ہوئے نہ تھے بلکہ مختلف خوبیوں اور خامیوں کے حامل اسی طرح کے سیاستدان تھے۔ اسی طرح جن سیاستدانوں نے اٹھارہویں آئینی ترمیم پر اتفاق کیا ،ان میں بعض اللہ کو پیارے ہوگئے لیکن وہ سیاسی لاٹ اب بھی میدان عمل میں ہے۔ جذبات اور انتقامی سوچ کو ایک طرف رکھ کر ٹھنڈے دل سے غور کیا جائے تو اس وقت مذاکرات کے سواکوئی چارہ نہیں۔لیکن مذاکرات سے پہلے فریقین غصہ تھوک دیں اور یہ ذہن میں رکھیں کہ ایک ملک کے باشندے لیکن مختلف نظریات کے حامل بھائی مذاکرات کررہے ہیں۔
