جنرل مشرف جیسے زمینی خداؤں کا انجام کیوں یاد رکھنا چاہیے؟

 

 

 

معروف صحافی اور اینکر پرسن جاوید چوہدری نے کہا ہے کہ طاقت کے نشے میں مخمور حکمرانوں کو یاد رکھنا چاہیے کہ اقتدار کی رعونت آخر کار خاک میں مل جاتی ہے اور خود کو زمین پر خدا سمجھنے والے مطلق العنان حکمران بھی وقت کے سامنے بے بس ہو جاتے ہیں۔

 

پاکستان کے چوتھے فوجی حکمران جنرل پرویز مشرف کے عروج و زوال کو عبرت کی داستان قرار دیتے ہوئے جاوید چوہدری نے اپنے سیاسی تجزیے میں کہا ہے کہ ایک وقت تھا جب مشرف کو اپنے زمینی خدا ہونے کا یقین تھا لیکن اس کا ایسا عبرتناک انجام ہوا کہ وہ کئی برس تک بستر مرگ پر ایڑیاں رگڑ رگڑ کر اس دنیا سے گیا۔

 

جاوید چوہدری نے یاد دلایا کہ 2002 میں نجی ٹی وی چینل جیو ٹیلی وژن نیٹ ورک پر سیاسی مزاحیہ پروگرام ’’ہم سب امید سے ہیں‘‘ شروع ہوا جسے معروف مزاح نگار ڈاکٹر یونس بٹ لکھتے تھے۔ اس پروگرام میں وسیم انصاری جنرل پرویز مشرف کے روپ میں سامنے آئے اور دیکھتے ہی دیکھتے مقبول ہو گئے۔ خود جنرل مشرف بھی اس کردار کو پسند کرتے تھے۔ ایک موقع پر انہیں خصوصی طور پر کراچی سے سرکاری طیارے کے ذریعے اسلام آباد بلایا گیا تاکہ وہ طاقت کے مراکز میں بیٹھ کر مشرف کی نقل پیش کریں۔ بتایا جاتا ہے کہ ان کے لیے ماہانہ وظیفہ بھی مقرر تھا۔ یہ وہ زمانہ تھا جب مشرف کی پرچھائی کو بھی سلام پیش کیا جاتا تھا۔

 

انکا کہنا ہے کہ مشرف دور میں اسلام آباد کے سیکٹر ایف ایٹ میں چوہدری شجاعت حسین کی رہائش گاہ اقتدار کا محور ہوتی تھی۔ چوہدری پرویز الٰہی اور ان کے دیگر قریبی ساتھی جنرل مشرف کے سب سے بڑے سیاسی فائدہ اٹھانے والوں میں شمار ہوتے تھے۔ مشرف کے پرنسپل سیکریٹری طارق عزیز، جو ایف سی کالج میں چوہدری برادران کے ہم جماعت رہے تھے، اقتدار کے اس بندوبست میں اہم کردار ادا کرتے تھے۔ بڑے بڑے سیاسی خاندان، صنعت کار اور جاگیردار جنرل کو خوش کرنے کے لیے ہر حد پار کرنے کو تیار رہتے تھے۔

 

جاوید چوہدری نے ایک تقریب کا ذکر کیا جو ایوان صدر راولپنڈی، یعنی آرمی چیف ہاؤس میں منعقد ہوئی۔ ان کے بقول اس تقریب میں جنرل پرویز مشرف خود گانا گا رہے تھے، اس وقت کے وزیر اعظم شوکت عزیز داد دے رہے تھے اور اس وقت کے چیئرمین سینٹرل بورڈ آف ریونیو عبداللہ یوسف رقص کر رہے تھے۔ کیمرے چل رہے تھے مگر اقتدار اس قدر مدہوش تھا کہ کسی کو پروا نہ تھی۔ یہ منظر طاقت کے نشے کی انتہا کی تصویر تھا۔ انہوں نے یاد دلایا کہ 4 فروری 2007 کو چوہدری پرویز الٰہی نے پنجاب اسمبلی کے فلور پر اعلان کیا تھا کہ وہ جنرل مشرف کو دس مرتبہ وردی میں صدر منتخب کرائیں گے۔ یہ بیان اس وقت کی سیاسی وفاداریوں اور طاقت کے توازن کا عکاس تھا۔

 

جاوید چوہدری نے مشرف دور کے اہم واقعات کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ 2007 میں اسلام آباد کی لال مسجد میں فوجی آپریشن کیا گیا، چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کو آرمی ہاؤس بلا کر استعفیٰ طلب کیا گیا اور 12 مئی 2007 کو کراچی میں جنرل مشرف کے حامیوں اور وکلا کے مابین خونریز تصادم ہوا۔ اس واقعے میں درجنوں لوگ مارے گئے لیکن مشرف نے اسی روز اسلام آباد میں جشن منایا اور سٹیج پر مکے لہرا کر دکھاتے رہے۔ نتیجہ یہ نکلا کہ مشرف کے ان اقدامات نے ملک کو شدید سیاسی بحران میں دھکیل دیا۔

 

لیکن جاوید چوہدری بتاتے ہیں کہ پھر وقت نے پلٹا کھایا۔ 28 جولائی 2007 کو جنرل پرویز مشرف کو ابوظہبی میں بے نظیر بھٹو سے مذاکرات کرنا پڑے، حالانکہ وہ ان کے بارے میں سخت مؤقف رکھتے تھے۔ اس کے بعد مشرف کو اپنے سیاسی مخالفین کو وطن واپس آنے کی اجازت دینا پڑی۔ امریکہ نے اس کا ساتھ چھوڑ دیا اور مشرف کو پہلے وردی اتارنا پڑی اور پھر مواخذے کے خوف سے صدارت سے استعفیٰ دینا پڑا۔ اقتدار سے محرومی کے بعد موصوف بیرون ملک مقیم ہو گئے کیونکہ پاکستانی عدالت نے آئین شکنی کے الزام میں انہیں سزائے موت سنا دی تھی۔ خود کو کمانڈو پریزیڈنٹ قرار دینے والے جنرل مشرف نے بہادری سے گرفتاری دینے کی بجائے بھگوڑا بن کر ملک سے فرار ہو جانے کو ترجیح دی۔

جاوید چوہدری بتاتے ہیں کہ زندگی کے آخری برسوں میں مشرف ایک اذیت ناک بیماری میں مبتلا ہو گئے جس نے انہیں جسمانی طور پر کھوکھلا کر دیا۔ ان کی ریڑھ کی ہڈی کے نچلے حصے میں انجیکشن لگتے تھے اور وہ شدید اذیت چیخیں مار کر رویا کرتے تھے۔ یہ ایک ایسی خوفناک بیماری تھی کہ جس میں انسان کے اندرونی اعضاء پگھلنا شروع ہو جاتے ہیں۔ چنانچہ زمین پر خود کو خدا سمجھنے والا مشرف 5 فروری 2023 کو دبئی کے ایک ہسپتال میں ایڑیاں رگڑ رگڑ کر اس دنیا سے رخصت ہوا۔ اس کی میت کو کراچی لایا گیا اور ایک فوجی قبرستان میں سپرد خاک کیا گیا، تاہم عبرت کی بات یہ ہے کہ ان کی قبر پر دعائے خیر پڑھنے بھی کوئی نہیں جاتا کیونکہ ان کا سارا خاندان بیرون ملک مقیم ہے۔

جاوید چوہدری کے مطابق جنرل مشرف نے اسلام آباد کے علاقے چک شہزاد میں آرمی چیف ہاؤس کی طرز پر ایک عالی شان گھر تعمیر کرایا تھا۔ انکا خیال تھا کہ وہ ریٹائرمنٹ کے بعد اسی شان سے وہاں قیام کریں گے، مگر وہ اس گھر میں چند ماہ ہی رہ سکے اور وہ بھی نظر بندی کے عالم میں۔ بعد ازاں یہ مکان فروخت کر دیا گیا۔

سہیل آفریدی کے اسلام آباد میں ڈیرے اور خفیہ ملاقاتیں

انہوں نے یاد دلایا کہ جنرل پرویز مشرف سے قبل بھی ایک فوجی حکمران جنرل ضیاء الحق نے آئین توڑ کر اقتدار پر قبضہ کیا تھا۔ وہ بھی خود کو طاقتور اور ناقابلِ تسخیر سمجھتا تھا، مگر اس کا انجام بھی عبرتناک ہوا۔ 17 اگست 1988 کو ایک فضائی حادثے میں ضیا کا طیارہ تباہ ہوا اور وہ جل کر بھسم ہو گیا۔

جاوید چوہدری کے مطابق انسانی تاریخ بار بار یہی سبق دیتی ہے کہ آئین توڑ کر اقتدار حاصل کرنے والے اور خود کو زمین پر خدا سمجھنے والے حکمران وقتی طور پر طاقتور ضرور دکھائی دیتے ہیں، مگر انجام کے وقت وہ تنہا رہ جاتے ہیں۔ اقتدار کی چمک دمک عارضی ہے، وقت کا پہیہ بے رحم ہے اور رعونت آخرکار خاک میں بکھر جاتی ہے۔

Back to top button