ایران پر حملہ کرنے والا امریکہ مذاکرات کی منتیں کیوں کرنے لگا؟

معروف لکھاری اور تجزیہ کار حفیظ اللہ خان نیازی نے کہا ہے کہ ایران کے خلاف جنگ شروع کرنے والا امریکہ عملاً ہار چکا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ 27 دن سے آبنائے ہرمز بند ہے۔ پوری دنیا خوف اور عدم تحفظ کی گرفت میں ہے، جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے تمام تر اقدامات اور دھمکیاں بے اثر ثابت ہوئی ہیں۔ اب نہ رجیم چینج زیر بحث ہے، نہ یورینیم افزودگی اور نہ ہی میزائل پروگرام یا پابندیوں کا ذکر ہو رہا ہے، بلکہ ایران پہلے سے دگنا تیل فروخت کر رہا ہے۔

روزنامہ جنگ کے لیے اپنے تجزیے میں حفیظ اللہ خان نیازی کہتے ہیں کہ ایران اور امریکہ کے درمیان جاری جنگ نے عالمی حالات کو یکسر تبدیل کر دیا ہے اور ابتدائی منصوبہ بندی کے برعکس امریکہ کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ وہ بتاتے ہیں کہ 24 فروری 2026 کو وائٹ ہاؤس کے سیچویشن روم میں ایک اہم اجلاس میں صدر ٹرمپ، وزیر خارجہ مارکو روبیو، وزیر دفاع پیٹ ہیگ سیتھ اور اعلیٰ فوجی حکام نے ایران پر حملے کی حکمت عملی تیار کی تھی۔ اجلاس میں کئی جرنیلوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ اگر جنگ طویل ہو گئی تو امریکہ کے لیے سنگین مسائل پیدا ہوں گے، تاہم ان خدشات کو نظر انداز کر دیا گیا۔ اگلے روز امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ میں خبر شائع ہوئی جس کے مطابق چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف جنرل ڈین کین نے صدر کو خبردار کیا تھا کہ طویل جنگ امریکہ کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے۔

حفیظ اللہ خان نیازی کے مطابق امریکہ اور اسرائیل کا بنیادی مقصد ایران کی اعلیٰ قیادت، بشمول سپریم لیڈر علی خامنہ ای کو ختم کر کے ملک میں اپنی مرضی کی حکومت قائم کرنا تھا۔ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کو موساد چیف ڈیوڈ برنیا کی جانب سے یقین دہانی کرائی گئی تھی کہ ایرانی عوام حکومت کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں گے۔ اسی منصوبے کے تحت 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر بڑا حملہ کیا، جس کا ہدف ایرانی سیاسی، فوجی اور سائنسی قیادت کو ختم کرنا تھا۔

جنگ کے آغاز میں یہ توقع کی جا رہی تھی کہ چند دنوں میں نتائج حاصل ہو جائیں گے، تاہم صورتحال اس کے برعکس ہو گئی۔ تقریبا ایک ماہ گزر جانے کے باوجود آبنائے ہرمز بند ہے، جس سے عالمی تجارت شدید متاثر ہوئی ہے۔ حفیظ اللہ نیازی کے مطابق اب جنگ کا محور بدل چکا ہے، پہلے رجیم چینج مقصد تھا لیکن اب جنگ بندی کا دارومدار آبنائے ہرمز کے کھلنے پر ہے۔ اس وقت پورا اسرائیل حملوں کی زد میں ہے جبکہ خلیجی ممالک اور اردن میں موجود 11 امریکی فوجی اڈے تباہ ہو چکے ہیں۔ اس کے علاوہ امریکی بحری جہاز USS Robert Perry کو بھی ڈبو دیا گیا جبکہ جدید ریڈار سسٹمز اور مہنگا عسکری سازوسامان بھی تباہ ہوا۔

حفیظ نیازی کے مطابق اس وقت اسرائیل کا دفاعی نظام کمزور ہو چکا ہے اور اس کے انٹرسیپٹر میزائل ختم ہو رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ امریکہ روایتی جنگ لڑنے آیا تھا لیکن ایران نے اسے غیر روایتی جنگ میں تبدیل کر دیا۔ ایران نے صبر، حکمت عملی اور معاشی دباؤ کے ذریعے جنگ کو طویل اور تھکا دینے والی جنگ میں بدل دیا ہے اور مہنگے امریکی وسائل کو سستے طریقے سے ضائع کروایا ہے۔ امریکہ نے ایران کی سیاسی اور عسکری قیادت تو ختم کر دی لیکن ایرانی عوام کا جذبہ ختم نہیں کر پایا۔ انیوں نے امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کے حوالے سے دعویٰ کیا کہ حالیہ حملوں میں ایران نے خلیجی خطے میں 11 امریکی اڈوں کو نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں درجنوں امریکی فوجی ہلاک اور زخمی ہوئے جبکہ 16 امریکی طیارے بھی تباہ ہو چکے ہیں۔

ایران کے امریکی اڈوں اور اسرائیلی مقامات پر میزائلوں، ڈرونز اور ملٹی وار ہیڈ سے حملے

چار ہفتوں سے جاری اس جنگ کا نتیجہ یہ ہے کہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمت 119 ڈالرز فی بیرل تک پہنچ گئی ہے جبکہ گیس کی قیمت میں بھی نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ ادھر قطر نے خود کو اس تنازع سے الگ رکھنے کا اعلان کیا ہے۔ امریکہ نے ایک ماہ کی جنگ کے بعد ایران کو مزاکرست کے لیے 15 نکاتی تجاویز پیش کیں تاہم ایران نے انہیں مسترد کر دیا اور اپنی 5 شرائط پیش کی ہیں۔ ایران کا مؤقف ہے کہ وہ اپنی خودمختاری پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔

حفیظ اللہ نیازی کے مطابق ادھر صدر ڈونلڈ ٹرمپ جنگ کے خاتمے کے لیے مذاکرات پر زور دے رہے ہیں جبکہ ایران بین الاقوامی ضمانتوں کے بغیر مذاکرات سے انکار کر رہا ہے۔ ایران تیسری مرتبہ امریکہ کے ہاتھوں دھوکہ نہیں کھانا چاہتا اور اسی لیے اس نے مذاکرات کے لیے اسرائیل اور چین کو ضامن بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔ موجودہ صورتحال میں امریکہ واضح طور پر کمزور پوزیشن میں ہے اور اس کے جنگ جیتنے کے امکانات کم ہو چکے ہیں۔ ان کے مطابق ایران اس جنگ کو طویل عرصے تک جاری رکھنے کے لیے تیار ہے جبکہ امریکہ کے پاس باعزت واپسی کا کوئی واضح راستہ نہیں اور جب تک امریکہ اپنی شکست تسلیم نہیں کرتا، یہ جنگ جاری رہ سکتی ہے۔

Back to top button