فیض حمید کو سزا خونی بھیڑیے کا انجام کیوں قرار پائی؟

معروف لکھاری اور تجزیہ کار بلال غوری نے سابق ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل ریٹائیرڈ فیض حمید کو عمر قید کی سزا کو ایک خونی درندے کے منطقی انجام سے تشبیہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ جب بھیڑیوں کے غول میں شامل کوئی طاقتور درندہ نشانِ عبرت بن جائے تو جنگل کی معصوم بھیڑیں سکون کا سانس لیتی ییں۔ ان کے مطابق فوج نے اپنی پالیسی میں نمایاں تبدیلی کرتے ہوئے پہلی بار ایک سابق آئی ایس آئی چیف کا کورٹ مارشل کرتے ہوئے سخت ترین سزا دے ڈالی ہے تاکہ آئندہ کوئی جرنیل بھیڑیا بننے کی جرات نہ کرے۔
روزنامہ جنگ کے لیے اپنے سیاسی تجزیے میں بلال غوری لکھتے ہیں کہ پاکستان کی تاریخ میں طاقتور ترین جرنیلوں کی فہرست مرتب کرنا آسان نہیں۔ جنرل اختر عبدالرحمان کو افغان جنگ کا فاتح قرار دیا جاتا ہے، تاہم ان کے جانشین لیفٹیننٹ جنرل حمید گل نے بطور ڈی جی آئی ایس آئی ایسی شہرت حاصل کی کہ انہیں عالمی سطح پر ’’جاسوسی کی دنیا کا بادشاہ‘‘ کہا جانے لگا۔ بلال غوری کے مطابق جنرل ضیاء الحق کی ہلاکت کے بعد جنرل حمید گل نے قاتلوں کی تلاش کے بجائے سیاسی بندوبست کو ترجیح دی اور اس فکر میں مبتلا رہے کہ جنرل ضیاء کے نظریے کو کس طرح برقرار رکھا جائے۔
بلال غوری نے شجاع نواز کی کتاب کراسڈ سوارڈز کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا کہ امریکی سفیر رابرٹ اوکلے اس خدشے کا اظہار کر چکے تھے کہ کہیں آرمی چیف جنرل اسلم بیگ، جنرل حمید گل کے مشورے پر عام انتخابات ملتوی نہ کر دیں، کیونکہ جنرل حمید گل کا موقف تھا کہ انتخابات کے لیے حالات سازگار نہیں اور پیپلز پارٹی کامیاب ہو جائے گی۔
جب انتخابات ملتوی کرانے کی کوششیں ناکام ہوئیں تو جنرل حمید گل نے بینظیر بھٹو کا راستہ روکنے کے لیے دائیں بازو کی جماعتوں کو یکجا کرنے کی کوشش کی۔ 16 نومبر 1988ء کے انتخابات سے ایک ماہ قبل لاہور میں غلام مصطفیٰ جتوئی کی قیادت میں اسلامی جمہوری اتحاد (آئی جے آئی) قائم کیا گیا، جس میں مسلم لیگ جونیجو، نیشنل پیپلز پارٹی، جماعت اسلامی، ایم کیو ایم، جے یو آئی (نظام مصطفیٰ گروپ)، مرکزی جمعیت اہل حدیث (لکھوی گروپ) سمیت کئی جماعتیں شامل ہوئیں، جبکہ جے یو آئی (فضل الرحمان)، جے یو پی، اے این پی اور پختونخوا ملی عوامی پارٹی نے اس اتحاد میں شامل ہونے سے انکار کیا۔
بلال غوری کے مطابق سینئر صحافی اظہر سہیل نے اپنی کتاب ایجنسیوں کی حکومت میں لکھا ہے کہ پیپلز پارٹی کو قومی و صوبائی اسمبلیوں میں مجموعی طور پر 70 نشستیں دینے کا فیصلہ کیا گیا تھا، تاہم تمام تر کوششوں کے باوجود پیپلز پارٹی قومی اسمبلی کی 207 میں سے 93 نشستیں حاصل کرنے میں کامیاب رہی۔ آئی جے آئی کو 55 جبکہ ایم کیو ایم کو کراچی اور حیدرآباد سے 13 نشستیں ملیں۔ غلام مصطفیٰ جتوئی اور محمد خان جونیجو کی شکست کے بعد میاں نواز شریف پنجاب کے وزیراعلیٰ بنے جبکہ بینظیر بھٹو ملک کی پہلی خاتون وزیراعظم منتخب ہوئیں۔
بلال غوری لکھتے ہیں کہ جنوری 1989ء سے جنرل حمید گل نے پیپلز پارٹی کے سندھ اسمبلی کے ارکان توڑنے کی کوششیں شروع کیں تاکہ پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم کی اتحادی حکومت ختم کی جا سکے۔ اس دوران چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی ایڈمرل افتخار سروہی اور ڈی جی آئی ایس آئی جنرل حمید گل ایوانِ صدر میں صدر غلام اسحاق خان سے ملاقاتیں کرتے رہے، جن میں بینظیر حکومت کو گرانے کے طریقوں پر غور ہوتا تھا۔
بلال غوری کے مطابق بینظیر بھٹو نے اپنی کتاب دخترِ مشرق میں انکشاف کیا کہ انہیں نیویارک سے واپسی پر محسوس ہوا کہ ان کے ٹیلی فون جنرل حمید گل کی براہِ راست نگرانی میں ہیں۔ ایک موقع پر سیکریٹری دفاع سے بات کے فوراً بعد جنرل حمید گل نے انہیں طلب کر کے بتایا کہ وزیراعظم میٹنگ کی تفصیلات جاننا چاہتی ہیں۔
شجاع نواز کے مطابق جنرل حمید گل پر یہ الزام بھی عائد کیا گیا کہ سعودی عرب سے عورت کی حکمرانی کے خلاف فتویٰ دلوانے میں ان کا کردار تھا۔ بینظیر بھٹو کو یہ رپورٹس بھی ملیں کہ ان کی حکومت گرانے اور حتیٰ کہ انہیں قتل کرنے کی سازشیں بھی زیر غور تھیں، تاہم ان دعوؤں کی تصدیق نہ ہو سکی۔
بلال غوری لکھتے ہیں کہ جنرل حمید گل نے کئی مواقع پر آئی جے آئی کی تشکیل کی ذمہ داری قبول کی اور یہاں تک کہا کہ اگر کوئی ہمت رکھتا ہے تو ان کا کورٹ مارشل کر کے دکھائے۔ بعد ازاں 1990ء میں لیفٹیننٹ جنرل اسد درانی کی جانب سے سیاستدانوں میں رقوم تقسیم کرنے کا معاملہ سامنے آیا، اصغر خان کیس میں سپریم کورٹ کا فیصلہ بھی آیا، مگر عملی کارروائی نہ ہو سکی۔
بلال غوری کے مطابق بعد کے ادوار میں آنے والے ڈی جی آئی ایس آئیز کی فہرست طویل ہے، مگر لیفٹیننٹ جنرل ظہیر الاسلام اور لیفٹیننٹ جنرل شجاع پاشا کے ادوار غیر معمولی اثرات کے حامل رہے۔ ان کے بعد آنے والے لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید نے تو کھیل کے اصول اور انداز ہی بدل دیے اور آئین و قانون شکنی کا ایک نیا ’’نیو نارمل‘‘ متعارف کروایا۔
فیض حمید کو سزا کے بعد عمران کا بچنا ناممکن کیوں ہے؟
بلال غوری کے مطابق اب فوج نے اپنی پالیسی میں واضح تبدیلی کرتے ہوئے ایک سابق ڈی جی آئی ایس آئی کو عمر قید کی سزا سنائی ہے، جو بقول ان کے جنگل کے بے ضرر باسیوں کے لیے یقیناً ایک اچھی خبر سمجھی جا رہی ہے۔
