ایمان مزاری کو 17 برس قید کی سزا انصاف کا قتل کیوں قرار پائی؟

اسلام آباد کی انسداد دہشت گردی عدالت کی جانب سے انسانی حقوق کی متحرک کارکن اور وکیل ایمان مزاری اور ان کے شوہر ہادی علی چٹھہ کو ریاست مخالف ٹویٹس کرنے کے الزام میں مجموعی طور پر 17، 17 برس قید کے فیصلے نے ملک بھر میں شدید ردِعمل پیدا کر دیا ہے۔ اس عدالتی فیصلے کو آزادیِ اظہار اور عدالتی انصاف پر کاری ضرب قرار دیا جا رہا ہے۔
یاد رہے کہ اسلام آباد کی سیشن کورٹ نے ہفتے کے روز ایمان مزاری اور ہادی چٹھہ کو متنازع سوشل میڈیا مواد کے مقدمے میں سزا سنائی، جو ان کی گرفتاری کے محض ایک دن بعد سامنے آئی۔ تحریری فیصلے میں کہا گیا ہے کہ ایمان مزاری نے 2021 سے 2025 کے دوران سوشل میڈیا پر مسلسل اشتعال انگیز، گمراہ کن اور ریاست مخالف مواد شائع کیا، جب کہ ان کے شوہر پر اس عمل میں فعال معاونت کا الزام عائد کیا گیا۔ عدالت کے مطابق ایمان مزاری کی ٹویٹس میں کالعدم تنظیموں بلوچ لبریشن آرمی اور تحریک طالبان کے بیانیے کی عکاسی ہوتی ہے۔ عدالت نے دونوں میاں بیوی کو الیکٹرانک جرائم سے متعلق قوانین کے تحت مختلف دفعات میں مجرم قرار دیا۔
عدالتی فیصلے کے بعد وکلا، انسانی حقوق کے کارکنان، صحافیوں اور سیاسی رہنماؤں نے شدید غم و غصے کا اظہار کیا ہے۔ ڈیجیٹل رائٹس ایکسپرٹ اسامہ خلجی نے عدالتی فیصلے کو مکمل طور پر غیر قانونی، غیر آئینی اور شفاف عدالتی عمل سے عاری قرار دیتے ہوئے کہا کہ جب ہائی کورٹ میں مقدمہ منتقلی کی درخواست زیر التوا ہو تو سزا سنانا قانون کی صریح خلاف ورزی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ انسانی حقوق کے وکلا کو ٹویٹس پر سزا دینا پاکستان کو عالمی سطح پر تماشہ بنا رہا ہے۔
معروف وکیل جبران ناصر نے مؤقف اختیار کیا کہ ایڈیشنل سیشن جج افضال مجوکہ کو اس مقدمے کا فیصلہ سنانے کا اختیار ہی حاصل نہیں تھا، کیونکہ مقدمہ ان کی عدالت سے منتقل کرنے کی درخواست پہلے ہی دائر کی جا چکی تھی۔ انہوں نے فیصلے کو قانونی طور پر کالعدم قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ فیصلہ کاغذ کے ایک ٹکڑے کے برابر بھی نہیں۔
تحریک تحفظ آئین پاکستان نے ان سزاؤں کو جمہوریت اور انصاف پر بدنما داغ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ فیصلے 26ویں اور 27ویں آئینی ترامیم کے بعد وجود میں آنے والے دباؤ زدہ عدالتی نظام کی عکاسی کرتے ہیں، جہاں انصاف کے بجائے سیاسی مقاصد کو فوقیت دی جا رہی ہے۔
وکیل ریما عمر نے فیصلے کو انتہائی تشویشناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ ہر اس شخص کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے جو اختلافِ رائے اور آزادیِ اظہار پر یقین رکھتا ہے۔
تحریک انصاف کے رہنما عمر ایوب خان نے عدالتی فیصلے کو کینگرو کورٹ کا فیصلہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے ثابت ہو گیا ہے کہ پاکستان میں قانونی نظام دم توڑ چکا ہے۔
سماجی کارکن عمار علی جان نے کہا کہ ایمان مزاری اور ہادی چٹھہ کا واحد جرم یہ ہے کہ وہ لاپتا افراد اور جھوٹے توہینِ مذہب کے مقدمات کے متاثرین کے لیے آواز اٹھاتے رہے۔ ان کے مطابق اگر آج خاموشی اختیار کی گئی تو کل ہر کسی کی باری آ سکتی ہے۔
سینئر صحافی بینظیر شاہ نے کہا کہ گمشدہ افراد کے لیے جدوجہد کرنے والے دونوں وکلا میاں بیوی کو سزا دے کر ہمارا معاشرہ اخلاقی اور قانونی طور پر مزید غریب ہو گیا ہے، کیونکہ یہ وہ لوگ تھے جو ملک کے سب سے کمزور طبقات کے لیے کھڑے ہوتے تھے۔ صحافی ماریانا بابر کے مطابق یہ فیصلہ ریاست پر تنقید کرنے والوں کے لیے ایک واضح پیغام ہے، سینیئر صحافی اعزاز سید نے کہا ہے کہ جج افضال مجوکہ تاریخ میں غیر معمولی تیزی سے ریاست کو انصاف فراہم کرنے پر یاد رکھے جائیں گے، انہوں نے الزام عائد کیا کہ عدالت کی جانب سے ملزمان کو جرح اور حتمی بیان کا حق تک نہیں دیا گیا۔ سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر علامہ راجہ ناصر عباس نے فیصلے کو انصاف کا سنگین قتل قرار دیتے ہوئے کہا کہ قانون کو اختلافِ رائے دبانے کے ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے، اور امید ظاہر کی کہ اعلیٰ عدلیہ اس فیصلے کو کالعدم قرار دے گی۔
پاکستان کے تینوں بڑے ائیر پورٹس اوپن بڈنگ سے بیچنے کا فیصلہ
پاکستان کے معروف انگریزی روزنامہ ڈان نے اپنے اداریے میں ایمان مزاری اور ہادی چٹھہ کو سنائی گئی سزاؤں کو پاکستان کے عدالتی نظام کی تاریخ کا ایک اور شرمناک باب قرار دیا ہے۔ اداریے میں کہا گیا ہے کہ یہ دونوں وکلا جبری گمشدگیوں، توہینِ مذہب کے مقدمات اور عدالتی آزادی جیسے حساس معاملات میں کمزور اور بے آواز شہریوں کے ساتھ کھڑے نظر آتے رہے ہیں۔
اداریے کے مطابق ان کے خلاف کارروائی دراصل ریاستی زیادتیوں کے متاثرین کی نمائندگی کرنے، آزادیِ اظہار پر کھل کر بات کرنے اور طاقتور اداروں پر تنقید کا نتیجہ ہے۔ ڈان نے اس عمل کو قانونی انتقام قرار دیتے ہوئے لکھا کہ ایک پرانا مقدمہ اچانک دوبارہ سامنے آنا اور گرفتاری کے فوراً بعد سزا سنا دینا شفاف عدالتی عمل پر سنگین سوالات اٹھاتا ہے۔
اداریے میں یہ بھی کہا گیا کہ اگر ایسے فیصلے برقرار رہے تو وکلا، صحافیوں اور عام شہریوں کے لیے پیغام بالکل واضح ہے کہ اختلافِ رائے کی نہ صرف حوصلہ شکنی کی جائے گی بلکہ اسے جرم بنا دیا جائے گا۔ ڈان اخبار کے مطابق پاکستان کی قانونی برادری نے ماضی میں آمریت کے خلاف بھرپور جدوجہد کی ہے، لیکن اس عدالتی فیصلے سے یہ روایت کمزور پڑتی دکھائی دیتی ہے۔
