عمران کی ہمشیرہ زلفی بخاری پرحملہ آورکیوں ہو گئیں؟

تبدیلی، شفافیت اور عوامی خدمت کے نعرے لگانے والی پی ٹی آئی اب اندرونی لڑائیوں اور الزام تراشیوں کا مرکز بن چکی ہے۔ تازہ اطلاعات کے مطابق عمران خان اور بشریٰ بی بی کے قریبی ساتھی سمجھے جانے والے زلفی بخاری پر بانی پی ٹی آئی عمران خان کی اپنی ہمشیرہ روبینہ خان ہی حملہ آور ہو گئیں روبینہ خان نے زلفی بخاری پر سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے ان کی سیاسی حیثیت اور کارکردگی پر سوالات اٹھا دئیے ہیں۔
مبصرین کے مطابق جب کوئی سیاسی جماعت اپنے نظریات اور مقاصد سے ہٹ کر شخصیت پرستی، سازشوں، اور گروہ بندیوں کا شکار ہو جائے تو اس کا انجام انتشار، کمزوری، اور عوامی اعتماد کی تنزلی کی صورت میں سامنے آتا ہے۔ گششتہ کچھ عرصے سے پی ٹی آئی پارٹی رہنماؤں کی آپسی لڑائیوں کی زد میں ہے جہاں وہ شیر افضل مروت کی الزام تراشیاں ہوں یا گنڈاپور کی دھمکیاں، علیمہ خان کے دعوے ہوں یا عالیہ حمزہ کی تنقید، شیخ وقاص اکرم کے میسجز ہوں یا سلمان اکرم راجہ کی وارننگ غرضیکہ تحریک انصاف کے رہنما ذاتی اناء اور مفادات کیلئے ایک دوسرے کے دست و گریبان ہوتے نظر آتے ہیں ۔تاہم پارٹی میں موجود اس انتشار کا حالیہ منظرنامہ ایک غیر معمولی مگر شدید نوعیت کی چپقلش کی صورت میں ابھرا، جب بانیٔ تحریک انصاف عمران خان کی اپنی ہمشیرہ روبینہ خان نے پی ٹی آئی کا اہم چہرہ سمجھے جانے والے زلفی بخاری پر سنگین الزامات عائد کر دئیے۔ ایسے میں سوال پیدا ہوتا ہے: پی ٹی آئی کیا واقعی ایک سیاسی جماعت ہے، یا محض شخصیات کے گرد گھومتی ہوئی ایک ناکام تجربہ گاہ بن چکی ہے؟
ناقدین کے مطابق روبینہ خان نے زلفی بخاری پر جو الزامات لگائے ہیں، وہ محض نجی رائے نہیں بلکہ پارٹی کے اندر موجود بےچینی اور غیر یقینی کی ایک کھلی علامت ہیں۔ روبینہ خان کا کہنا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ کی سرپرستی میں زلفی بخاری کو پارٹی کے رہنما کے طور پر "لانچ” کیا جا رہا ہے، باوجود اس کے کہ وہ طویل عرصے تک منظر سے غائب رہے تاہم واپسی پر خود کو وژنری لیڈر کے طور پر پیش کرنے لگے ہیں۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ ’’کیا یہ دھوکے باز آدمی اب وژن دے گا؟‘‘
روبینہ خان کے مطابق زلفی بخاری نے سیاحت کے شعبے میں اور پارٹی ترجمان کے طور پر کوئی قابل ذکر کارکردگی نہیں دکھائی، بلکہ صرف گھسے پٹے بیانات اور سطحی تشریحات کے ذریعے اپنے عہدے کا وقت گزارا۔ بین الاقوامی امور، خاص طور پر انسانی حقوق کی پامالی پر بھی وہ ناکام ثابت ہوئے۔ روبینہ خان کے مطابق زلفی بخاری کا یہ کہنا کہ "برطانیہ کو عمران خان میں کوئی دلچسپی نہیں”، محض ایک سفارتی ناکامی نہیں بلکہ ایک سنگین سیاسی غفلت ہے۔
روبینہ خان نے اس بات کا بھی انکشاف کیا کہ عمران خان کو آکسفورڈ یونیورسٹی کے چانسلر بنانے کی مہم زلفی بخاری کی ذاتی تشہیر کا نتیجہ تھی، جو نہ صرف خان صاحب کی جگ ہنسائی کا باعث بنی بلکہ پارٹی کی ساکھ پر بھی سوالیہ نشان چھوڑ گئی۔ روبینہ کے بقول، ’’زلفی بخاری خود تو پڑھا لکھا نہیں، لیکن آکسفورڈ یونیورسٹی کو اپنے ذاتی عزائم کے لیے استعمال کرنا چاہتا تھا۔‘‘ تاہم زلفی کے اس اقدام نے قید میں موجود عمران خان کو ایک غیر ضروری تنازعے میں پھنسا دیا، جس کی ضرورت ہی نہ تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ ہر شخص کو اس بات پر سوال اٹھانا چاہیے کہ ذلفی بخاری اصل میں کس کے لیے کام کر رہے ہیں، کیونکہ یہ بات طے ہے کہ وہ عمران خان کے لیے کام نہیں کر رہے۔دوسری جانب ذلفی بخاری کے قریبی ذرائع نے روبینہ خان کے الزامات کو بے بنیاد قرار دے کر مکمل طور پر مسترد کر دیا ہے۔
تاہم مبصرین کے بقول روبینہ خان جیسے قریبی خاندانی افراد کی طرف سے زلفی بخاری پر یوں کھلے عام تنقید کا مطلب صرف ایک ذاتی تنازعہ نہیں، بلکہ یہ پارٹی میں بڑھتے ہوئے دھڑوں، اندرونی بداعتمادی، اور قیادت کے بحران کا اشارہ ہے۔ ایک طرف کارکنوں کو سخت مزاحمت اور قربانیوں کی تلقین کی جا رہی ہے، اور دوسری طرف پارٹی کی اندرونی صفوں میں مفادات، تعیناتیوں اور بیانیے پر جھگڑے زور پکڑتے جا رہے ہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق تحریکِ انصاف کی موجودہ صورتحال اس تلخ سچ کی گواہی دیتی ہے کہ نظریات پر نہیں بلکہ شخصیات پر کھڑی جماعتیں دیرپا نہیں ہوتیں۔ زلفی بخاری جیسے کردار اگر واقعی اسٹیبلشمنٹ کی چھتری تلے پارٹی پر مسلط کیے جا رہے ہیں، تو یہ نہ صرف کارکنوں کی توہین ہے بلکہ عمران خان کے اس بیانیے کی بھی کھلی نفی ہے جو وہ برسوں سے دہراتے آ رہے ہیں۔ روبینہ خان کی باتیں محض غصے یا ذاتی ناپسندیدگی کا نتیجہ نہیں، بلکہ اس گہرے بحران کا اظہار ہیں جو تحریک انصاف کو اندر سے چاٹ رہا ہے۔
خیال رہے کہ زلفی بخاری کی شخصیت کوئی نئی تنازعہ کا شکار نہیں۔ ان کا ماضی بھی کئی ایسے سکینڈلز سے بھرا پڑا ہے جو ان کے کردار اور نیت پر سوالات اٹھاتے ہیں۔ پانامہ لیکس میں آف شور کمپنیوں کی موجودگی سے لے کر وزارت سیاحت میں مبینہ اقربا پروری، اور غیر شفاف پالیسی سازی تک، ان پر متعدد بار انگلیاں اٹھائی گئیں۔ 2018 میں، ای سی ایل (ایگزٹ کنٹرول لسٹ) میں شامل ہونے کے باوجود، ان کا بیرون ملک سفر ایک عدالتی تنازعے کا باعث بنا۔ زلفی بخاری کا نام اُس وقت مزید متنازع ہوا جب توشہ خانہ کیس میں قیمتی گھڑیوں کی مبینہ غیر شفاف خرید و فروخت میں ان کا ذکر سامنے آیا۔ اس معاملے کو اُس وقت مزید سنجیدگی ملی جب سابق خاتونِ اول بشریٰ بی بی اور زلفی بخاری کے درمیان مبینہ آڈیو لیک منظر عام پر آئی، جس میں بظاہر قیمتی تحائف کو فروخت کرنے، اور ان کے منافع پر تبادلۂ خیال کیا جا رہا تھا۔ اگرچہ زلفی بخاری اور پی ٹی آئی نے اس آڈیو کی صداقت سے انکار کیا، لیکن عوامی سطح پر اس نے پارٹی کے "ایماندار قیادت” کے بیانیے کو شدید نقصان پہنچایا۔ اس اسکینڈل نے نہ صرف عمران خان کی ساکھ کو دھچکا پہنچایا بلکہ زلفی بخاری کو پارٹی کے اندر بھی ایک مشکوک اور موقع پرست چہرے کے طور پر پیش کر دیا۔
