عمران کی دھلائی حکومت کی بجائے فوجی ترجمان نے کیوں کی؟

 

 

 

پاکستانی فوجی ترجمان کی عمران خان مخالف دھواں دھار پریس کانفرنس ملک بھر میں مسلسل موضوعِ بحث بنی ہوئی ہے اور یہ سوال اُٹھایا جا رہا ہے کہ سول حکومت کے ہوتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر کو خود پریس کانفرنس کیوں کرنا پڑی؟ یہ سوال بھی کیا جا رہا ہے کہ کیا فوجی ترجمان کی کھلی مخالفت سے عمران خان کی مقبولیت مذید نہیں بڑھ جائے گی اور کیا فوج کی جانب سے اتنے سخت ردِ عمل کا مطلب یہ ہے کہ تحریک انصاف پر پابندی لگائی جانے والی ہے؟

 

’قومی سلامتی کے لیے خطرہ‘، ’ذہنی مریض‘، ’خود پسند‘ اور ’اپنی ذات کا قیدی‘۔۔۔ یہ وہ کچھ سخت ترین الفاظ ہیں جو جمعے کو پاکستانی فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری کی پریس کانفرنس میں ان کے منھ سے سنائی دیے۔ یاد رہے کہ عمران خان مسلسل پاکستانی فوج کے سربراہ اور اب چیف آف ڈیفنس فورسز بننے والے فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر پر سخت الزامات لگا رہے ہیں۔ اس کی تازہ مثال ان کی حالیہ ٹویٹ ہے جس میں انہوں نے عاصم منیر کو ایک ذہنی مریض قرار دیتے ہوئے کہا کہ انکی اخلاقی پستی کی وجہ سے پاکستان میں آئین اور قانون مکمل طور پر ختم ہو چکے ہیں۔

 

عمران خان کو منہ توڑ جواب دیتے ہوئے فوجی ترجمان نے اپنی پریس کانفرنس میں کہا کہ اب یہ ’’پاگل شخص‘‘ اور اس کا بیانیہ پاکستان کی قومی سلامتی کے لیے خطرہ بن چکا ہے۔ تاہم بعض حلقے یہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ آخر تحریک انصاف کا بیانیہ ہے کیا، اور کیا واقعی اسٹیبلشمنٹ خود کو اس سے خطرہ محسوس کر رہی ہے۔ سینیئر صحافی اور تجزیہ کار سہیل وڑائچ کہتے ہیں کہ بانی تحریک انصاف نے طویل عرصے سے فیلڈ مارشل عاصم منیر کو اپنا مرکزی ہدف بنا رکھا ہے اور ملک سے باہر بیٹھے پی ٹی آئی حمایتی یوٹیوبرز بھی یہ بیانیہ مسلسل پھیلا رہے ہیں۔ ان کے مطابق عمران خان کی بہنیں بھی مسلسل فوجی قیادت پر تنقید کر رہی ہیں، لہٰذا اس کے نتائج کا ظاہر ہونا فطری تھا۔ سہیل وڑائچ کا کہنا ہے کہ خان کے ایکس پر حالیہ عاصم منیر مخالف بیان نے جلتی پر تیل کا کام کیا جس کے بعد فوجی ترجمان کو خود آ کر تفصیلی ردِعمل دینا پڑا۔

 

عمرانڈو کہلانے والے تجزیہ کار حبیب اکرم کے مطابق اس وقت پاکستان میں دو ہی قوتیں ایسی ہیں جو بیانیہ تشکیل دے سکتی ہیں: ایک فوج، اور دوسری عمران خان، جن کا مؤقف عوام میں تیزی سے مقبول ہوا ہے۔ ان کے بقول 3 نومبر 2022 کو عمران خان پر حملے کے بعد ان کے بیانیے نے رفتار پکڑی اور 9 مئی کے واقعات نے اسے مزید شدت دی۔ وہ کہتے ہیں کہ گزشتہ برس فروری کے انتخابات دراصل عمران خان کی مقبولیت اور سیاسی قوت کا ایک بڑا امتحان تھے، جس میں وہ غیر معمولی طور پر کامیاب رہے۔ حبیب اکرم کے مطابق عمران خان کا بیانیہ اس لیے مقبول ہوا کہ حکومت قانون کی حکمرانی، عدلیہ کی آزادی اور اظہارِ رائے کے تحفظ کے دعوے کرتی ہے، مگر زمینی حالات ان دعووں کی تائید نہیں کرتے۔

 

ادھر دیگر سیاسی مبصرین کہتے ہیں کہ پاکستانی تاریخ میں سیاسی جماعتیں کبھی فوج کے قریب اور کبھی دور ہوتی رہتی آئی ہیں، اور آج بھی صورتحال کچھ مختلف نہیں۔ ماضی میں جب پیپلز پارٹی اور ن لیگ نے میثاقِ جمہوریت کیا تو اسٹیبلشمنٹ نے انہیں کاؤنٹر کرنے کے لیے عمران خان کو آگے بڑھایا اور اقتدار تک دلوایا، مگر پھر حالات نے رخ بدلا اور آج وہی دونوں جماعتیں فوج کی اتحادی ہیں جبکہ عمران خان اپوزیشن میں ہیں۔ معروف صحافی مجیب الرحمان شامی کے مطابق فوجی ترجمان کی پریس کانفرنس پاکستان کی تاریخ کا ایک غیر معمولی واقعہ ہے، کیونکہ سیاسی سوالات کے جواب دینا فوج کا نہیں بلکہ حکومت کا کام ہوتا ہے۔ ان کے مطابق فاطمہ جناح، ذوالفقار علی بھٹو، نواز شریف اور بینظیر بھٹو نے بھی فوجی اسٹیبلشمنٹ پر تنقید کی، مگر جس قدر ذاتی نوعیت کے رقیق حملے عمران خا  نے جنرل عاصم منیر پر کیے ہیں ان کی مثال کم ملتی ہے۔

 

سہیل وڑائچ کے مطابق حالات اس مقام تک پہنچ چکے تھے کہ فوج کو بطور ادارہ براہِ راست جواب دینا پڑا، لیکن وہ توقع رکھتے ہیں کہ ایسی صورتحال مستقل نہیں رہے گی۔ یاد رہے کہ پی ٹی آئی اور فوج کے درمیان تناؤ دو سال سے زائد عرصے سے جاری ہے۔ اسی پس منظر میں یہ سوال بھی اٹھ رہا ہے کہ فوج نے اتنی سخت زبان استعمال کرنے کے لیے وہ وقت کیوں چُنا جب عاصم منیر کو چیف آف ڈیفنس فورسز کا عہدہ سنبھالے صرف دو دن ہوئے تھے۔ سہیل وڑائچ کے مطابق فوجی ترجمان نے تحریک انصاف اور اس کی قیادت کو یہ پیغام دیا ہے کہ عاصم منیر اگلے پانچ برس بھی یہی ہیں اور کسی بھی بیانیے سے انہیں کوئی فرق نہیں پڑے گا۔

 

یاد رہے کہ چیف آف ڈیفنس فورسز کے عہدے پر تقرری کے بعد فیلڈ مارشل عاصم منیر آئندہ پانچ برس تک فوج کے سربراہ بھی رہیں گے۔ تجزیہ کار طلعت حسین کے مطابق اس اعلیٰ تقرری کے بعد ادارے کو اپنے سربراہ کی کردار کشی کا جواب دینا ضروری محسوس ہوا۔ ان کے مطابق اب چیف آف ڈیفنس فورسز کا عہدہ ایک نئی سرخ لکیر بن گیا ہے اور پیغام یہ ہے کہ اس عہدے کے تقدس کا خیال رکھا جائے۔ ان کا کہنا ہے کہ عمران کی زبان درازی اس حد کو پار کر چکی تھی جس کے بعد سخت جواب ناگزیر تھا۔

 

تاہم یہ سوال پھر بھی اٹھ رہا ہے کہ کیا فوجی قیادت اور عمران کے مابین مفاہمت کا کوئی راستہ باقی ہے؟ اس بارے حبیب اکرم کہتے ہیں، پاکستانی سیاست میں کوئی بھی بات حرفِ آخر نہیں ہوتی۔ وہ مثال دیتے ہیں کہ نواز شریف نے لندن میں بیٹھ کر جنرل باجوہ اور جنرل فیض کے نام لے کر تنقید کی تھی، مگر آج انکی جماعت مرکز اور پنجاب میں حکومت میں ہے۔ ان کے مطابق پاکستان میں فاطمہ جناح سے لے کر نواز شریف تک، سیاسی رہنماؤں پر غداری کے الزامات لگتے رہے ہیں۔ تاہم طلعت اس کے برخلاف سمجھتے ہیں کہ سیاسی جماعتیں اگرچہ اکثر گرے ایریا میں کام کرتی ہیں لیکن اب صورتحال سیاہ اور سفید ہو چکی ہے، اور عمران خان کے ساتھ کسی قسم کی مفاہمت کا باب بند ہو چکا ہے۔

 

دوسری طرف پی ٹی آئی کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان اب بھی سمجھتے ہیں کہ باہمی اعتماد بحال کر کے اختلافات کم کیے جا سکتے ہیں اور وہ تمام جمہوری قوتوں سے کردار ادا کرنے کی اپیل کرتے ہیں۔ لیکن مبصرین کے مطابق آنے والے دنوں میں پی ٹی آئی کے لیے مزید سختیاں متوقع ہیں، اور امکان ہے کہ عمرا کی بہنوں کی ان سے ملاقاتیں بھی بند کی جا سکتی ہیں۔ حکومتی وزرا بھی واضح کر چکے ہیں کہ اب جیل سے عمران کے تیز اور اشتعال آمیز سیاسی بیانات باہر آنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

 

ان حالات میں سب سے اہم سوال یہ ہے کہ کیا تحریکِ انصاف پر پابندی لگ سکتی ہے؟ یہ سوال اس لیے بھی زور پکڑ رہا ہے کہ اپنی پریس کانفرنس میں لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری نے نام لیے بغیر عمران خان کے بیانیے کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیا اور کہا کہ ’’اس کی مایوسی اس حد تک بڑھ چکی ہے کہ وہ سمجھتا ہے: میں نہیں تو کچھ نہیں۔۔۔ اب اس کا بیانیہ قومی سلامتی کے لیے خطرہ بن چکا ہے۔‘‘ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا فوج پی ٹی آئی پر پابندی کا مطالبہ کر رہی ہے تو ان کا کہنا تھا کہ فوج ریاست کا ایک ادارہ ہے، اس کا کام اپنا مؤقف بتانا ہے، فیصلہ ریاست نے کرنا ہے، آپ ان سے پوچھیں کہ وہ کیا کریں گے۔

سہیل وڑائچ کا فوج کو ڈنڈے کی بجائے سیاسی علاج کا مشورہ

یہ صورتحال ایک نئے سیاسی دور کی طرف اشارہ کرتی ہے، جہاں ایک طرف عمران کے خلاف فوجی ترجمان کی زبان پہلے سے زیادہ سخت ہو چکی ہے، اور دوسری طرف ریاستی ادارے واضح پیغام دے رہے ہیں کہ اب کسی کو سرخ لکیر عبور نہیں کرنے دی جائے گی۔ آنے والے دنوں میں اس کشمکش کا رخ کس طرف مڑتا ہے، یہی پاکستان کی سیاست کا سب سے بڑا سوال ہے۔

Back to top button