سینیٹ نامی منڈی کے الیکشن کا طریقہ بدلنا ضروری کیوں ہو گیا؟

معروف لکھاری اور تجزیہ کار سینیٹر عرفان صدیقی نے حالیہ سینیٹ الیکشن پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ دارالامرا یعنی سینیٹ اب ایک ایسی منڈی بن چکی ہے جہاں ارب پتی امرا اشرفیاں اچھالتے ہیں اور مطلوبہ ووٹوں کی خریداری کر کے ایوان بالا کے رکن بن جاتے ہیں۔ لہذا ضروری ہے کہ پاکستان میں بھی انڈیا کی طرح سینیٹ الیکشن کا طریقہ کار بدل دیا جائے تاکہ ووٹوں کی خرید و فروخت کا شرم ناک سلسلہ بند ہو۔

عرفان صدیقی کہتے ہیں کہ ہمارے ہاں ’گھوڑا فروشی‘ اور ’گھوڑا خریدی‘ کا کھیل برسوں سے جاری ہے۔ ہر تین سال بعد یہ میلہ سجتا ہے۔ مارچ 2027 میں نصف سینیٹ گھر چلی جائے گی، نصف آئندہ چھ برس کے لئے منتخب ہوگی۔ پھر سے بولیاں لگیں گی، گاہک اشرفیاں اچھالتے سینیٹ نامی منڈی کا رُخ کرینگے۔ ایک بار پھر ووٹ کی بے توقیری اور سینیٹ کی بے حُرمتی کا ماتم ہوگا لیکن اصلاح احوال کی کوئی سبیل شاید ہی نکلے۔

سینٹر عرفان صدیقی روزنامہ جنگ کے لیے اپنے تجزیے میں لکھتے ہیں کہ کہنے کو تو برطانوی پارلیمنٹ کے ایوانِ بالا یاسینٹ کو ’’دارُالامرا‘ کہا جاتا ہے لیکن یہ جھُومر اپنے حقیقی معنی ومفہوم کیساتھ صرف ہماری سینیٹ کی پیشانی پر ہی سجتا ہے جہاں امرا کی امارت چلتی نظر آتی ہے۔ جمعیت علمائے اسلام کے ترجمان حافظ حمداللہ نے حال ہی میں انکشاف کیا تھا کہ خیبرپختون خوا میں سینیٹ کا رُکن بننے کیلئے ایک ووٹ کی قیمت بائیس کروڑ روپے تک پہنچ چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’گرمیِٔ بازار کا یہی عالم رہا تو ایک ثابت قدم رُکنِ صوبائی اسمبلی اپنے ووٹ کے عوض چالیس کروڑ روپے بھی وصول کر سکتا ہے۔‘‘ پنجاب اور سندھ میں اِس طرح کی رونقِ بازار کم کم ہی دکھائی دیتی ہے لیکن خیبرپختون خوا میں سینٹ کے ہر انتخابی عمل کے دوران ایسا حشر بپا ہوتا ہے کہ شاید ہی اُس کی نظیر کسی اور ملک میں ملے۔ اس سلسلے میں دوسرا نمبر بلوچستان کا ہے جہاں عمومی پسماندگی کے باوصف، ووٹ کا نرخ ہوش رُبا حد تک بلند ہوتا ہے۔ 2021ءکے سینٹ الیکشن میں ووٹوں کی منڈی کا ذکر کرتے ہوئے اُس وقت کے وزیر اعظم، عمران خان نے بتایا تھا کہ ’’بلوچستان میں ایک ووٹ کا نرخ ستّر کروڑ روپے تک پہنچ گیا ہے۔‘‘ یہ وہ الیکشن تھے جب مجھے بھی پاکستانی ’’دارُالامرا‘‘ کا رُکن منتخب ہونے کا اعزاز حاصل ہوا تھا۔

عرفان صدیقی بتاتے ہیں کہ میں کاغذاتِ نامزدگی جمع کرانے لاہور پہنچا تو معلوم ہوا کہ انتخابی اخراجات کیلئے ایک خصوصی بینک اکائونٹ کھولنا بھی ضروری ہے۔ میری جیب میں کل تیس ہزار روپے تھے۔ پچیس ہزار روپے سے انتخابی اخراجات کا اکائونٹ کھول لیا۔ کاغذات جمع کرانے گیا تو جانچ پڑتال کرنیوالے ایک معزز رُکن نے مسکراتے ہوئے پوچھا ’’آپ پچیس ہزار روپے سے سینٹ کا الیکشن لڑ لیں گے؟‘‘ میں نے دست بستہ عرض کیا ’’جی کوشش کروں گا۔‘‘ ٹی وی پر ستّر کروڑ کی خبر سُن کر بیگم نے بھی طنز بھرے لہجے میں مجھ سے پوچھا تھا ’’آپ کے پاس ہیں ستّر کروڑ روپے؟‘‘ میں نے ہنستے ہوئے کہا تھا ’’یہ تو صرف ایک ووٹ کیلئے درکار ہیں۔ ایسے کئی ووٹ لینا ہونگے۔‘‘جب مسلم لیگ (ن) کے دوستوں نے بتایا کہ میرے حصّے میں آنے والے پچاس سے زائد ارکان ِاسمبلی کو کھانے پر جمع کرنا ہوگا تاکہ آپ کی اُن سے ملاقات ہوجائے تو میری ریڑھ کی ہڈی میں برفیلی سنسنی سی دوڑ گئی۔ میں دیر تک ریاضی کے فارمولوں سے کھیلتا اور اندازہ لگاتا رہا کہ اِس کھانے پر کتنا خرچ آئے گا؟ وہ تو اچھا ہوا کہ تمام جماعتوں کی مفاہمت سے گیارہ ارکان بغیر مقابلے کے منتخب قرار پائے اور یوں کھانے کی نوبت ہی نہ آئی۔

عرفان صدیقی کہتے ہیں کہ سینیٹ کے انتخابات اور مویشی منڈی جیسا مول تول نئی بات نہیں۔ یہ صرف پاکستان تک محدود بھی نہیں۔ قدیم جمہوریت، امریکہ کو بھی اِس سے پالا پڑا۔ کوئی سوا صدی تک امریکی سینٹ کے انتخابات، ریاستی اسمبلیوں کے ذریعے ہوتے رہے۔ پھر وہاں بھی احساس ہوا کہ کرپشن نے راہ پالی ہے اور پیسہ بولنے لگا ہے۔ چنانچہ آج سے ایک سو بارہ سال قبل، 1913 میں، سترھویں آئینی ترمیم کے ذریعے پرانا طریقۂِ کار بدل دیا گیا۔ اب پچاس امریکی ریاستیں، رقبے اور آبادی سے قطع نظر، ایک سو ارکان پر مشتمل سینٹ کے دو دو ارکان براہِ راست عوامی الیکشن کے ذریعے منتخب کرتی ہیں۔ یوں نہ ہی رہا بانس اور نہ ہی بجتی ہے بانسری۔

عرفان صدیقی کہتے ہیں کہ نصف صدی تک بھارت میں، راجیہ سبھا یعنی سینیٹ کے الیکشن بدعنوانی سے پاک رہے۔ جماعتی نظم وضبط کی چُولیں سختی سے کسی رہیں۔ انتخابی نتائج، متعلقہ ریاستی یا صوبائی اسمبلی میں جماعتی قوت کے عین مطابق سامنے آتے۔ لیکن 1998 میں پہلی بار ایک انہونی ہوئی۔ مہاراشٹر کی صوبائی اسمبلی سے کانگریس نے، اپنی عددی قوت کے پیش نظر دو امیدوار نامزد کئے جن کا انتخاب یقینی تھا لیکن نتائج نے ایک کہرام بپا کر دیا۔ سونیا گاندھی کے قریب سمجھے جانے والے نامزد کانگریسی امیدوار، رام پردھان ہار گئے۔ یہ معرکہ ایک متموّل آزاد امیدوار نے جیت لیا۔ خطرے کی گھنٹیاں بج اٹھیں۔ پارلیمنٹ کی ایک خصوصی کمیٹی نے رپورٹ دی کہ ’’مہاراشٹر ریاستی اسمبلی میں، راجیہ سبھا کے انتخابات کیلئے پیسے اور طاقت نے فیصلہ کن کردار ادا کیا ہے۔اس کے بعد کمیٹی نے خفیہ ووٹنگ کے بجائے اوپن ووٹنگ کا طریقۂِ کار بھی تجویز کیا۔ 2001 میں وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی کے دور میں اِس مقصد کیلئے حکومت ایک مسودۂِ قانون پارلیمنٹ میں لائی تو ’ووٹ کی رازداری‘ پر ضرب لگنے کا واویلا بپا ہو گیا۔ کلدیپ نائر نے آئینی بینچ میں پٹیشن دائر کر دی۔ لیکن ٹھوس دلائل کی بنیاد پر یہ درخواست مسترد کر دی گئی۔

جنرل عاصم کی ٹرمپ سے ملاقات: پاکستان میں کیا کچھ بدلنے والا ہے ؟

لیکن 2003 میں بھارتی پارلیمنٹ نے نیا قانون منظور کرلیا جس کے تحت اب پارلیمنٹ میں انتخابی عمل کے دوران، پریذائیڈنگ اور پولنگ افسران کے ساتھ ہر سیاسی جماعت کا نامزد عہدیدار (یعنی پولنگ ایجنٹ) بھی بیٹھتا ہے۔ ووٹر پر لازم ہے کہ وہ بیلٹ پیپر پر مخصوص نشان لگانے کے بعد اُسے اپنی جماعت کے پولنگ ایجنٹ کو دکھائے۔ اگر وہ ایسا کرنے سے انکار کرے یا نشان اپنی جماعت کے امیدوار کے بجائے کسی اور امیدوار کے حق میں لگا دے تو پولنگ ایجنٹ کی نشاندہی پر، پریذائیڈنگ افسر، یہ بیلٹ پیپر، بکس میں نہیں ڈالنے دیگا۔ وہ اس پر ’’مسترد‘‘ کی مہر لگا کر ایک مخصوص ٹوکری میں پھینک دیگا۔ دو سال پہلے، پھر 20 برس بعد 2023 میں ایک این۔جی۔او نے ’رازداری‘ یعنی (Secrecy) کے آئینی تقاضے کے نام پر یہ قانون سپریم کورٹ میں چیلنج کردیا۔ فل بینچ نے طویل سماعت کے بعد، درخواست مسترد کرتے ہوئے کمال کے جملے لکھے۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ  ’’آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کے لئے ’ووٹ کی رازداری‘ نہایت اہم اصول ہے لیکن اعلیٰ تر اصول یہ بھی ہے کہ آزادانہ اور منصفانہ کے ساتھ الیکشن کی پاکیزگی کو بھی برقرار رکھا جائے۔ اگر ووٹ کی رازداری کرپشن کا سرچشمہ بن جائے تو سورج کی دمکتی روشنی جیسی صداقت اور شفافیت ہی میں اتنی قوت ہوتی ہے کہ وہ اِس کرپشن کا ازالہ کرسکے۔‘‘

Back to top button