بلوچستان میں فوجی آپریشن شروع کرنا ضروری کیوں ہو گیا تھا ؟

فوجی قیادت اور وفاقی حکومت کی جانب سے بلوچستان میں عسکریت پسندوں کو کچلنے کے لیے فوجی اپریشن کے اعلان کے بعد بلوچ قوم پرست رہنماؤں کی جانب سے اس خدشے کا اظہار کیا جا رہا ہے کہ ایک مزید فوجی اپریشن سے بلوچ عوام اور ریاست کے مابین فاصلے مزید بڑھ جائیں گے لہذا اس فیصلے پر نظر ثانی کی جانی چاہیے۔ دوسری جانب حکومت کا یہ موقف ہے کہ ریاست کی جانب سے نرمی دکھانے کے باعث بلوچ عسکریت پسندوں کے حوصلے بڑھ گئے ہیں اور اب وہ دشمن ممالک کی فنڈنگ سے بڑے حملے کرنا شروع ہو گئے ہیں لہذا انہیں روکنا ضروری ہے۔
یاد رہے کہ نیشنل ایکشن پلان کی ایپکس کمیٹی نے بلوچستان میں دہشت گردی کے حالیہ واقعات کے بعد کالعدم بلوچ علیحدگی پسند تنظیموں کے خلاف ایک بڑے فوجی آپریشن کی منظوری دی ہے۔ اجلاس میں بلوچستان میں سرگرم کالعدم عسکریت پسند تنظیموں براس، بلوچ لبریشن آرمی، بلوچ لبریشن فرنٹ اور مجید بریگیڈ کے خلاف ایک جامع فوجی آپریشن کی بھی منظوری دی گئی۔ حکومت اور عسکری قیادت نے یہ فیصلہ ایسے وقت میں کیا ہے جب بلوچستان اور ملک کے دیگر شہروں میں عسکریت پسند گروہوں کی جانب سے سیکیورٹی فورسز اور چینی باشندوں پر حملوں میں اضافہ ہوا ہے۔
محکمۂ داخلہ بلوچستان کے ذرائع کے مطابق رواں سال مارچ سے لے کر اب تک دہشت گردی کے 200 سے زائد واقعات رونما ہوئے ہیں جن میں 207 افراد مارے گئے۔
گزشتہ ہفتے بلوچستان کے مرکزی شہر کوئٹہ کے ریلوے اسٹیشن پر ایک خودکش بم دھماکے میں 14 فوجی اہلکاروں سمیت 26 افراد ہلاک جب کہ 60 سے زائد زخمی ہو گئے تھے۔ اس حملے کی ذمہ داری کالعدم بلوچ علیحدگی پسند تنظیم بلوچ لبریشن آرمی نے قبول کی ہے۔
دوسری جانب بلوچستان کی قوم پرست سیاسی جماعتوں کی جانب سے اس فوجی آپریشن کی شدید مخالفت سامنے آئی ہے۔ بلوچستان میں فوجی کارروائی کے مخالفین تمام مسائل بات چیت کے ذریعے حل کرنے پر زور دے رہے ہیں جبکہ حکومت کا موقف ہے کہ مذاکرات کی پالیسی ناکام ہو چکی ہے اور اب اسلحہ اٹھانے والوں کا مقابلہ بندوق سے ہی کیا جائے گا۔ لیکن بلوچ قوم پرست سیاسی جماعت نیشنل پارٹی کے سربراہ اور سابق وزیرِ اعلیٰ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ کے نزدیک بلوچستان کے مسائل کا حل فوجی آپریشن نہیں۔ بلکہ اس کے لیے متبادل راستے تلاش کرنے چاہیئں۔
ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے اپنے دورِ اقتدار میں بھی علیحدگی پسندوں سے مذاکرات کی سنجیدہ کوششیں کی تھیں۔ وہ مختلف مواقع پر کہہ چکے ہیں کہ علیحدگی پسند تنظیموں سے ان کے مذاکرات 80 فی صد کامیاب ہو گئے تھے تاہم اچانک ان مذاکرات کا سلسلہ رک گیا۔ وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے کہا کہ بلوچستان میں ٹارگٹڈ فوجی آپریشنز کا سلسلہ گزشتہ 20 برسوں سے جاری ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ جب ماضی کے آپریشنز سے کوئی مثبت نتیجہ حاصل نہیں ہوا تو موجودہ آپریشن سے کیا نتیجہ نکلے گا۔
سابق وزیرِ اعلیٰ نے کہا، "ہم اس آپریشن کی مخالفت کرتے ہیں اور مسائل کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے پر زور دیتے ہیں۔” انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں فوجی آپریشن سے مسائل اور مشکلات میں مزید اضافہ ہوگا۔ جب کہ یہ اقدام عوام اور ریاست کے درمیان فاصلے کو مزید بڑھا دے گا۔ ان کے بقول "ریاست کو چاہیے کہ وہ مذاکرات کی حکمت عملی اختیار کرے اور ایسے اقدامات کرے جو عوام کو ریاست سے مطمئن اور خوش رکھنے میں مددگار ثابت ہوں۔”
بلوچستان نیشنل پارٹ کے رہنماؤں نے بھی صوبے میں نئے فوجی آپریشن کی مخالفت اور مذمت کی ہے۔ بی این پی کی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کے رکن غلام نبی مری نے کہا ہے کہ حکومت اور اسٹیبشلمنٹ کو چاہیے تھا کہ وہ موجودہ حالات میں بلوچستان میں فوجی آپریشن کا اعلان کرنے کے بجائے تمام سٹیک ہولڈرز سے مل کر مفاہمت کا اعلان کرتے۔ ان کے بقول پاکستان بننے سے اب تک بلوچستان میں یہ چھٹا فوجی آپریشن ہوگا۔ حکمران اور فوجی قیادت خود سوچیں کہ ان آپریشنز کا کیا فائدہ اور کیا نقصان ہوا ہے۔
غلام نبی مری نے کہا کہ بلوچستان میں پہلے ہی اس طرح کے فوجی آپریشنز جاری ہیں۔ لوگوں کو جبری طور پر لاپتا کیا جارہا ہے جس کی وجہ سے صوبے میں الیکشن اور پارلیمانی سیاست پر یقین رکھنے والے لوگوں کی تعداد کم ہو رہی ہے۔
ان کے بقول، ماضی میں جن آمروں نے بلوچستان میں فوجی آپریشنز کیے آج ان کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے صوبے میں حالات خراب ہیں۔ حکمرانوں کو اب بھی یہ اندازہ نہیں ہو رہا کہ وہ کس ڈگر پر چل رہے ہیں۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ممکنہ طور پر بلوچستان میں فوجی آپریشن کے فیصلے کا مقصد عوام اور غیر ملکی شہریوں بالخصوص چینی باشندوں کو فول پروف سیکیورٹی فراہم کرنا ہے۔ تاہم وہ یہ بھی سمجھتے ہیں کہ حکومت کو بات چیت کے دروازے بھی کھلے رکھنے چاہییں۔
عمران کی احتجاجی کال ایک بار پھر ‘مسڈ’ کال ثابت ہونے کا امکان
بلوچستان کے سینئر صحافی اور تجزیہ کار شہزادہ ذوالفقار کا کہنا ہے کہ نئے فوجی آپریشن کی کون کس طرح تشریح کرتا ہے، یہ ایک اہم بات ہے۔ کیوں کہ بلوچستان کے وزیر اعلیٰ میر سرفراز بگٹی یہ کہتے آرہے ہیں کہ بلوچستان میں کوئی آپریشن نہیں ہو رہا۔ البتہ دہشت گردوں کے خلاف انٹیلی جینس بیسڈ آپریشنز کا سلسلہ ضرور جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایپکس کمیٹی میں جس آپریشن کا فیصلہ ہوا ہے اسکی تفصیلات نہیں آئیں کہ یہ گرینڈ آپریشن ہوگا یا انٹیلی جنس بیسڈ ہوگا یا باقاعدہ کسی مخصوص علاقے میں سیکیورٹی فورسز کو تعینات کیا جائے گا۔
