عمراندار ججز کے لیے اپنے کپتان کو ریلیف دینا ممکن کیوں نہیں رہا؟

حکومت اور مقتدر قوتوں کے ساتھ مذاکرات کے دروازے بند ہونے کے بعد بانی پی ٹی آئی عمران خان کو ریلیف کی فراہمی کی راہیں مسدود ہو چکی ہیں کیونکہ حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کے منہ پھیرنے کے ساتھ ساتھ اعلی عدلیہ میں موجود عمراندار ججز کیلئے بھی اب اپنے فیملی کرش یعنی عمران خان کو کسی قسم کا ریلیف دینا ممکن نہیں رہا۔ جس کے بعد بانی پی ٹی آئی کی جیل یاترا مزید طویل ہونا یقینی ہے۔اب میگا کرپشن کیس میں سزا یافتہ عمران خان اور بشری بی بی نہ صرف رمضان اور چھوٹی عید جیل میں گزاریں گے بلکہ بڑی عید سمیت آنے والی کئی عیدیں بھی ان کی جیل میں گزرنا یقینی ہو گیا ہے، کیونکہ 190 ملین کیس میں ٹھوس شواہد کی بنیاد پر سزا سنائے جانے کے بعد پیرنی اور مرید خاص کو ہائیکورٹ سے ریلیف ملنے کے امکانات محدود ہیں۔ مبصرین کے مطابق عمران خان اور بشری بی بی کو 190 ملین پاؤنڈز کیس میں ناقابل تردید ثبوتوں کی بنیاد پر سزا سنائی گئی ہے جسے کسی بھی عدالت میں جھٹلانا ناممکن ہے جبکہ دوسری جانب حکومت نے اعلی عدلیہ میں ان راستوں کو مکمل بند کر دیا ہے،جہاں سے ماضی میں عمران خان اور پی ٹی آئی کے دیگر رہنماؤں کو تھوک کے حساب سے ضمانتیں ملتی رہی ہیں۔ حتی کہ ملک کے کسی بھی حصے سے گرفتار نہ کرنے کے احکامات بھی دیئے جاتے رہے ہیں۔
غیر جانبدار قانونی ماہرین کے مطابق 190 ملین پاؤنڈز کیس میں احتساب عدالت نے ایسا کوئی جھول نہیں چھوڑا ہے کہ اسلام آباد ہائیکورٹ سے پیرنی اور مرید خاص یعنی بشری بی بی اور عمران خان کو فوری ضمانت مل جائے ، بریت تو دور کی بات ہے۔ خاص طور پر عمران خان کو اس کیس میں فوری ضمانت ملنے کے امکانات اس لیے بھی معدوم ہیں کہ انہیں چودہ برس قید کی سزاسنائی گئی ہے۔ اس معاملے میں خاتون ہونے اور کم میعاد کی سزا ہونے پر شاید بشری بی بی کو رعایت مل جائے۔ لیکن اس کے لئے بھی دیکھنا ہوگا کہ یہ اپیلیں کتنی جلدی سماعت کے لیے مقرر ہوتی ہیں۔ کیونکہ نیب کے فیصلوں کے خلاف بہت سے دیگر لوگوں کی اپیلیں بھی بہت پہلے سے اسلام آباد ہائیکورٹ میں دائر ہیں۔ یوں اگر میرٹ پر اپیلیں سنی جاتی ہیں تو عمران اور بشریٰ کی اپیلوں سے پہلے دیگر اپیلوں کا نمبر آتا ہے۔
تاہم پی ٹی آئی کو اپنی اپیلیں دائر ہوتے ہی سماعت کے لیے مقرر ہونے کی عادت پڑی ہوئی ہے۔ ماضی قریب میں اعلیٰ عدالتوں میں دائر پی ٹی آئی کی اپیلوں کی فوری سماعت کی متعدد مثالیں موجود ہیں۔ اسی لئے اسلام آباد میں موجود پی ٹی آئی ذرائع کے بقول القادر ٹرسٹ کیس کے فیصلے کے خلاف دائر اپیلوں کے حوالے سے بھی پارٹی قیادت کو امید ہے کہ وہ جلد سماعت کے لیے مقرر ہو جائیں گی۔ جبکہ پی ٹی آئی ان اپیلوں کے جواب میں اسلام آباد ہائیکورٹ سے فوری ریلیف کی آس بھی لگائے بیٹھی تھی۔ لیکن اسے خطرے کی بومحسوس ہونے لگی ہے، جس سے اڈیالہ جیل میں قید عمران خان کو بھی آگاہ کر دیا گیا ہے۔ عمران خان کی جانب سے غم و غصہ کا اظہار اور حکومت سے جاری مذاکرات ختم کرنا اس سلسلے کی کڑی ہے کیونکہ عمران خان حکومت سے مذاکرات اس امید پر کر رہے تھے کہ ایک سونوے ملین پاؤنڈ کیس کی سزا سے بچ جائیں گے۔ اب جبکہ دونوں میاں بیوی کو سخت سزائیں ہو چکیں اور انہیں ان کے وکلا نے یہ عندیہ بھی دیدیا ہے کہ اسلام آباد ہائیکورٹ سے جس فوری ریلیف کی توقع کی جارہی تھی، اس کے امکانات نہ ہونے کے برابر ہیں ،لہذا اب بانی پی ٹی آئی کو مذاکرات میں کوئی دلچسپی نہیں رہی اسی لئے وہ مذاکراتی عمل سے پیچھے ہٹ گئے ہیں۔
روزنامہ امت کی ایک رپورٹ کے مطابق پی ٹی آئی ذرائع کا کہنا ہے کہ پارٹی قیادت کو بھی ادراک ہے کہ ایک سو نوے ملین پاؤنڈریفرنس ایک اوپن اینڈشٹ کیس تھا اس کے باوجود پارٹی ماضی قریب میں چلنے والی ٹھنڈی ہواؤں کی بنیاد پر اسلام آباد ہائیکورٹ سے آس لگائے بیٹھی تھی لیکن اب اسے خدشہ ہے کہ ایک تو اس کی اپیل فوری طور پر سماعت کے لیے مقرر نہیں کی جائے گی اور اگر جلد مقررہو بھی گئی تو یہ اپیلیں ایسے ججز کے بینچ کے سامنے لگنا مشکل ہے، جن پر عمران کے لیے نرم گوشہ رکھنے کا الزام لگایا جاتا ہے۔ ان ذرائع کے بقول پی ٹی آئی کو خوف ہے کہ القادر ٹرسٹ کیس میں عمران اور بشری کی اپیلیں سننے کے لیے ڈویژنل بینچ اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق اور ان کے ساتھ نئے دو ججز جسٹس انعام امین منہاس یا جسٹس اعظم خان میں سے کسی ایک پر مشتمل ہوگا۔ پی ٹی آئی کی خواہش ہے کہ اس کی اپیلیں نئے تعینات کردہ ججز کے سامنے نہ لگیں۔ تاہم ان کی یہ خواہش پوری ہوتی دکھائی نہیں دے رہی۔ ذرائع کے مطابق پی ٹی آئی کا یہ خوف اس لیے بھی بڑھ گیا ہے کہ توشہ خانہ ٹو کیس میں عمران خان اور بشری کی بریت کی درخواستیں چند روز قبل ہی اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے نئے تعینات کردہ ایڈیشنل جج جسٹس انعام امین منہاس کے سامنے مقرر کی ہیں۔ اسی طرح عدت نکاح کیس میں عمران خان اور ان کی اہلیہ بشری بی بی کی بریت کے خلاف خاور مانیکا کی اپیل بھی سماعت کے لیے مقرر ہو چکی ہے۔ خاور مانیکا کی اس اپیل کی سماعت بھی اسلام آباد ہائیکورٹ کے نئے جج جسٹس اعظم خان کر رہے ہیں ۔
عمران اور شہباز کا وجود ایک دوسرے کی بقا کے لیے ضروری کیوں ہے ؟
اس صورتحال میں القادر ٹرسٹ کیس فیصلے کے خلاف اسلام آباد ہائیکورٹ سے عمران اور بشری کو ریلیف ملتا مشکل دکھائی دے رہا ہے۔ اس کے بعد پی ٹی آئی کے لیے فریاد کا اگلا فورم سپریم کورٹ ہوگا ، وہاں بھی نئے آٹھ ججز کی تقرری سے متعلق جوڈیشل کمیشن کا اجلاس گیارہ فروری کو ہونے جارہا ہے اور پی ٹی آئی قیادت ابھی سے فکر میں دبلی ہوئی جارہی ہے۔ پس پردہ گیم کے اسرار ورموز سے آگاہ ایک ذریعے کے بقول اسلام آباد ہائی کورٹ کے بعد اگر سپریم کورٹ سے بھی القادر ٹرسٹ کیس کے فیصلے کو برقرار رکھنے کی مہر لگ جاتی ہے تو تب ہی وہ فیصلہ کن مرحلہ آئے گا جب قیدی نمبر آٹھ سو چار کے پاس غیر مشروط ڈیل کرنے کے سوا کوئی راستہ نہیں بچے گا۔
