جسٹس امین اپنی کس خوبی کی وجہ سے آئینی عدالت کے سربراہ بنے؟

 

 

 

جسٹس امین الدین خان کو پاکستان کی پہلی آئینی عدالت کا چیف جسٹس بنائے جانے کی ایک بنیادی وجہ یہ بھی ہے کہ وہ عمران خان دور حکومت میں عتاب کا شکار ہونے والے سابق چیف جسٹس سپریم کورٹ آف پاکستان جسٹس قاضی فائز عیسی کے قریبی ساتھی خیال کیے جاتے تھے، چنانچہ ان کی تقرری کو عدالتی اور سیاسی حلقوں میں غیر معمولی اہمیت دی جا رہی ہے۔

 

یاد رہے کہ آئینی عدالت کی تشکیل 27ویں آئینی ترمیم کا نتیجہ ہے، فیصلہ سازوں نے اس عہدے کے لیے ایک ایسے جج کا انتخاب کیا ہے جو معتدل مزاج ہونے کے علاوہ ادارہ جاتی حدود کا ادراک بھی رکھتا ہے اور ریڈ لائن کراس کرنے سے گریز کرتا ہے۔ سپریم کورٹ میں گزشتہ چند برسوں کے دوران جسٹس امین الدین خان کا کردار خاصا نمایاں رہا ہے۔ جب سابق چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے سپریم کورٹ کے اندر آئینی تنازعات کے مستقل حل کے لیے ایک علیحدہ آئینی بینچ تشکیل دیا تو اس کی سربراہی بھی جسٹس امین الدین خان کے سپرد کی گئی تھی کیونکہ قاضی فائز عیسیٰ ان پر اعتماد کرتے تھے۔ اس دور میں آئینی نوعیت کے کیسز میں دونوں ججوں کی قانونی سوچ اور تشریحات میں یکسانیت رہی، چنانچہ یہی ہم آہنگی آئینی بینچ کے طریقہ کار اور اس کے فیصلوں میں بھی جھلکتی رہی۔

 

دوسری طرف یہ بھی حقیقت ہے کہ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے دور میں سپریم کورٹ کے اندر اختلافات کھل کر سامنے آئے۔ بعض سینئر جج خصوصاً جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس منیب اختر نے مختلف مواقع پر نہ صرف چیف جسٹس اور عدالتی پالیسیوں بلکہ بینچز کی تشکیل اور کوڈ آف کنڈکٹ میں تبدیلیوں پر بھی مسلسل اعتراضات اٹھائے۔ ان کے نزدیک آئینی بینچ کی تشکیل بعض اہم سوالات پیدا کرتی تھی، جن میں یہ بھی شامل تھا کہ کیا نئے عدالتی انتظامات اختیارات کو مرکزیت کی طرف دھکیل رہے ہیں۔ تو ہم اس دور میں جسٹس امین الدین خان اپنے چیف جسٹس قاضی فائز عیسی کے ساتھ کھڑے رہے۔

 

جب 26 ویں آئینی ترمیم کے بعد سپریم کورٹ کا آئینی بینچ بنانے کا فیصلہ ہوا تو اس کی سربراہی جسٹس امین الدین خان کے سپرد کی گئی۔ لیکن جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس منیب اختر نے ان کے مخالفت کی۔ اس وجہ سے سپریم کورٹ ججز کے باہمی اختلافات نے مزید شدت اختیار کی، منصور علی شاہ اور منیب اختر نے اپنے خطوط میں آئینی بینچ کی تشکیل کو عدلیہ کی خودمختاری کے لیے خطرہ قرار دیا۔

 

عدالتی مبصرین سمجھتے ہیں کہ حکومت نے جسٹس امین الدین خان کا انتخاب سوچ سمجھ کر کیا ہے۔ وہ ٹھنڈے مزاج کے حامل جج سمجھے جاتے ہیں جو فیصلہ سازوں کی جانب سے کھینچی گئی سرخ لکیر کراس نہیں کرتے۔ دوسری طرف ان میں یہ خوبی بھی پائی جاتی ہے کہ وہ اداروں سے حتی الامکان تعاون کرتے ہیں، اور عدالت میں لائے گئے سیاسی تنازعات کو بھڑکنے نہیں دیتے۔

 

سیاسی مبصرین کے مطابق آئینی عدالت جیسے نئے ادارے کے لیے حکومت کو ایک ایسے سربراہ کی ضرورت تھی جو قانونی پیچیدگیوں کے ساتھ ساتھ سیاسی حساسیت کو بھی سمجھ سکے، امین الدین خان اس اعتبار سے موزوں ترین انتخاب گردانے گئے۔ ان کا خیال ہے کہ منصور علی شاہ اور منیب اختر جیسے ججوں کی جانب سے آئینی ڈھانچے اور کوڈ آف کنڈکٹ میں تبدیلیوں کی کھل کر مخالفت نے حکومت کو ایک ایسا راستہ اختیار کرنے پر مجبور کیا جس میں کسی قسم کی مزاحمت یا عدالتی بغاوت کا امکان نہ ہو۔ ان حالات میں امین الدین خان وہ واحد شخصیت تھے جو نہ صرف عدالتی ماحول کو متوازن رکھ سکتے تھے بلکہ نئی آئینی عدالت کو مستحکم بنیادوں پر کھڑا بھی کر سکتے تھے۔

 

یاد رہے کہ جسٹس امین الدین خان وفاقی آئینی عدالت کا چیف جسٹس بننے سے پہلے سپریم کورٹ میں 6 سال تک بطور جج کام کرتے رہے۔ وہ 26ویں آئینی ترمیم کے تحت قائم ہونے والے سپریم کورٹ کے آئینی بینچ کے سربراہ بھی تھے۔

سپریم کورٹ میں آنے سے پہلے جسٹس امین الدین سنہ 2011 سے سنہ 2019 تک لاہور ہائی کورٹ کے جج رہے ہیں۔ جسٹس امین الدین سپریم کورٹ کے اس چھ رکنی بینچ کی سربراہی کر رہے تھے جس نے 9 مئی کے واقعات میں سویلین کے مقدمات فوجی عدالتوں میں چلانے سے متعلق انٹراکورٹ اپیلوں کی سماعت کی تھی۔

 

جسٹس امین الدین کا تعلق پنجاب کے جنوبی شہر ملتان سے ہے۔ وہ 1987 میں ہائی کورٹ اور 2001 میں سپریم کورٹ کے وکیل بنے اور بطور وکیل پریکٹس کے دوران دیوانی یعنی سول نوعیت کے مقدمات کی پیروی کرتے تھے۔

جسٹس امین الدین کے علاوہ 6 ججز کا بطور جج وفاقی آئینی عدالت کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا ہے ۔ ان ججز میں سپریم کورٹ کے تین جج شامل ہیں جن میں جسٹس سید حسن اظہر رضوی، جسٹس عامر فاروق اور جسٹس علی باقی نجفی شامل ہیں جبکہ بلوچستان ہائی کورٹ کے چیف جسٹس روزی خان سندھ ہائی کورٹ کے جج جسٹس کریم خان آغا اور پشاور ہائی کورٹ کے جج جسٹس ارشد حسین شاہ شامل ہیں۔

جسٹس منصور نے پارلیمنٹ کی بالادستی کے خلاف استعفی کیوں دیا

وفاقی آئینی عدالت کے قیام کے بعد اس کے پاس وہی مقدمات بھیجے جائیں گے جن میں آئینی نقطے اٹھائے گئے ہوں یعنی ایسے کیسز جن میں ریاست کو فریق بنایا گیا ہو۔ مختلف ہائی کورٹس کے فیصلوں کے خلاف، جن میں انکم ٹیکس اور ریونیو کے مقدمات بھی شامل ہوں گے، مقدمات کی سماعت اب وفاقی آئینی عدالت میں ہی ہو گی۔ اس کے علاوہ اگر سپریم کورٹ میں زیرسماعت کسی کیس میں آئینی نقطہ اٹھایا گیا ہو تو اسے بھی آئینی عدالت میں منتقل کیا جا سکے گا۔ اس کے علاوہ اس عدالت کے پاس از خود نوٹس لینے کا اختیار بھی ہوگا۔

 

Back to top button