سہیل آفریدی 8 فروری کی احتجاجی ریلی سے غائب کیوں تھے؟

پی ٹی آئی اور اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے دی گئی 8 فروری کی احتجاجی کال عوامی دباؤ کا سبب بننے کے بجائے سیاسی کمزوری کی علامت بن گئی۔ نہ ملک گیر پہیہ جام ہو سکا، نہ شٹر ڈاؤن کی وہ شدت دکھائی دی یہاں تک کہ اپوزین قیادت بھی منظر نامے سے مکمل طور پر غائب رہی بلکہ بھڑک باز وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی بھی کہیں دکھائی نہیں دئیے۔ تحریک انصاف کا مضبوط گڑھ سمجھے جانے والے خیبر پختونخوا میں بھی احتجاج منتشر اور محدود رہا، جبکہ پنجاب اور سندھ میں مکمل خاموشی چھائی رہی۔ اس ناکام احتجاج نے نہ صرف پی ٹی آئی اور اپوزیشن اتحاد کی عوامی مقبولیت کی قلعی کھول دی ہے بلکہ اس بیانیے پر مہر ثبت کر دی ہے کہ عوام اب پی ٹی آئی کی جارحانہ اور احتجاجی پالیسیوں سے متنفر ہو چکے ہیں اسی لئے وہ سڑکوں پر نکلنے سے صاف انکاری ہیں۔
خیال رہے کہ اپوزیشن اتحاد کی جانب سے بلندوبانگ دعوؤں کے ساتھ 8 فروری کے احتجاج کی کال دی گئی تھی تاہم احتجاج کے روز پورا ملک بند کرنا تو کجا خیبرپختونخوا میں بھی اس بار احتجاج انتہائی محدود رہا، اپنی حکومت ہونے کے باوجود پی ٹی آئی عوام کو سڑکوں پر لانے میں ناکام رہی جبکہ عمران خان کے نئے وسیم اکرم پلس بھی منظر نامے سے مکمل طور پر غائب رہے جبکہ خیبرپختونخوا کی پولیس پی ٹی آئی کارکنان کی دھلائی کرتے نظر آئی۔ کوہاٹ میں پولیس نے کارکنوں کو روڈ بلاک کرنے سے روک دیا، جس پر یوتھیوں کی پولیس کے ساتھ ساتھ پی ٹی آئی رہنماؤں کے ساتھ تلخ کلامی بھی ہوئی اور سوشل میڈیا پر اس کی ویڈیوز خوب وائرل ہوئیں۔ تاہم، پشاور میں ریلی محدود اور مختصر رہی، یونیورسٹی روڈ اور کارخانو مارکیٹ کے بعض حصے بند تو تھے مگر مجموعی تاثر یہ رہا کہ احتجاج اتوار کے عام کاروباری معمولات کی حد تک محدود رہا۔
بلوچستان کے بیشتر علاقوں میں احتجاج کچھ حد تک کامیاب رہا، خصوصاً شمالی پشتون علاقوں میں، لیکن جنوبی علاقوں اور دیگر بڑے شہروں میں اس کا اثر نہ ہونے کے برابر تھا۔ کوئٹہ میں شٹر ڈاؤن ہڑتال اور سڑکوں پر رکاوٹیں لگائی گئیں، لیکن پولیس نے متعدد کارکنوں کو گرفتار بھی کیا۔ اس کے باوجود، بلوچستان کے بعض علاقوں میں ہڑتال کی شدت اتنی نہیں تھی کہ عوامی دباؤ یا سیاسی اثر ڈالنے میں کامیاب ہو پاتی۔ پنجاب اور سندھ میں تو مکمل خاموشی چھائی رہی۔ شہریوں اور تاجروں نے زیادہ تر احتجاج کو نظر انداز کیا، اور عام شہریوں کے مطابق کاروبار اور دکانیں اپنی معمول کے مطابق ہی چلتی رہیں۔ اس سے واضح ہوا کہ عوام میں پی ٹی آئی اور اپوزیشن اتحاد کے بیانیے کی گونج نہیں رہی اور احتجاجی سیاست اب اپنی فیصلہ کن طاقت کھو چکی ہے۔
مبصرین کے مطابق 8 فروری کے ناکام احتجاج نے پی ٹی آئی اور اپوزیشن اتحاد کی عوامی مقبولیت پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔ اس ناکامی سے معلوم ہوتا ہے کہ عوام اب واضح طور پر پی ٹی آئی کی جارحانہ اور مسلسل احتجاجی سیاست سے متنفر ہو چکے ہیں۔ مبصرین کے مطابق 80 اور 90 کی دہائی میں شٹر ڈاؤن اور پہیہ جام ہڑتالیں کامیاب ہوتی تھیں کیونکہ اُس وقت ٹریڈ یونینز بہت مضبوط ہوا کرتی تھیں۔ سنہ 2026 میں اس نوعیت کے احتجاج کی کال عوام کو متحرک کرنے میں ناکام رہی۔ پشاور میں صرف 20 فیصد دکانیں بند رہیں، وہ بھی احتجاج کی بجائے اتوار کی عام تعطیل کی وجہ سے بند تھیں باقی تمام مارکیٹیں کھلی رہیں ۔ بظاہر ایسا لگتا ہے کہ 8 فروری کا احتجاج پی ٹی آئی یا اپوزیشن اتحاد کا نہیں بلکہ محمود خان اچکزئی کا احتجاج تھا، جو کوئٹہ اور قریبی علاقوں میں تو کامیاب رہا، لیکن ملک گیر اثر دکھانے میں یکسر ناکام نظر آیا۔
اسٹیبلشمنٹ مخالف سہیل آفریدی اچانک ’گڈ بوائے‘ کیوں بن گئے؟
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق 8 فروری کی ہڑتال کی ناکامی کی بڑی وجہ یہ تھی کہ جماعت کے قائدین کھل کر سامنے نہیں آئے اور نہ ہی انھوں نے احتجاج کا کامیاب بنانے کی کوئی کوشش کی۔ ویسے بھی پی ٹی آئی قیادت یہ سمجھ چکی ہے کہ اب ان کی یہ طاقت نہیں رہی کہ وہ اسلام آباد کی جانب مارچ کر سکیں۔ 26 نومبر 2024 کے احتجاج کے بعد انہیں واضح پیغام مل گیا کہ دوبارہ مارچ کرنے کی صورت میں ردِعمل اور زیادہ سخت ہوگا۔ اسی وجہ سے پی ٹی آئی رہنما ممی ڈیڈی احتجاج کرنے پر مجبور ہیں، بعض ناقدین کے بقول وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا کی عوامی احتجاج میں عدم شرکت بھی اس ناکامی کی ایک اور بڑی وجہ بنی۔ تاہم پی ٹی آئی رہنما سہیل آفریدی کی احتجاج میں عدم شرکت بارے مختلف توجیحات پیش کرتے نظر آئے جب اس حوالے سے پی ٹی آئی رہنما شیر علی ارباب سے استفسار کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ ’ سہیل آفریدی اس صوبے کے چیف ایگزیکٹو ہیں اور کیا ایک چیف ایگزیکٹو ہڑتال میں شرکت کرتا اچھا لگے گا؟‘ اس پر جب ان سے پوچھا گیا کہ ماضی میں تو وزیرِ اعلیٰ علی امین گنڈا پور نہ صرف احتجاجی مظاہروں میں شریک ہوتے تھے بلکہ اسلام آباد بھی بڑی تعداد میں لوگوں کے ساتھ پہنچے تھے تو ان کا کہنا تھا کہ ’ماضی اب نہیں رہا ماضی ختم ہو گیا، اب کی بات کریں۔‘ مبصرین کے مطابق سہیل آفریدی کی حکومت مخالف احتجاج میں عدم شرکت سے واضح ہوتا ہے کہ حکومت اور پی ٹی آئی کے مابین ضرور کوئی کھچڑی پک رہی ہے تاہم حقیقت یہ ہے کہ 8 فروری کو پی ٹی آئی قیادت کے منظرنامے سے غائب ہونے کے اقدام نے کارکنوں کے حوصلے اور عوامی حمایت پر براہِ راست اثر ڈالا اور8 فروری کا احتجاج عوامی ردِعمل پیدا کرنے میں یکسر ناکام رہا۔
