بنی گالہ شفٹ کرنے کی بجائے عمران کی جیل بدلنے کا فیصلہ کیوں ہوا؟

پچھلے کئی ماہ سے یہ خبریں سامنے آ رہی تھیں کہ پاکستان تحریک انصاف کے عمران خان کو راولپنڈی کی اڈیالہ جیل سے اسلام آباد میں زیرِ تعمیر نئی جیل منتقل کرنے کی منصوبہ بندی ہو رہی ہے، تاہم اب پہلی بار وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے خود اس کی تصدیق کر دی ہے۔ ان کے مطابق اسلام آباد میں نئی جیل کی تعمیر مکمل ہوتے ہی عمران خان کو وہاں منتقل کر دیا جائے گا۔ وزیر داخلہ کے اس بیان کے بعد یہ بحث شروع ہو گئی ہے کہ کیا عمران خان کو قانونی طور پر راولپنڈی سے اسلام آباد کی جیل میں شفٹ کیا جا سکتا ہے؟
وفاقی وزیر داخلہ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ جیسے ہی اسلام آباد کی ماڈل جیل مکمل اور فعال ہو جائے گی، بانی پی ٹی آئی کو اڈیالہ جیل سے نئی جیل منتقل کر دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ آئندہ تقریباً دو ماہ میں جیل کی تعمیر مکمل ہونے کی توقع ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ چونکہ عمران خان کو سزا اسلام آباد کی عدالت سے سنائی گئی ہے، اس لیے قانونی تقاضوں کے مطابق انہیں اسلام آباد کی حدود میں واقع جیل میں منتقل کر دیا جائے گا۔ وزیر داخلہ نے یہ بھی بتایا کہ نئی جیل کو جدید سہولیات سے آراستہ کیا جا رہا ہے جہاں سکیورٹی، طبی سہولیات اور ویڈیو لنک کے ذریعے عدالتی کارروائی کی سہولت بھی دستیاب ہو گی۔ یاد رہے کہ راولپنڈی کی اڈیالہ جیل حکومت پنجاب کے دائرہ کار میں آتی ہے جبکہ اسلام آباد کی جیل وفاقی حکومت کے دائرہ اختیار میں آئے گی۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ وفاقی وزیر داخلہ کا اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب تحریک انصاف کی جانب سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ عمران خان کو آنکھ کے علاج کی غرض سے جیل سے نکال کر ان کی بنی گالہ رہائش گاہ منتقل کیا جائے۔ تاہم حکومتی مؤقف ہے کہ قانون میں دو مختلف کرپشن مقدمات میں طویل قید کی سزائیں پانے والے قیدی کے لیے اس نوعیت کی رعایت ممکن نہیں۔ حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ ماضی میں نواز شریف اور آصف زرداری بھی لمبی قیدیں کاٹ چکے ہیں لیکن جتنی سہولیات عمران خان کو جیل میں میسر ہیں ان کی ماضی میں کوئی مثال نہیں ملتی۔
برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی نے باخبر ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ حکومت نے عمران کو راولپنڈی کی جیل سے اسلام آباد کی جیل میں شفٹ کرنے کا فیصلہ محض قانونی بنیادوں پر نہیں بلکہ امن و امان کی بگڑتی صورت حال کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا ہے۔ ان کے مطابق جب عمران خان سے ملاقات کے لیے پارٹی رہنما اور اہلِ خانہ اڈیالہ جیل کے باہر جمع ہوتے ہیں تو سخت سکیورٹی انتظامات کرنا پڑتے ہیں جن سے معمولاتِ زندگی متاثر ہوتے ہیں۔
ذرائع کے مطابق ملاقات کے دن اڈیالہ روڈ، جو راولپنڈی شہر کو جیل سے ملانے والی مرکزی شاہراہ ہے، کئی گھنٹوں کے لیے بند کر دی جاتی ہے۔ اس دوران تین کلومیٹر تک ٹریفک معطل رہتی ہے اور قریبی دکانیں بھی سیل کر دی جاتی ہیں۔ اس بندش سے مقامی تاجروں کو شدید مالی نقصان ہوتا ہے جبکہ اڈیالہ روڈ پر واقع قریبی دیہات سے راولپنڈی کے تعلیمی اداروں میں پڑھائی کے لیے جانے والے سینکڑوں طلبا و طالبات کی آمدورفت بھی بری طرح متاثر ہوتی ہے۔ چنانچہ مقامی آبادی اور دکاندار گزشتہ کئی ماہ سے منتخب نمائندوں سے ملاقاتیں کر کے مسئلے کے مستقل حل کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
یاد رہے کہ وزیر داخلہ سے قبل وزیر اعظم کے سیاسی مشیر رانا ثنا اللہ بھی عمران خان کی اڈیالہ جیل سے منتقلی کی تجویز کی تصدیق کر چکے تھے۔ قانونی ماہرین کے مطابق ایک جانب وزیر داخلہ کا مؤقف ہے کہ چونکہ عمران خان کو سزائیں اسلام آباد کی عدالت نے سنائی ہیں اس لیے ان کی اسلام آباد منتقلی قانون کے مطابق ہے، دوسری جانب تحریک انصاف کا کہنا ہے کہ عمران خان کے خلاف زیر سماعت مقدمات اسلام آباد ہائی کورٹ میں چل رہے ہیں، اس لیے انہیں کسی دوسری جیل منتقل کرنا قانونی پیچیدگیاں پیدا کر سکتا ہے۔ تاہم حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ جدید جیل میں ویڈیو لنک سہولت موجود ہوگی اور زیر سماعت کیسز کی سماعت آن لائن بھی ممکن ہے، اس لیے عدالتی کارروائی متاثر نہیں ہوگی۔
عمران خان سے متعلق فرینڈ آف کورٹ کی رپورٹ میں تضاد ہے : بیرسٹر عقیل
عمران خان گزشتہ تقریباً دو برس سے اڈیالہ جیل میں قید ہیں۔ انہیں توشہ خانہ کرپشن کیس اور 190 ملین پاؤنڈز کیس میں دس، دس برس قید کی سزائیں سنائی جا چکی ہیں، جس کے بعد وہ بدستور جیل میں ہیں۔ ان کے وکیل علی بخاری نے خبردار کیا ہے کہ اگر انہیں کسی دوسری جیل منتقل کیا گیا تو تحریک انصاف سخت قانونی ردعمل دے گی اور ہر ممکن آئینی و قانونی راستہ اختیار کیا جائے گا۔ انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ سابق وزیراعظم نواز شریف کو نیب مقدمات میں سزا کے بعد اڈیالہ کے بجائے کوٹ لکھپت جیل منتقل کرنے کی اجازت دی گئی تھی۔
یوں عمران خان کی ممکنہ منتقلی کا معاملہ سیاسی، قانونی اور انتظامی پہلوؤں سے ایک اہم موڑ اختیار کر چکا ہے۔ ایک طرف حکومت اسے قانونی اور سکیورٹی بنیادوں پر ضروری قرار دے رہی ہے تو دوسری جانب تحریک انصاف اسے سیاسی اقدام قرار دیتے ہوئے مزاحمت کا عندیہ دے رہی ہے۔ حتمی فیصلہ اب اسلام آباد کی نئی جیل کی تکمیل اور اس کے بعد ہونے والی عملی پیش رفت سے مشروط ہے۔
