مودی سرکار 250 فوجیوں کی موت تسلیم کرنے پر کیوں مجبور ہوئی؟

پاکستان سے حالیہ جنگ میں اپنے چار پائلٹوں سمیت 250 سے زائد فوجیوں کے مرنے کی خبر کئی ماہ تک چھپانے کے بعد بالاخر اب مودی سرکار نے مجبور ہو کر تسلیم کر لیا ہے کہ آپریشن سندور کے دوران اسے پاکستان کے ہاتھوں بھاری جانی اور مالی نقصان اٹھانا پڑا۔ یہ اس بات کا اعتراف ہے کہ پاکستان آرمی اور ائیر فورس کے جوابی وار نہایت کارگر ثابت ہوئے تھے۔ بھارت نے سرکاری طور پر تسلیم کر لیا ہے کہ پاکستان کی جوابی کارروائی کے دوران مارے جانے والے چار میں سے تین پائلٹس رافیل طیارے اڑا رہے تھے۔
مودی سرکار شاید اور کئی مہینے بھی یہ خبر چھپائے رکھتی لیکن مرننے والے فوجیوں کو اعزازات دینے کے حکومتی فیصلے نے اس حقیقت کو آشکار کر دیا۔ اعزازات کے لیے جاری کی گئی سرکاری لسٹ سے ہلاک ہونے والے انڈین فوجیوں کی اصل تعداد منظر عام پر آ گئی ہے۔ بھارتی میڈیا کے مطابق چار روزہ پاک بھارت جنگ کے دوران لائن آف کنٹرول پر انڈین آرمی کے 250 سے زائد فوجی اہلکار مارے گئے۔ ان میں تین پائلٹس فرانسیسی ساختہ جدید ترین لڑاکا رافیل جہاز اڑا رہے تھے۔
اس کے علاوہ بھارتی فوج نے اعتراف کیا ہے کہ ادھم پور ائیربیس پر اس کا جدید ترین ایس-400 فضائی دفاعی نظام آپریٹ کرنے والے 5 آپریٹرز بھی پاکستانی حملوں میں ہلاک ہوئے۔ ادھم پور میں ائیر ڈیفنس یونٹ کے 9 اہلکاروں کو بھی فوجی اعزاز دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے، اس کا واضح مطلب یہ ہے کہ پاکستان ایئر فورس کی جوابی کاروائی میں بھارت کا اربوں روپے کے عوض روس سے حاصل کردہ جدید ترین ایس 400 ایئر ڈیفنس سسٹم بھی تباہ ہو گیا تھا۔
اسکے علاوہ راجوڑی کی ایوی ایشن بیس پر مارے گئے دو فوجی اہلکاروں اور اڑی سپلائی ڈپو کے کمانڈر سمیت چار مزید فوجی افسران بھی اس لسٹ میں شامل ہیں جنہیں بھارتی حکومت فوجی اعزازات دینے والی ہے۔ یاد رہے کہ عموما جنگوں کے بعد ایسے فوجی افسران کو سرکاری اعزازات سے نوازا جاتا ہے جنہوں نے دشمن کا کامیابی سے مقابلہ کیا ہو۔ تاہم بھارت میں یہ روایت نظر نہیں آتی چونکہ 2019 میں پاک فضائیہ کے ہاتھوں گرائے جانے والے بھارتی طیارے کے گرفتار پائلٹ ابھی نندن کو بھی وطن واپسی پر اعزاز سے نوازا گیا تھا حالانکہ وہ اپنے ملک کے لیے باعث شرمندگی بنا تھا۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ مودی سرکار اور بھارتی فوج نے پہلے تو پٹھان کوٹ اور ادھم پور ائیربیس پر پاکستان ائیر فورس کے جوابی حملوں میں ہونے والے نقصانات کو سختی سے مسترد کر دیا تھا، لیکن اب انہی واقعات میں مارے جانے والے فوجیوں کو اعزازات دیے جا رہے ہیں، بتایا جا رہا ہے کہ مودی سرکار اندرونی دباؤ کے نتیجے میں فوجی ہلاکتوں کو تسلیم کرنے پر مجبور ہوئی۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق ان بھاری فوجی نقصانات کے بعد ہی بھارت نے پاکستان کے ساتھ جنگ بندی پر آمادگی ظاہر کی تھی، بتایا جاتا ہے کہ بھاری فوجی نقصانات کے بعد بھارت اس پوزیشن میں نہیں تھا کہ پاکستان کے ساتھ جنگ جاری رکھتا لہذا امریکی صدر ٹرمپ سے درخواست کی گئی کہ وہ دونوں ممالک کے مابین ثالث بن کر جنگ بندی کروائیں۔ یہ اطلاعات بھی آ رہی ہیں کہ بھارتی فوجی قیادت آپریشن سندور میں ہلاک بھارتی فوجیوں کو اعزازات دینے کے لیے شدید اندرونی دباؤ کا شکار تھی جبکہ مودی سرکار شرمندگی سے بچنے کے لیے یہ معاملہ دبا کر رکھنا چاہتی تھی۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق صرف لائن آف کنٹرول پر بھارتی فوج کو 250 سے زائد ہلاکتوں کا سامنا کرنا پڑا۔ تاہم مودی سرکار نے آپریشن سندھور میں کہیں زیادہ مارے جانے والے فوجیوں میں سے 100 سے زائد فوجی اہلکاروں اور پائلٹس کو ایوارڈز دینے کا فیصلہ کیا ہے، یعنی بھارت اپنی رسوائی چھپانے کیلئے ہلاکتوں کے حوالے سے اب بھی اصل حقائق چھپا رہا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق ان چھپائی گئی ہلاکتوں میں انڈین ایئر فورس یونٹ کے 7 فوجی جوان اور 10 انفینٹری بریگیڈ کے 5 جوان بھی اعزازات کے مستحق قرار دیے گئے ہیں۔ سیکورٹی ذرائع کے مطابق ہیڈکوارٹر 93 انفینٹری بریگیڈ میں 9 مرنے والے فوجی اہلکاروں کو بھی اعزازات دیے جا رہے ہیں، بھارتی فضائیہ کے ہلاک 4 پائلٹس بشمول 3 رافیل طیاروں کے پائلٹس کو بھی اعزازات دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
مائیکرو سافٹ نے پاکستان میں اپنا دفتر بند کرنے کا فیصلہ کیوں کیا؟
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق پٹھان کوٹ اور اُدھم پور سمیت پاکستان کے موثر حملوں کے بعد انڈیا فوری سیز فائر پر مجبور ہوا تھا، تاہم ہلاک بھارتی فوجیوں کے لواحقین پر دباؤ ہے کہ وہ اپنے پیاروں کی تصاویر سوشل میڈیا پر شیئر نہ کریں،۔
