چیف آف ڈیفنس فورسز کے نوٹیفکیشن میں تاخیر کیوں ہوئی؟

سینئر صحافی و تجزیہ کار نجم سیٹھی کا کہنا ہے کہ نوٹیفکیشن کے حوالے سے سول اور ملٹری قیادت میں کوئی اختلاف یا تناؤ نہیں تھا جنرل عاصم منیر کی بطور چیف آف ڈیفنس فورسز مدت ملازمت کے تعین بارے مشاورت اور فیصلہ سازی کی وجہ سے نوٹیفکیشن میں تاخیر ہوئی ہے تاہم نوٹیفکیشن کے اجراء کے بعد مدت ملازمت بارے تمام معاملات کلیئر ہو گئے ہیں، اب جنرل عاصم منیر 2030 تک آرمی چیف اور چیف آف ڈیفنس فورسز کے عہدوں پر براجمان رہیں گے۔
خیال رہے کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر کی بطور آرمی چیف اور چیف آف ڈیفنس فورسز تقرری کا نوٹیفکیشن سامنے آنے کے باوجود سیاسی و عوامی حلقوں میں بحث جاری ہے کہ نوٹیفکیشن میں تاخیر کیوں ہوئی؟ اس حوالے سے مختلف قسم کے دعوے بھی سامنے آ رہے ہیں، تاہم نوٹیفکیشن کے اجراء میں تاخیر بارے نجم سیٹھی کا کہنا ہے کہ نوٹیفکیشن کو غور سے پڑھا جائے تو تاخیر کی وجہ سمجھ آجائے گی نجم سیٹھی کے مطابق آرمی چیف کو پہلے تین سال دئیے گئے تھے پھر حکومت کی جانب سے کہا گیا کہ آرمی چیف مزید 5 سال اس عہدے پر براجمان رہیں گے، جس میں کنفیوژن تھی کہ جنرل عاصم منیر کی 5 سالہ مدت ملازمت کا آغاز ان کی تعیناتی سے ہوگا یا اس وقت سے جب پارلیمنٹ میں فورسز چیفس کی مدت ملازمت 5سال کرنے کی منظوری دی گئی ہے تاہم اب جاری کئے گئے نوٹیفکیشن نے تمام شکوک وشبہات کا خاتمہ کر دیا ہے۔نوٹفکیشن میں واضح طور پر کہاگیا ہے کہ جنرل عاصم منیر کے 5 سال مزید بڑھادئیے گئے ہیں یعنی اب ان کی مدت 2030 تک ہوچکی ہے یعنی 20230تک وہ آرمی چیف اور چیف آف ڈیفنس فورسز کے عہدوں پر موجود رہیں گے،
نجم سیٹھی کے بقول نوٹیفکیشن کے حوالے سے سول ،ملٹری میں کوئی تناؤ نہیں تھا، اس حوالے فیک نیوز پھیلائی گئیں، پروپیگنڈا کیا گیا۔مجھے اس بات کا پتہ ہے کہ میاں نواز شریف کسی بھی سٹیج پر اسٹیبلشمنٹ سے ٹکر نہیں لیں گے۔ نجم سیٹھی کا مزید کہنا تھا کہ دیگر ایشوز کے ساتھ ساتھ نئی تقرریوں کے اختیارات کے حوالے سے بھی تمام مسائل حال کر لئے گئے ہیں اسی وجہ سے نوٹیفکیشن کے اجراء میں تاخیر ہوئی ہے۔ نجم سیٹھی کے مطابق نواز شریف اس وقت کسی بھی طرح اسٹیبلشمنٹ سے ٹکر نہیں لیں گے۔ نواز شریف اس چلتے نظام کو غیرمستحکم نہیں کریں گے نوازشریف کسی صورت کوئی ایسا مطالبہ نہیں کرینگے جو اسٹیبلشمنٹ کو نامنظور یا رد کرنا پڑے ، ایسی چیز نہیں ہوگی کیونکہ اس وقت سب کیلئے عمران خان سیریس مسئلہ ہے جبکہ دوسری جانب نواز شریف کو بھی یہ کنفرم ہے کہ وہ اب کبھی بھی وزیراعظم نہیں بن سکتے ۔ اس کے ساتھ ساتھ نواز شریف کو اس بات کی بھی یقین دہانی کروائی گئی ہے کہ اگر سلسلہ ایسے ہی چلتا رہا تو اگلے انتخابات کے بعد بھی مریم نواز یا شہباز شریف ہی اگلے وزیراعظم بنیں گے.
دوسری جانب سینئر صحافی انصار عباسی کے مطابق حکومت کی جانب سے نوٹیفکیشن جاری کرنے کے بعد کئی مہینوں سے جاری وہ پروپیگنڈا دم توڑ گیا جو سیاسی وابستگیوں کے حامل سوشل میڈیا سیلز سے چلایا جا رہا تھا کہ ان کی مدتِ ملازمت کیلئے نومبر 2025 کے بعد توسیع درکار ہے۔ وزارتِ دفاع کی جانب سے 5؍ دسمبر 2025ء کو جاری کردہ نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ یہ تقرری صدرِ مملکت نے وزیر اعظم کی ایڈوائس پر آئین کے آرٹیکل 243؍ اور پاکستان آرمی ایکٹ 1952ء کے سیکشن 8 اے کے تحت کی ہے۔ کئی ماہ سے مسلسل یہ بیانیہ پھیلایا جا رہا تھا کہ آرمی چیف جنرل عاصم منیر نومبر 2025 کے آخر میں ریٹائر ہو جائیں گے تاوقتیکہ انہیں نئی توسیع نہ دی جائے۔ انصار عباسی کے مطابق اس بحث میں 2024ء کی وہ قانون سازی نظر انداز کر دی گئی جس کے تحت تینوں سروس چیفس یعنی آرمی، نیوی اور ایئر فورس کی مدتِ ملازمت تین سے بڑھا کر پانچ سال کی گئی تھی۔ انہی ترامیم کے تحت جنرل عاصم منیر کی بطور آرمی چیف مدتِ ملازمت پہلے ہی قانوناً نومبر 2027 تک آگے جا چکی ہے۔ تاہم، 27ویں ترمیم کے نتیجے میں مسلح افواج کے سربراہ کے نئے عہدے کی تخلیق کے بعد ایک مرتبہ پھر ابہام پیدا ہوا اور یہ ابہام مرکزی میڈیا تک بھی پہنچ گیا۔ 27ویں ترمیم میں یہ تصور شامل تھا کہ چیف آف آرمی اسٹاف بیک وقت چیف آف ڈیفنس فورس کا عہدہ بھی سنبھالے گا۔ اس کے بعد پاکستان آرمی ایکٹ میں ایک اہم شق کا اضافہ کیا گیا جس میں کہا گیا کہ … چیف آف آرمی اسٹاف جو بیک وقت چیف آف ڈیفنس فورس بھی ہوں گے، چیف آف ڈیفنس فورسز کی پہلی تقرری کی مدتِ ملازمت کا آغاز اس عہدے کے نوٹیفکیشن کے اجراء کی تاریخ سے ہوگا۔ قانون میں واضح ہونے کے باوجود، مرکزی میڈیا میں بھی یہ تاثر دہرایا گیا کہ نوٹیفکیشن تاخیر کا شکار ہے، جس سے غیر ارادی طور پر وہی غلط بیانیہ مضبوط ہوا کہ یہ نوٹیفکیشن نومبر کے آخر تک جاری ہو جانا چاہئے تھا۔حالانکہ قانوناً حکومت کسی مخصوص تاریخ پر نوٹیفکیشن جاری کرنے کی پابند نہیں تھی اور نہ ہی اس دستاویز کی عدم موجودگی سے کوئی عہدہ خالی ہوا تھا اور نہ نوٹیفکیشن میں تاخیر سے کوئی قانونی خلا پیدا ہوا تھا۔
جنرل عاصم منیر طویل ترین عرصے تک آرمی چیف رہیں گے
انصار عباسی کے مطابق 5؍ دسمبر کو جاری ہونے والے نوٹیفکیشن کی قابل ذکر بات یہ ہے کہ اس میں کسی طرح سے بھی پرانی تاریخ کا حوالہ نہیں دیا گیا اور 5؍ دسمبر 2025ء کو ہی فیلڈ مارشل عاصم منیر کی بطور چیف آف آرمی اسٹاف اور چیف آف ڈیفنس فورس پانچ سالہ مدتِ ملازمت کا موثر آغاز قرار دیا گیا ہے۔ اس پیشرفت نے ایک مرتبہ پھر واضح کر دیا ہے کہ آرمی چیف 2030تک اپنے عہدے پر براجمان رہیں گے۔
