معاہدے کے باوجود 26 معطل PTI اراکین کی بحالی کیوں لٹک گئی؟

حکومت اور اپوزیشن کے مابین اتفاق رائے کے باوجود مریم نواز سے گستاخی کی پاداش میں معطل پی ٹی آئی کے 26 اراکین کی بحالی کا معاملہ ایک بار پھر کھٹائی میں پڑ گیا ہے۔پنجاب اسمبلی میں گالی گلوچ، احتجاج، معطلی، اور پھر "مذاکراتی اتفاق” جیسے دلفریب الفاظ تو سننے کو ضرور ملے، تاہم اس حوالے سے عملاً پیش رفت سپیکر پنجاب اسمبلی ملک احمد خان کی غیر موجودگی کے باعث تاخیر کا شکار ہوتی ہوئی نظر آتی ہے۔ پی ٹی آئی رہنماؤں نے معاہدہ ہونے کے باوجود اراکین کو بحال نہ کرنے پر حکومتی طرز عمل کو سیاسی چال قرار دے دیا ہے۔
واضح رہے کہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی بجٹ تقریر کے دوران اپوزیشن نے اسمبلی میں حکومت کے خلاف شدید نعرے بازی کرتے ہوئے احتجاج کیا تھا۔ اپوزیشن ارکان نے نہ صرف سپیکر کے ڈائس کا گھیراؤ کیا تھا بلکہ سپیکر کے مسلسل روکنے کے باوجود وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز بارے نازیبا الفاظ بلند کرتے ہوئے انھیں جانوروں سے تشبیہہ دے کر نعرے بازی بھی کی تھی۔ جبکہ جرمانے کا سامنا کرنے والے سولہ اراکین نے بجٹ تقریر کے دوران وزیر خزانہ پر بجٹ دستاویزات بھی پھینکی تھیں۔ ہلڑ بازی کے دوران اسمبلی کے مائیک وغیرہ بھی ٹوٹ گئے تھے
جس کے بعد مسلم لیگ ن سے تعلق رکھنے والے سپیکر پنجاب اسمبلی ملک احمد خان نے اپوزیشن کے 26 ارکان کو 15 اجلاسوں کے لیے پنجاب اسمبلی کی کارروائی میں حصہ لینے سے روک دیا تھا۔ اس حوالے سے سپیکر پنجاب اسمبلی کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی ارکان کی ایوان میں ہنگامہ آرائی، نعرے بازی، دھکم پیل اور دستاویزات پھاڑنے کے باعث یہ تادیبی کارروائی کی گئی ہے۔ بعدازاں سپیکر پنجاب اسمبلی نے بدتمیز پی ٹی آئی ارکان اسمبلی کی نا اہلی کے لیے ریفرنسز بھی الیکشن کمیشن کو بھیج دئیے تھے۔ جس کے بعد حکومت اور اپوزیشن میں کشیدگی میں مزید اضافہ ہو گیا تھا۔ بعد ازاں دونوں اطراف سے سامنے آنے والے بیانات نے جلتی پر تیل کا کام کیا تھا۔ تاہم بعدازاں مختلف سیاسی رہنماؤں کی کوششوں سے نہ صرف حکومت اور پی ٹی آئی کے مابین سیز فائر ہوا تھا بلکہ دونوں جماعتیں مذاکرات کی میز پر آنے پر بھی آمادہ ہو گئی تھیں تاہم مذاکرات کے ابتدائی دور بے نتیجہ رہے۔
تاہم اب پنجاب اسمبلی میں حکومت اور اپوزیشن کے درمیان کئی ہفتوں سے جاری کشیدگی میں کمی لانے کی کوششیں بالآخر کسی نہ کسی مثبت نتیجے کی جانب بڑھتی دکھائی دے رہی ہیں۔ وزیر اعلیٰ مریم نواز کے خلاف نازیبا زبان استعمال کرنے پر معطل کیے گئے پاکستان تحریک انصاف کے 26 ارکان کے معاملے پر ہونے والے مذاکرات کے تیسرے دور کو دونوں جانب سے ’’نتیجہ خیز‘‘ قرار دیا جا رہا ہے۔پنجاب اسمبلی کے حالیہ بحران میں پہلی بار حکومت اور اپوزیشن نے گالی گلوچ، نعرے بازی، اور ایک دوسرے پر ذاتی حملوں سے بھرپور اجلاسوں کے بعد بالآخر "اسمبلی کی تقدیس” کو برقرار رکھنے کے عزم کا اظہار کر دیا ہے۔
صوبائی وزیر مجتبیٰ شجاع الرحمن کے مطابق اپوزیشن نے 1997 کے رولز آف بزنس اور خاص طور پر رول 223 کی پاسداری کا وعدہکرتے ہوئے تسلیم کیا ہے کہ ایوان میں وزیر اعلیٰ کے خطاب کے دوران احتجاج یا نعرے بازی نہیں کی جائے گی جبکہ لیڈر آف دی اپوزیشن کی بات کو سنجیدگی سے سنا جائے گا۔مجتبیٰ شجاع الرحمٰن کے مطابق مذاکرات میں اتفاق کیا گیا ہے کہ پی ٹی آئی کےمعطل اراکین کو آئندہ بدتۃذیبی نہ کرنے کے وعدے پر بحال کر دیا جائے گا جبکہ ایوان میں نازیبا الفاظ اور گالی گلوچ کی روایت ختم کی جائے گی۔ اور "ایتھکس کمیٹی” کو دوبارہ فعال بنایا جائے گا جو اخلاقی حدود کی نگرانی کرے گی، اور اس کے فیصلے حتمی تصور ہوں گے۔ حکومت اور اپوزیشن، دونوں بزنس ایڈوائزری کمیٹی کے فیصلوں کی روشنی میں ایوان کے اجلاس کو آگے بڑھائیں گے۔
تاہم، اپوزیشن کے 26 معطل ارکان کی بحالی کا معاملہ سپیکر پنجاب اسمبلی ملک احمد خان کی واپسی تک موخر ہو گیا ہے۔ مذاکراتی کمیٹی کے تیسرے اجلاس میں اگرچہ اخلاقی ضوابط پر اتفاق اور گالی گلوچ سے پرہیز کی بات کی گئی ہے لیکن معطل اراکین کی عملی بحالی اب بھی "سپیکر کی واپسی” سے مشروط ہے تاہم اس وقت تک، اسمبلی سیکریٹریٹ کو ان معطل ارکان کے خلاف کوئی کارروائی نہ کرنے کی ہدایت جاری کر دی گئی ہے۔
سینیٹ الیکشن: PTI امیدواروں کی بغاوت، کاغذات واپس لینے سے انکار
دوسری جانب اپوزیشن لیڈر احمد خان بھچر کا کہنا ہے کہ اپوزیشن اپنے موقف پر قائم ہے اور اگر ارکان کی بحالی نہ کی گئی تو "اسمبلی باہر لگائی جائے گی”۔ انہوں نے واضح کیا کہ انھوں نے کسی سے کوئی معافی نہیں مانگی گئی اور نہ ہی معافی مانگی جائے گی۔ احمد خان بھچر کا کہنا تھا اگر حکومت ایوان میں اپوزیشن کی موجودگی چاہتی ہے تو ارکان کو بحال کرنا ہوگا۔ تاہم حکومت کا مؤقف ہے کہ تمام فیصلے قواعد و ضوابط اور اسپیکر کی رولنگ کے مطابق ہوں گے۔ اسپیکر کی واپسی کے بعد آرٹیکل 63 اور 64 کے تحت رولنگ دی جائے گی، جس سے واضح ہوگا کہ آیا اپوزیشن کے یہ معطل ارکان ایوان میں باقاعدہ طور پر واپس آ سکتے ہیں یا نہیں۔ مذاکراتی کامیابی کے باوجود یہ حقیقت اپنی جگہ قائم ہے کہ معطل ارکان کی بحالی صرف سپیکر کی رسمی منظوری پر منحصر ہے۔ مبصرین کے مطابق حکومت اور اپوزیشن کے مابین اخلاقی معاہدہ تو طے پا گیا ہے تاہم آنے والے دنوں میں پنجاب اسمبلی کی فضا اس بات کا فیصلہ کرے گی کہ یہ "نیا سیاسی کلچر” صرف زبانی وعدہ ہے یا واقعی پالیسی کا حصہ بن چکا ہے۔ فی الحال پی ٹی آئی اراکین کی بحالی کی گیند صرف اور صرف سپیکر کے کورٹ میں ہے۔
