FIR میں ذات اور برادری لکھنے پر پابندی کیوں عائد ہوئی ؟

 

 

 

سپریم کورٹ نے ذات پات کے چکر میں پھنسی پولیس کے متعصبانہ رویے کے آگے بند باندھتے ہوئے کسی بھی جرم کیخلاف لکھی جانے والی ایف آئی آرز میں ذات اور برادری نہ لکھنے کا حکم جاری کر دیا ہے، قانونی ماہرین کے مطابق عدالت عظمیٰ کا یہ فیصلہ محض الفاظ کی تبدیلی تک محدود نہیں بلکہ نظامِ انصاف کی سمت درست کرنے کی ایک سنجیدہ کوشش ہے۔ اس فیصلے سے سپریم کورٹ نے واضح پیغام دے دیا ہے کہ شہری کی پہچان اس کے خاندانی پس منظر، پیشے یا سماجی درجہ بندی سے نہیں بلکہ اس کی قانونی حیثیت سے ہونی چاہیے۔ قانونی حلقوں کا کہنا ہے کہ اس فیصلے کے اثرات صرف کاغذی کارروائی تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ اس سے پولیس کے رویوں میں موجود تعصب کی گنجائش کم ہوگی اور کمزور و محنت کش طبقات کے خلاف امتیازی سلوک کی حوصلہ شکنی ہوگی۔ اب عدالتی اور انتظامی اہلکار زیادہ غیرجانبدار اور مساوی بنیادوں پر کام کرنے کے پابند ہوں گے۔ یوں یہ حکم نہ صرف ابتدائی رپورٹ لکھنے کے انداز میں تبدیلی لائے گا بلکہ پولیس کلچر، عدالتی رویوں اور مجموعی معاشرتی سوچ میں بھی ایک اہم اور دیرپا موڑ ثابت ہو سکتا ہے۔

 

 

خیال رہے کہ پاکستان میں پولیس ریکارڈ اور ایف آئی آر میں شہری کی شناخت کے ساتھ ذات، برادری یا پیشہ درج کرنے کی روایت برصغیر کے نوآبادیاتی نظام کی باقیات سمجھی جاتی ہے۔ جب بھی پولیس کسی جرم کی رپورٹ درج کرتی ہے یا کسی مقدمے کی ایف آئی آر کاٹتی ہے، تو مدعی یا گواہ کا تعارف والد کے نام، علاقے اور اہمیت کے مطابق ذات یا پیشہ کے ساتھ درج کیا جاتا ہے۔ بظاہر یہ عمل شہری کی مکمل شناخت فراہم کرنے کے لیے کیا جاتا  ہے، لیکن جنوبی ایشیائی معاشروں میں ذات، برادری یا پیشہ کی بنیاد پر کسی شخص کی شناخت محض معلوماتی نہیں رہتی، بلکہ یہ پولیس اور دیگر حکومتی اداروں کے رویے پر بھی اثر ڈالتی ہے۔ مثال کے طور پر پنجاب کے کسی گاؤں میں اگر پولیس رپورٹ میں مدعی یا گواہ کے ساتھ ’چوہدری‘، ’گجر‘،  ’جٹ‘، ’وڑائچ‘، ’رانجھا‘ اور ’راجپوت‘ جیسی ذات لکھی گئی ہو، تو اکثر پولیس کا رویہ نسبتاً نرم یا معاونت آمیز ہوتا ہے۔ لیکن اگر وہی فرد کسی پیشہ ورانہ طبقے سے تعلق رکھتا ہو، جیسے ’موچی‘، ’کمہار‘، ’نائی‘ یا ’مسلم شیخ‘، تو پولیس اور دیگر اداروں کا رویہ سخت اور بعض اوقات تعصب آمیز ہوجاتا ہے۔ مبصرین کے مطابق یہ روایت دراصل برصغیر میں انگریز دور سے منتقل ہو کر پاکستان میں برقرار رہی، جہاں ریاستی ادارے شہریوں کی ذات اور سماجی حیثیت کو اہمیت دیتے ہوئے قانونی دستاویزات میں درج کرتے تھے۔ اس عمل نے معاشرتی امتیاز کو تقویت دی، اور ایک ایسے نظام کو جنم دیا جو رسمی طور پر قانونی نظر آتا تھا لیکن حقیقت میں نسلی اور سماجی تفریق پر مبنی تھا۔

ٹرائل کے بغیر موت بانٹنے پر مریم حکومت شدید تنقید کی زد میں

تاہم سپریم کورٹ آف پاکستان نے اب ایک تاریخی فیصلے کے ذریعے اس رواج کو ختم کرنے کی راہ ہموار کر دی ہے اور ایف آئی آر میں ’برادری، ذات یاپیشے کے اندراج کو غیر قانونی اور غیر اخلاقی قرار دے دیا ہے۔ عدالتی فیصلے کے مطابق کسی شہری کو اس کی ذات کے حوالے سے شناخت دینا نہ صرف انسانی وقار کی خلاف ورزی ہے بلکہ آئینی اور قانونی طور پر بھی غلط ہے۔ قانون میں کسی شخص کو اس کی برادری یا پیشہ کی بنیاد پر نشانہ نہیں بنایا جا سکتا۔ سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں واضح کیا کہ یہ روایتی رویہ پاکستان کے آئین کے آرٹیکل 25، 26 اور 33 کے منافی ہے، جو ہر شہری کو مساوات، انسانی وقار اور امتیاز سے بچاؤ کی ضمانت دیتا ہے۔‘

عدالت نے یہ بھی یاد دہانی کرائی کہ بین الاقوامی انسانی حقوق کے قوانین کے مطابق بھی کسی شہری کو اس کی ذات، مذہب یا سماجی پس منظر کی بنیاد پر تفریق کا نشانہ نہیں بنایا جا سکتا۔عدالت نے تمام صوبوں اور اسلام آباد کے انسپکٹر جنرلز کو واضح ہدایات جاری کی ہیں کہ ایف آئی آر، چالان، گرفتاری کی رپورٹس یا کسی بھی قانونی دستاویز میں کسی بھی شخص کی ذات، برادری، قبیلے یا تبدیلی مذہب کا ذکر نہ کیا جائے۔ خیال رہے کہ سپریم کورٹ اس سے قبل پولیس افسران کے نام درخواستوں میں ’بخدمت جناب‘ جیسے الفاظ نہ لکھنے کے بھی احکامات جاری کر چکی ہے۔ تاہم اب دیکھنا ہے کہ آنے والے وقت میں پولیس سپریم کورٹ کے احکامات پر کس حد تک عملدرآمد کو یقینی بناتی ہے۔

Back to top button