عمران خان کی جیل ملاقاتوں پرغیراعلانیہ پابندی کیوں لگ گئی؟

عمران خان کی بہنوں کی جانب سے اڈیالہ جیل کو سیاسی اکھاڑا بنانے کے بعد حکام نے پی ٹی آئی رہنماؤں کی عمران خان سے ملاقاتوں پر غیر اعلانیہ پابندی عائد کر دی ہے۔ گزشتہ تین ہفتوں کے دوران نہ صرف پی ٹی آئی قیادت بلکہ عمران خان کی بہنوں اور اہلِ خانہ میں سے کسی ایک فرد کو بھی بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کی اجازت نہیں دی گئی تاکہ جیل کے سلاخوں کے پیچھے قید عمران خان کی انتشار پسندی کو روکا جا سکے۔ تاہم اس کے باوجود اڈیالہ جیل کے باہر عمرانڈوز کی شر انگیز کارروائیوں میں اضافہ ریکارڈ کیا جا رہا ہے۔
اس حوالے سے سینئر صحافی شکیل انجم کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی کی ملک میں انتشار اور بدامنی پھیلانے کی خواہش کوئی نئی بات نہیں ماضی قریب میں بھی تحریک انصاف اور اس کے ’’قائد‘‘ عمران خان پر غیر ملکی ایجنڈے کی تکمیل کے لیے ملک میں سیاسی و انتظامی انتشار پیدا کرنے، ریاستی اداروں کو کمزور کرنے اور سلامتی کے خلاف سازشوں پر عمل درآمد کے الزامات سامنے آتے رہے ہیں۔ پی ٹی آئی کی انہی مکروہ سرگرمیوں کے نتیجے میں ملک میں معاشی عدم استحکام نے سر اٹھایا جس کے بعد قومی سلامتی کے حوالے سے سنگین خدشات جنم لینے لگے۔ شکیل انجم کے بقول یہی وہ دور تھا جب پی ٹی آئی حکومت مختلف سیاسی حربوں کے ذریعے عوام اور ریاستی ڈھانچے کو بغاوت کی طرف دھکیل کر مخصوص مفادات کے حصول اور ملک کو تین حصوں میں تقسیم کرنے کے خفیہ منصوبے کی بنیاد رکھ دی تاہم ریاستی اداروں کی بروقت اور موثر کارروائی کی وجہ سے عمرانی ٹولہ اپنی پاکستان مخالف سازش میں کامیاب نہیں ہو سکا۔
تاہم ریاستی اداروں اور وفاقی حکومت کے ٹھوس اقدامات کے باوجود تحریک انصاف اپنی ریاست مخالف سرگرمیوں سے پیچھے ہٹنے پر آمادہ دکھائی نہیں دیتی، اڈیالہ جیل کے باہر پی ٹی آئی کی بڑھتی ہوئی پرتشدد سرگرمیاں، دہشت گرد تنظیموں سے وابستہ عناصر کے جلسوں میں شمولیت، اور اسلام آباد پر مسلح یلغار کے دوران جیل پر حملے اور عمران خان کو بزور طاقت چھڑانے کی دھمکیوں نے سیکیورٹی اداروں کے لیے صورتحال کو بے حد مشکل بنا دیا ہے۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں کیلئے جیل کے باہر امن و امان برقرار رکھنا ایک چیلنج بن چکا ہے۔ جس کی وجہ سے اب عمران خان کی ملاقات پر غیر اعلانیہ پابندی لگانے کا فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ شرپسند عناص کو پٹا ڈالا جا سکے۔
سینئر صحافی شکیل انجم کے مطابق پاکستان میں جیلوں کے اندر سیاسی مخالفین کو سختیاں دینے کی روایت کوئی نئی بات نہیں یہ طرز عمل سیاسی اور فوجی حکومتوں کے دور سے جاری ہے مگر اس کی انتہا تحریک انصاف کے 2014 کے دھرنوں اور بعدازاں 2018 میں براہ راست اسٹیبلشمنٹ کے سہارے اقتدار میں پہنچ کر اپنے ’’مشن‘‘ کا آغاز کرنے سے ہوئی۔ تاہم آج جو مراعات اور آسائشیں عمران خان کو حاصل ہیں ماضی میں سیاسی رہنما ان سہولیات کا تصور بھی نہیں کر سکتے تھے۔ عمران خان کو ’’پرتعیش قید‘‘ کے دوران ایسی ایسی سہولیات دستیاب ہیں جو عام قیدی تو درکنار آزاد شہریوں کو بھی میسر نہیں۔ اس کے باوجود پی ٹی آئی کی جانب سے عمران خان کی قید تنہائی کا رونا رویا جاتا ہے۔ تاہم جیل حکام عمران خان کی ’’قید تنہائی‘‘ کو محض ایک سیاسی شوشہ قرار دیتے ہیں۔
شکیل انجم کے بقول جیل میں اصل قید تنہائی بھٹو کو دی گئی تھی جبکہ عمران خان کو تمام تر مراعات کی ساتھ ’’پرتعیش قید‘‘کی’’نام نہاد سزا‘‘دی گئی ہے۔ جہاں عمران خان کی قید تنہائی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ شکیل انجم کا مزید کہنا ہے کہ ذوالفقار علی بھٹو کو جس سیل میں رکھا گیا تھا وہ ایک کمرے کے ساتھ ایک لیٹرین اور ایک چھوٹے صحن پر مشتمل تھا جبکہ عمران خان کو جیل میں آٹھ کمروں پر مشتمل پوری بیرک دی گئی ہے جس میں ایک کمرے میں ورزش کی مکمل اور جدید مشین موجود ہے، دوسرا کمرہ لائبریری کے لئے مختص ہے جہاں عمران خان کی ڈیمانڈ اور خواہش کے مطابق کتابیں اور میگزینز فراہم کئے جاتے ہیں جبکہ بھٹو کو صرف سفید کاغذ حاصل کرنے کے لئے جیل حکام سے بار بار درخواستیں کرنی پڑتی تھیں۔
عمران خان کیلئے اڈیالہ جیل میں موجود تیسرا کمرہ میٹگز کے لئے مختص ہے جہاں عمران خان اس خوف سے سیاسی ملاقاتیں کرنے سے اجتناب کرتے ہیں کہ کہیں ملک کے خلاف سازشوں کے راز فاش نہ ہو جائیں۔ جیل میں ایک کمرہ کچن کے طور پر استعمال ہوتا ہے جہاں عمران خان کی ’’خوش خوراکی‘‘ کو مدنظر رکھتے ہوئے دیسی گھی، دیسی مرغ اور مٹن سے’’قید تنہائی‘‘ میں زندگی گزارنے والے قیدی کی تواضع کی جاتی ہے۔ جیل میں پانچواں کمرہ بیڈ روم کے طور پر استعمال ہوتا ہے جہاں قیدی نمبر 804 تمام تر آسودگی کے ساتھ استراحت فرماتے ہیں۔اس کے باوجود تحریک انصاف عمران خان کی آسودگی سے مطمئن نہیں حالانکہ عدلیہ کی نوازشوں سے وہ جیل میں بھی ایسی پر تعیش زندگی گزار رہے ہیں جو آزاد لوگوں کو بھی میسر نہیں۔
ضمنی الیکشن: نون لیگ کی کامیابی کی وجہ مریم نواز یا تحریک انصاف؟
سینئر صحافی شکیل انجم کا مزید کہنا ہے کہ ہمارے ملک کا نظام عدل اتنا عظیم ہے جس کی عنایات سے عمران خان کو جیل میں تحریک انصاف کے ایسے شرپسند رہنماؤں سے طویل ملاقاتوں کے مواقع میسر آتے ہیں جن کے ذریعے حکومت کو گرانے اور ریاست مخالف تحریک چلانے کے منصوبوں کے علاوہ ریاست اور ریاستی اداروں کو دنیا میں بے توقیر کرنے کی سازشوں کی تیاری کے ساتھ ساتھ ان پر مؤثر عمل درآمد کی منصوبہ بندی بھی کی جاتی ہے۔ شکیل انجم کے بقول جیلوں کی عالمی تاریخ میں ایسا کبھی دیکھا یا سنا نہیں گیا کہ جیل کے ایک قیدی کی سربراہی میں سیاسی جوڑتوڑ کے لئے اجلاس طلب کرنے کے علاوہ خیبر پختون خوا کی کابینہ سازی کے اجلاس بھی جیل میں ہوتے ہوں، نئے وزیر اعلیٰ کی تعیناتی اور پرانے کی برطرفی کے احکامات بھی جیل سے جاری ہوں۔ شکیل انجم سوال اٹھاتے ہیں کہ کیا آئنی طور پر جیل میں سیاسی سرگرمیاں، سیاسی اتحادوں کی تشکیل، قائد حزب اختلاف کی نامزدگی، ملک گیر مظاہروں اور تحریکوں کے اعلانات اور سیاسی حکومتوں کی بجائے فوج کی اعلیٰ قیادت سے مذاکرات کے فیصلے کرنا جائز ہے؟ کیا ماضی کی سیاسی روایات میں ایسی مثالیں موجود ہیں جن کی بنیاد پرعدلیہ ایسے اعمال کو جائز قرار دے رہی ہے جو بھٹو اور نوازشریف کے لئے ناجائز اور غیرقانونی تھے۔ کیا عمران خان کو حاصل ان مراعات کے باوجود ان کی سیری کو قید تنہائی قرار دینا قرین انصاف ہے؟
