دفاعی اخراجات میں بڑے اضافے پر اس مرتبہ تنقید کیوں نہیں ہوئی؟

وفاقی حکومت نے دفاعی اخراجات کیلئے مختص بجٹ میں ملکی تاریخ کا سب سے بڑا اضافہ کرتے ہوئے مسلح افواج کیلئے 2.55 کھرب روپے کی رقم مختص کر دی ہے۔ ماضی کے برعکس حالیہ پاک بھارت جنگ کے تناظر میں وفاقی دفاعی بجٹ میں تاریخی اضافے کو منصفانہ قرار دیا جا رہا ہے۔

خیال رہے کہ بھارت کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی اور دونوں جوہری ہتھیار رکھنے والے پڑوسیوں کے درمیان حالیہ فوجی جھڑپوں کے تناظر میں وفاقی حکومت نے منگل کو مالی سال 2025-26 کے لیے پیش کئے گئے بجٹ میں مسلح افواج کے لیے 2.55 کھرب روپے کی رقم مختص کرنے کی تجویز دے دی ہے، جو گزشتہ ایک دہائی میں دفاعی اخراجات میں سب سے زیادہ سالانہ اضافہ ہے،۔ آئندہ مالی سال کیلئے دفاعی اخراجات کیلئے مختص رقم گزشتہ سال کے بجٹ 2.122 کھرب روپے کے مقابلے میں 20.2 فیصد زائد ہے۔ ڈیفنس بجٹ میں اضافے کے بعد ملکی دفاعی اخراجات جی ڈی پی کا تقریباً 1.97 فیصد ہو گئے ہیں جبکہ گزشتہ سال پاکستانی دفاعی اخراجات جی ڈی پی کا 1.7 فیصد تھے۔ چند سالوں کی معمولی کمی کے بعدملکی دفاعی اخراجات دوبارہ 2 فیصد کی سطح کے قریب پہنچ گئے ہیں۔ دفاعی اخراجات اور بجٹ میں اضافے کا موازنہ صحت اور تعلیم کے قومی اخراجات کی جی ڈی پی میں کمی سے بھی کیا جا سکتا ہے، جن کے اعداد و شمار گزشتہ مالی سال کے پہلے نو مہینوں میں 1 فیصد سے کم رہے ہیں۔دفاعی اخراجات میں حالیہ اضافہ کل وفاقی اخراجات کے 14.51 فیصد تک پہنچ گئے ہیں، جو حالیہ سالوں میں سب سے زیادہ ہے۔دفاعی بجٹ کے علاوہ، 1.055 کھرب روپے فوجی پنشنز کے لیے مختص کیے گئے ہیں۔ جو پچھلے سال کے مقابلے میں 4.04 فیصد زائد ہے۔ اگرچہ فوجی پنشنرز کو پنشن کی ادائیگی کیلئے مختص کردہ رقم دفاعی بجٹ کا حصہ نہیں ہے، خیال رہے کہ فوجی پنشنز کیلئے مختص کردہ رقم کل وفاقی اخراجات کیلئے مختص کردہ رقم کا تقریباً 6 فیصد بنتی ہیں۔

خیال رہے کہ دفاعی بجٹ میں اضافے پر پہلے تو بہت تنقید کی جاتی تھی اور کہا جاتا تھا کہ نیوکلئر ہتھیاروں کی موجودگی میں پاکستان کو روایتی ہتھیاروں کی ضرورت نہیں تاہم حالیہ پاک بھارت جنگ نے یہ ثابت کیا ہے کہ ملکی دفاع کو یقینی بنانے کیلئے ایٹمی ہتھیاروں کے ساتھ ساتھ پاکستان کیلئے جدید ترین روایتی ہتھیاروں کی موجودگی بھی ناگزیر ہے کیونکہ پاکستان جدید چینی ٹیکنالوجی کی وجہ سے ہی پاکستانی ائیرفورس بھارتی طیاروں کو گرانے اور بھارت کو ناکوں چنے چبوانے میں کامیاب رہیں۔پاکستان کی بدلتی ہوئی سلامتی کی ضروریات، علاقائی حالات اور فوج کے تمام شعبوں میں جدید کاری کے تناظر میں دفاعی بجٹ میں حالیہ اضافے کو منصفانہ قرار دیا جا رہا ہے۔

سینئر صحافی انصار عباسی کے مطابق حالیہ جنگ میں بھارت کیخلاف پاکستان کی تاریخی فتح نے قومی دفاع کے متعلق عوامی تاثر کو تبدیل کر دیا ہے اور ملک کے دفاعی بجٹ پر طویل عرصے سے جاری بحث کو بڑی حد تک خاموش کر دیا ہے۔گزشتہ کئی دہائیوں سے ملک کے فوجی اخراجات کو ناقدین ضرورت سے زیادہ قرار دیتے ہوئے اسے مشکلات کا شکار معیشت پر بوجھ اور پالیسی مباحثوں میں متنازع حیثیت سے دیکھتے تھے۔ تاہم حالیہ جنگ میں بھارت کیخلاف پاک فوج کی شاندار کارکردگی نے نہ صرف قوم کو متحد کیا بلکہ دفاعی اخراجات کو تنازعات کی بجائے قومی فخر کا باعث قرار دے دیا ہے کیونکہ پاکستان کی عسکری کامیابی اس کے اپنے شہریوں کی توقعات سے بڑھ کر ثابت ہوئی، اس فتح نے عالمی برادری کو بھی حیران کر دیا لیکن وسیع عددی اور مالی فوائد کے حامل بھارت کو ایک سنگین نفسیاتی اور اسٹریٹجک جھٹکا دیا۔

بھارت کے دفاعی بجٹ کے دسویں حصے سے بھی کم بجٹ کی حامل پاکستان کی مسلح افواج نے اپنے حریف کو پچھاڑ دیا اور بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے یہ ثابت کیا کہ تعداد اور اخراجات پر اسٹریٹجک صلاحیت، قیادت، تربیت، حوصلہ اور اتحاد بھاری پڑ سکتا ہے۔ انصار عباسی کے مطابق2025-26 کے دفاعی بجٹ میں تقریباً 20 فیصد اضافے کی تجویز دی گئی ہے تاہم اب ماضی کی طرح اس کا تنقیدی جائزہ نہیں لیا جارہا۔ کوئی وقت تھا جب دفاعی بجٹ میں کٹوتیوں کا مطالبہ ہوتا تھا لیکن اب سیاسی اور عوامی حلقوں میں وسیع پیمانے پر یہ تسلیم کیا جا رہا ہے کہ پاکستان کی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہونا چاہئے۔

انصار عباسی کے بقول ایک ماہ قبل ہی قوم نے مشاہدہ کیا کہ قابل فوج کیا کچھ کر سکتی ہے۔ کئی ناقدین جو پہلے ’’فوج کا ملک‘‘ جیسی اصطلاحات استعمال کرتے تھے، وہ اب نہ صرف علاقے بلکہ قومی وقار اور بین الاقوامی حیثیت کے تحفظ میں مسلح افواج کے ناگزیر کردار کو تسلیم کرتے ہیں۔پاک بھارت جنگ نے افغانستان، عراق، شام اور لیبیا جیسی قوموں کے حشر کی بھی یاد دلائی کیونکہ یہ وہ ممالک تھے جہاں ناکافی دفاع کی وجہ سے غیر ملکی حملوں، عدم استحکام اور افراتفری کی راہ ہموار ہوئی۔

سینئر صحافی کا مزید کہنا ہے کہ دفاعی اخراجات میں اضافہ کیلئے شفافیت، بہتر کارکردگی اور درست استعمال کی توقعات بھی پورا ہونا چاہئیں۔ اب سویلین اور فوجی قیادت دونوں کو اس بات کو یقینی بنائیں کہ قومی دفاع کیلئے مختص کیا گیا پیسہ ملک کی آپریشنل تیاری اور تکنیکی برتری کو مزید مضبوط کرے۔اس کے ساتھ ہی، حکومت کو چاہئے کہ وہ وسیع تر منظر نامے کو نظر انداز نہ کرے۔ فوجی کامیابی سرحدوں کو محفوظ بناتی ہے لیکن معاشی استحکام مستقبل کو محفوظ بناتا ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ نئے قومی اتحاد اور حوصلے کو معاشی بحالی، ادارہ جاتی اصلاحات اور عوامی بہبود کی طرف لیجایا جائے۔دفاع میں مضبوط قوم کو ترقی اور تعمیر میں بھی مضبوط ہونا چاہئے۔ انصار عباسی کے مطابق پاکستان کی کامیابی نے عسکری فتح سے زیادہ اہم حیثیت اختیار کر لی ہے۔ اس کامیابی نے ایک ایسا موقع پیدا کر دیا ہے جس سے انسانی وسائل کی درآمدات بہتر بنانے سے لے کر عالمی منڈی میں مقامی سطح پر تیار کیے جانے والے ہتھیاروں اور گولہ بارود کی فروخت کو فروغ دیا جا سکتا ہےاس قومی فخر کو اب ایک طویل المدتی اسٹریٹجک ویژن میں بدلنا چاہئے، تاکہ دفاعی سلامتی اور اقتصادی استحکام دونوں کو ایک ساتھ متوازن رکھا جا سکے۔

Back to top button