عمران خان کی جیل ملاقاتوں کی امیدیں دم کیوں توڑ گئیں؟

چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ کی جانب سے وزیراعلیٰ خیبر پختون خواہ سہیل آفریدی سے ملاقات سے انکار کے بعد عمران خان کے اہل خانہ اور پارٹی قیادت کی ان سے ملاقات کی رہی سہی امیدیں بھی دم توڑتی نظر آتی ہیں۔
خیال رہے کہ وزیرِ اعلیٰ بننے کے بعد اب تک سہیل آفریدی پی ٹی آئی کے سربراہ عمران خان سے ملاقات نہیں کر سکے ہیں۔ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا اب تک آٹھ مرتبہ عمران خان سے ملنے کے لیے اڈیالہ جیل آ چکے ہیں۔ تاہم انھیں عمران خان سے ملاقات کی اجازت نہیں دی گئی۔ 27نومبر کو بھی سہیل آفریدی اپنے لاؤلشکر کے ساتھ اڈیالہ جیل پہنچے تاہم انھیں راستے میں ہی روک لیا گیا جس کے بعد انھوں نے اڈیالہ جیل کے باہر دھرنا دے دیا۔ رات بھر اڈیالہ جیل کے باہر دھرنا دینے کے بعد وزیراعلیٰ کے پی سہیل آفریدی پارٹی رہنماؤں کے ہمراہ اسلام آباد ہائیکورٹ پہنچے تھے مگر ان کی چیف جسٹس سرفراز ڈوگر سے ملاقات نہیں ہوسکی۔چیف جسٹس سے ملاقات نہ ہونے پر وزیراعلیٰ سہیل آفریدی، علیمہ خان اور وکلا چیف جسٹس کے سیکرٹری کے آفس سے واپس روانہ ہوگئے۔ اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے سہیل آفریدی نے کہا کہ ہماری شنوائی نہیں ہوئی، ہمیں چیف جسٹس کی طرف سے پیغام ملا کہ میں آپ سے نہیں مل سکتا۔ سہیل آفریدی کا مزید کہنا تھا کہ میں تمام آئینی اور قانونی راستے اپنا چکا ہوں، ایسا کون سا راستہ بچا ہے جس کے بعد میں اپنے لیڈر سے ملاقات کرسکوں۔ عدالتی حکم کے باوجود مجھے بانی چئیرمین سے نہیں ملنے دیا جا رہا، اس سے قبل عمران خان کی بہنوں کو ملنے نہیں دیا گیا، ان کو اڈیالہ روڈ پر بالوں سے پکڑکر گھسیٹا گیا اور ان کی بے عزتی کی گئی، یہ سب کچھ بانی کو توڑنے کے لیے کیا جارہا ہے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ سہیل آفریدی یا تحریکِ انصاف کی مرکزی قیادت کی جانب سے عمران خان سے ملاقات کے لیے احتجاجی، قانونی یا عدالتی، کوئی بھی حربہ اختیار کر لیا جائے، ان کی عمران خان سے اس وقت تک ملاقات ممکن نہیں جب تک اس کی اجازت براہِ راست فوجی اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے نہیں ملتی۔ ان کے مطابق عمران خان تک رسائی کے تمام راستے اس وقت ایک ہی ادارے کے فیصلے سے مشروط ہیں، اور عدلیہ سے لے کر سول انتظامیہ تک کوئی بھی اس حد سے آگے جانے کی پوزیشن میں نہیں۔ تاہم ان حقائق کو جاننے کے باوجود سہیل آفریدی نے ایک بار پھر عدلیہ کا دروازہ کھٹکھٹانے کا فیصلہ کیا ہے، لیکن صورتحال یہ ہے کہ اُن کی مسلسل کوششوں اور رابطوں کے باوجود عدلیہ کی جانب سے جواب آنا تقریباً بند ہو چکا ہے۔ مبصرین کے مطابق سہیل آفریدی کی اسلام آباد ہائی کورٹ آمد کے باوجود چیف جسٹس سرفراز ڈوگر کا ملاقات سے انکار اس بات کا غماز ہے کہ وہ اس معاملے کو سیاسی رنگ دینے یا اس کا حصہ بننے کے لیے تیار نہیں۔ ان کے اس مؤقف سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ ماضی کے بعض ججوں کی طرح تحریکِ انصاف کو غیر آئینی یا غیر قانونی ریلیف فراہم کرنے کے حق میں نہیں۔ سیاسی مبصرین اس پیشرفت کو نہ صرف غیر معمولی بلکہ سیاسی منظرنامے میں ایک اہم موڑ قرار دے رہے ہیں۔ ان کے مطابق چیف جسٹس سرفراز ڈوگر کا یہ قدم اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ وہ عدلیہ کو سیاسی تنازعات سے دور رکھنے اور عدالت کے دروازے کو سیاسی اثراندازی سے محفوظ رکھنے کے خواہاں ہیں۔
قانونی ماہرین کا ماننا ہے کہ پاکستان کی عدالتی تاریخ میں کئی ایسے مواقع آئے ہیں جب مخصوص سیاسی جماعتوں یا رہنماؤں کو عدالتی ریلیف ملنے پر سوالات اٹھائے گئے۔ تاہم، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس سرفراز ڈوگر نے سہیل آفریدی سے ملاقات سے انکار کرکے واضح پیغام دے دیا ہے کہ موجودہ عدالتی قیادت کسی بھی ایسی روش کو آگے بڑھانے کے لیے تیار نہیں جو عدلیہ کی غیر جانبداری پر سوال کھڑے کرے۔
اڈیالہ جیل کے باہر دھرنا دے کر پی ٹی آئی والے کیا کرنا چاہتے ہیں؟
کئی مبصرین چیف جسٹس سرفراز ڈوگر کے اس فیصلے کو ’نیو جوڈیشل ایتھکس‘ کا تسلسل قرار دے رہے ہیں۔ ان کے مطابق عدالت یہ باور کرانا چاہتی ہے کہ سیاسی معاملات عدالت کے باہر حل ہونے چاہئیں اور جج کسی صورت براہِ راست سیاسی معاملات کا حصہ نہیں بنیں گے۔ کچھ تجزیہ کاروں کے مطابق ماضی میں تحریکِ انصاف کی قیادت سیاسی اور قانونی حکمتِ عملی کے طور پر عدالتی روابط پر بہت انحصار کرتی رہی ہے، مگر موجودہ عدالتی رویہ واضح طور پر اشارہ دے رہا ہے کہ پی ٹی آئی کو اپنی ترجیحات عدالت کی بجائے سیاسی میدان میں ازسرِنو ترتیب دینا ہوں گی کیونکہ جسٹس سرفراز ڈوگر کی جانب سے ملاقات سے انکار کے بعد واضح ہوتا ہے کہ عدلیہ نے خود کو سیاسی اثرورسوخ سے واضح طور پر الگ رکھنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔
