عمران خان کی جیل ملاقاتوں پر پابندی کیوں لگائی گئی؟

 

 

 

اڈیالہ جیل میں قید عمران خان کی جیل ملاقاتوں پر پابندی لگنے کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ وہ ان ملاقاتوں کو اپنا فوج مخالف بیانیہ آگے بڑھانے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ چنانچہ اب گزشتہ 25 روز سے ان کے اہل خانہ اور پارٹی قیادت میں سے کوئی بھی فرد اڈیالہ جیل میں ان سے ملاقات نہیں کر سکا۔

 

یاد رہے کہ علیمہ خان، عمران خان کی دیگر بہنیں اور خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کئی مرتبہ جیل پہنچے لیکن انہیں رسائی نہیں دی جا رہی۔ تجزیہ کاروں کے مطابق یہ صورتِ حال اس وجہ سے پیدا ہوئی کہ عمران خان ہر ملاقات میں فوجی قیادت کے خلاف سخت غیر ذمہ دارانہ گفتگو کرتے ہیں۔ اس حوالے سے حکومتی سطح پر کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی، تاہم متعلقہ سرکاری اور سیاسی حلقوں میں اس معاملے پر مختلف آراء گردش کر رہی ہیں۔

 

پی ٹی آئی کے مطابق سہیل آفریدی اپنی پارٹی کے بانی عمران خان سے ملاقات کے لیے اسلام آباد میں دھرنے بھی دے چکے ہیں اور ملاقات کے حصول کے لیے عدالتوں میں درخواست بھی جمع کروا چکے ہیں، تاہم اب تک کوئی پیش رفت نہیں ہو سکی۔ ادھر تجزیہ کار کہتے ہیں کہ اب حکومت پر ایسا کوئی دباؤ نہیں ہے کہ وہ عمران کی جیل ملاقاتوں پر عائد پابندی ختم کرے۔ انکے مطابق 26 نومبر 2024 کے ناکام دھرنے کے بعد عمران کی سٹریٹ پاور بارے ریاستی خدشات بھی ختم ہو چکے، ماضی میں حکومت کو تحریک انصاف کی جانب سے جلسے جلوسوں اور دھرنوں کا خوف ہوتا تھا لیکن اب وہ بھی ختم ہو گیا جس کے نتیجے میں پابندیاں مذید سخت کر دی گئی ہیں۔

 

حکومتی ذرائع کہتے ہیں کہ اس صورتحال کی ایک بڑی وجہ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کی وہ پہلی تقریر بھی تھی جو انہوں نے حلف اٹھانے سے قبل اسمبلی میں کی اور جس میں انہوں نے فوجی اسٹیبلشمنٹ پر براہِ راست تنقید کی۔ اسی تقریر میں انہوں نے اعلان کیا کہ وہ طالبان کے خلاف کسی فوجی آپریشن کی اجازت نہیں دیں گے، جس کے باعث اسٹیبلشمنٹ نے سخت ردعمل ظاہر کیا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ سہیل آفریدی وزیر اعلیٰ بننے کے بعد کم از کم آٹھ مرتبہ عمران خان سے ملاقات کے لیے اسلام آباد جا چکے ہیں، مگر ہر بار ناکامی ہوئی۔ عمران خان کے اہل خانہ کا مؤقف ہے کہ چار نومبر کے بعد سے انہیں بھی ملاقات کی اجازت نہیں دی جا رہی۔

 

سیاسی تجزیہ کار موجودہ سیاسی ماحول میں حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان جلد کسی مکالمے کے امکانات کو بھی رد کرتے ہیں۔ معروف صحافی جاوید چوہدری کے مطابق موجودہ صورتحال کی بنیادی ذمہ داری عمران خان پر عائد ہوتی ہے کیونکہ وہ اپنی پارٹی قیادت کو حکومتی اراکین سے رابطوں کی اجازت نہیں دیتے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر پی ٹی آئی اپنے چیئرمین کے لیے ریلیف چاہتی ہے تو عمران کو فوجی اسٹیبلشمنٹ کے خلاف اپنا بیانیہ ترک کرنا ہوگا، لیکن فی الحال عمران خا  اس حکمت عملی کو قبول کرنے کو تیار نہیں، اسی لیے ملاقاتوں کے راستے میں سب سے بڑی رکاوٹ وہ خود ہیں۔

 

سیاسی تجزیہ کار ضیغم خان کے مطابق تحریک انصاف کی قیادت بشمول عمران خان واضح کر چکی ہے کہ وہ کسی بھی صورت موجودہ حکومت کے ساتھ مذاکرات نہیں کریں گے۔ عمران خان اور ان کی پارٹی قیادت صرف طاقتور فوجی اسٹیبلشمنٹ سے ہی مذاکرات کرنا چاہتی ہے۔ ضیغم خان کے مطابق اسٹیبلشمنٹ کی اپنی شرائط ہیں جن میں پی ٹی آئی کا 9 مئی 2023 کے حملوں پر معافی مانگنا اور پھر سیاسی جماعتوں سے مذاکرات کرنا شامل ہے، جبکہ فوجی اسٹیبلشمنٹ براہِ راست سیاسی مذاکرات نہیں کرتی۔

 

اس لیے اگر پی ٹی آئی کو ان کی جیل ملاقاتیں بحال کروانے کے لیے حکومت کے ساتھ بات چیت کرنی ہے تو عمران خان کو اپنے فوج مخالف بیانیے میں نرمی لانا ہو گی، لیکن فی الحال ایسا ہوتا نظر نہیں آ رہا۔ ضیغم خان کے مطابق پی ٹی آئی کے اندر بھی کچھ حلقے اور نئے اتحادی، جیسے تحریکِ تحفظِ آئین، سیاسی جماعتوں کے ساتھ مذاکرات کے حامی ہیں مگر ان کی کوششوں کو پارٹی کے اندر سخت ناپسندیدگی کا سامنا کرنا پڑتا ہے کیونکہ پی ٹی آئی سمجھتی ہے کہ ایسی بات چیت سے حکومت اور دیگر جماعتوں کو سیاسی فائدہ پہنچے گا۔ ان کے مطابق دونوں طرف سے عدم لچک کے باعث ڈیڈلاک برقرار ہے۔

اڈیالہ جیل کے باہر دھرنا دے کر پی ٹی آئی والے کیا کرنا چاہتے ہیں؟

تجزیہ کار ماجد نظامی کا اس معاملے پر کہنا ہے کہ پی ٹی آئی اور حکومت کے  درمیان ڈیڈ لاک کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ تحریک انصاف موجودہ سیاسی ماحول میں حکومت پر کوئی مؤثر دباؤ ڈالنے میں ناکام رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حکومت کو مذاکرات کی میز پر آنے کی کوئی سیاسی مجبوری محسوس نہیں ہوتی۔ ماجد نظامی کے مطابق آئینی ترامیم، قانون سازی، مخصوص نشستوں کے فیصلوں اور حالیہ سیاسی پیش رفت نے حکومت کی پارلیمانی گرفت کو پہلے سے زیادہ مضبوط کر دیا ہے، جس کے باعث اسے دیگر جماعتوں کو اعتماد میں لینے یا انہیں ساتھ بٹھانے کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی۔ ان کے مطابق اس وقت نہ حکومتی سطح پر کوئی داخلی بحران موجود ہے اور نہ ہی پی ٹی آئی ایسا دباؤ پیدا کر سکی ہے جس کی وجہ سے حکومت مذاکرات شروع کرنے پر مجبور ہو۔ اس صورتحال میں ماہرین کے مطابق نزدیک مستقبل میں حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان بات چیت کے امکانات بہت کم ہیں۔

Back to top button