استعفے دینے والے ججز کوئی تحریک کیوں شروع نہیں کر پائے؟

 

معروف صحافی اور تجزیہ کار نصرت جاوید نے کہا یے کہ سپریم کورٹ سے مستعفی ہونے والے عمراندار ججز، جسٹس اطہر من اللہ اور جسٹس منصور علی شاہ اب تک 27ویں آئینی ترمیم اور عدالتی ریفارمز کے خلاف وکلا تحریک کا آغاز نہیں کر سکے، حالانکہ عمران خان کے حامیوں نے ان سے جسٹس افتخار چوہدری جیسی انقلابی قیادت کی امید باندھ رکھی تھی۔

اپنے سیاسی تجزیے میں نصرت جاوید کہتے ہیں کہ جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس اطہر من اللہ تحریک انصاف کی جانب اپنے جھکاؤ کی وجہ سے معروف ہیں۔ اکثر اوقات عدالتی فیصلوں میں بھی ان کا جھکاؤ تحریک انصاف کے بیانیے سے ہم آہنگ دکھائی دیتا تھا۔ پچھلے دو برس میں عمران خان اور انکی تحریک انصاف کو سب سے زیادہ عدالتی ریلیف بھی انہی کی طرف سے ملا۔ جسٹس قاضی فائز عیسی اور جسٹس یحیی افریدی کے لیے سب سے زیادہ مشکلات پیدا کرنے والے جسٹس منصور علی شاہ تھے۔ اسی پس منظر کی وجہ سے عمران کے حامیوں کو یہ توقع
تھی کہ 27ویں ترمیم کے خلاف استعفے دینے کے بعد جسٹس منصور اور جسٹس اطہر سابق چیف جسٹس افتخار چوہری کی طرح وکلا تحریک کا اغاز کریں گے۔

تاہم بظاہر ایسا لگتا ہے کہ ان کے استعفوں کے ساتھ لکھے گئے خطوط پر آنے والے سخت ترین حکومتی رد عمل نے دونوں ججز کو دفاعی پوزیشن میں دھکیل دیا ہے۔ کئی حکومتی وزرا خصوصاً وزیر دفاع خواجہ آصف نے ان خطوط پر سخت ترین ردِعمل دیتے ہوئے الزام لگایا کہ ان دونوں جج صاحبان نے انصاف سے زیادہ تحریک انصاف کا سیاسی بیانیہ اپنایا، انہوں نے کہا کہ یہ دونوں ججز عدالتی منصب پر بیٹھ کر ایک مخصوص سیاسی جماعت کا ایجنڈا آگے بڑھاتے رہے۔ اس تلخ حکومتی ردِعمل کے بعد بعض حلقوں کا خیال ہے کہ دونوں جج حضرات نے سڑکوں پر نکلنے یا کسی مزاحمتی تحریک کا آغاز کرنے کا اپنا منصوبہ مؤخر کر دیا ہے۔

نصرت جاوید کے مطابق متوسط طبقے میں موجود وہ حلقے جو سیاسی تبدیلی کے خواہاں ہیں، 27ویں ترمیم کے بعد پیدا ہوئی صورتحال کو 2007 کی عدلیہ بحالی تحریک کے تناظر میں دیکھ رہے تھے
انہیں امید تھی ک ایک بار پھر وہی صورتِ حال پیدا ہو جائے گی جو جنرل مشرف کے دور میں چیف جسٹس افتخار چودھری کی معزولی کے بعد دیکھنے میں آئی تھی۔

تاہم نصرت جاوید نے زمینی حقیقت یاد دلاتے ہوئے کہا کہ موجودہ حالات 2007 سے بالکل مختلف ہیں۔ وہ 9 مارچ 2007 کے واقعات یاد کرتے ہیں، جب وہ لاہور میں چوہدری اعتزاز احسن کے گھر ایک ٹی وی پروگرام ریکارڈ کرنے کی تیاری کر رہے تھے۔ اسی دوران انہیں علم ہوا کہ اس روز جنرل مشرف نے چیف جسٹس افتخار چودھری کو ایوانِ صدر طلب کر کے دباؤ کے تحت استعفیٰ لینے کی کوشش کی، ٹی وی سکرینز پر جاری ہونے والی سرکاری تصاویر میں اقتدار کی رعونت اور چیف جسٹس کی تذلیل نمایاں تھی۔ اس دن کے واقعات ایک ایسی عوامی تحریک کے آغاز کا سبب بنے جس نے جلد ہی ملک گیر شکل اختیار کر لی اور بالآخر جنرل مشرف کے زوال میں بھی بنیادی کردار ادا کیا۔ یہ اور بات کہ مشرف کے زوال میں ان کے آئی ایس آئی چیف لیفٹننٹ جنرل اشفاق پرویز کیانی نے بھی برابر کا حصہ ڈالا۔

نصرت جاوید کا کہنا ہے کہ 2007 کی تحریک ایسے حالات میں اٹھی تھی جب ایک فوجی آمر نے طاقت کے بے جا استعمال کے ذریعے عدلیہ کو جھکانے کی کوشش کی تھی، مگر آج کا منظر نامہ اس سے یکسر مختلف ہے۔ آج نہ کوئی فوجی آمر چیف جسٹس کو زبردستی استعفیٰ دلوانے کی کوشش کر رہا ہے اور نہ ہی کوئی ایسا لیڈر موجود ہے جو سڑکوں پر نکل کر عوامی جذبات کو فوراً بھڑکا دے۔ 27ویں ترمیم پارلیمان نے منظور کی جس کی چند شقوں نے منصور شاہ اور بندیال جیسے جج صاحبان کو یہ سوچنے پر مجبور کیا کہ شاید عدلیہ کی آزادی متاثر ہو رہی ہے، لیکن اس کے باوجود حالات اس نوعیت کے نہیں کہ انہیں 2007 کے واقعات سے مماثل قرار دیا جائے۔

نصرت کے مطابق یہ بھی حقیقت ہے کہ جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس اطہر من اللہ پہلے ہی اپنے عدالتی رویوں کے باعث ایک مخصوص سیاسی رجحان رکھنے والے جج سمجھے جاتے رہے ہیں اور اسی وجہ سے انہیں عمراندار یا عمرانڈو ججز بھی کہا جاتا تھا۔ ان کے ناقدین برسوں سے الزام لگاتے ہیں کہ انہوں نے کالے گاؤن میں رہتے ہوئے ایسے فیصلے کیے جن کا فائدہ تحریک انصاف اور عمران خان کو پہنچا۔ یہی وجہ ہے کہ ان سے کسی ’’انقلابی تحریک‘‘ یا مزاحمتی سیاست کی توقعات غیر فطری نہیں بلکہ اسی تاثر کا تسلسل تھیں۔ تاہم نصرت جاوید کے مطابق یہ توقعات زمینی حقیقت سے زیادہ سیاسی خواہشات ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ اگرچہ دونوں ججوں نے اپنے استعفوں میں جو نکات اٹھائے وہ اہم ہیں، مگر عملی سیاست میں ان کے کردار کے امکانات محدود ہیں۔ نہ انہوں نے اب تک کوئی تحریک شروع کی ہے، نہ کسی عملی احتجاج کا اعلان کیا۔ اس خاموشی نے ان حلقوں کو مایوس کر دیا ہے جو انہیں ایک نئی عدالتی مزاحمت کی علامت بنتے دیکھنا چاہتے تھے۔

نصرت جاوید کے مطابق تاریخ خود کو دہرانے کے لیے حالات کا وہی تسلسل مانگتی ہے جو اس وقت موجود نہیں۔ انکے مطابق 2007 کا منظرنامہ ایک غیر معمولی واقعے کا نتیجہ تھا، جب کہ 27ویں ترمیم کے معاملے میں نہ وہ شدت ہے، نہ وہ سیاسی توانائی اور نہ وہ عوامی اشتعال جو کسی بڑی تحریک کی بنیاد بن سکے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگرچہ جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس اطہر من اللہ کے استعفوں نے سیاسی ماحول میں ہلچل ضرور پیدا کی ہے، مگر دونوں جج حضرات کی خاموشی یہ ظاہر کرتی ہے کہ وہ کسی بڑی سیاسی تحریک کا حصہ بنتے نظر نہیں آتے۔ عمران خان کے حامیوں کی امیدوں کے باوجود موجودہ صورتحال میں ایسا کوئی اشارہ موجود نہیں کہ یہ مستعفی جج سڑکوں پر نکل کر کوئی تحریک چلانے کا ارادہ رکھتے ہوں۔

نصرت جاوید کے مطابق نہ تو آج کے حالات 2007 جیسے ہیں اور نہ ہی سیاسی منظرنامہ ویسا ہے، اس لیے عمراندار ججز کے استعفوں کے رد عمل میں کسی بڑی عوامی تحریک کا آغاز ممکن دکھائی نہیں دیتا، خصوصا جب عمران خان اور ان کی تحریک انصاف کی سٹریٹ پاور بھی ختم ہو چکی ہے۔

Back to top button