اسلام آباد ہائی کورٹ کے دو ججز کو کارنر کیوں کر دیا گیا ؟

اسلام آباد ہائی کورٹ کے دو ججز، جسٹس بابر ستار اور جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان، کو کھڈے لائن لگاتے ہوئے صرف ٹیکس اور کمرشل نوعیت کے مقدمات تک محدود کر دیا گیا ہے۔ یہ فیصلہ اس لیے کیا گیا کیونکہ یہ ججز سیاسی مقدمات کے فیصلے کرتے ہوئے اپنا مخصوص عمرانی ایجنڈا آگے بڑھانے سے باز نہیں آ رہے تھے۔
یاد رہے کہ جسٹس بابر ستار کی شخصیت عدالتی حلقوں میں کافی متنازع رہی ہے۔ گزشتہ برسوں میں وہ متعدد سیاسی مقدمات اور حساس عدالتی فیصلوں میں میڈیا اور عوامی توجہ کا مرکز رہے ہیں۔
عدالتی حلقوں کے مطابق، جسٹس بابر ستار کی خطوطی سرگرمیاں اور سیاسی جھکاؤ بعض ساتھی ججز کے لیے تشویش کا باعث ہیں، اور اس پیش رفت کو عدالتی نظم و ضبط اور کیسز کی شفافیت کے تحفظ کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ بابر ستار اور جسٹس اعجاز اسحاق خان وہ ججز ہیں جو چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ جسٹس ڈوگر کے خلاف خطوط لکھتے اور عدالتی اندرونی امور میں تحفظات درج کراتے رہے ہیں۔
ان خطوط میں جسٹس بابر ستار نے واضح طور پر بعض ججز کے فیصلوں میں ممکنہ تعصب، انتظامی ناکامیوں اور عدالتی شفافیت کے فقدان کی نشاندہی کی۔
ان خطوط میں یہ بھی کہا گیا کہ بعض کیسز میں عدالتی بیوروکریسی نے آئینی اصولوں اور عمومی انصاف کے تقاضوں کو نظر انداز کیا، اور سیاسی دباؤ کے اثرات عدالتی فیصلوں پر اثر انداز ہو رہے ہیں۔ تاہم ان ججز کو عمراندار ججز کہا جاتا ہے اور یہ عمران خان سے متاثر ہیں۔ رواں سال اگست میں اسلام آباد ہائی کورٹ نے ایک خصوصی ڈویژن بینچ تشکیل دیا، جو صرف ٹیکس سے متعلق مقدمات کی سماعت کے لیے بنایا گیا۔ اس کے لیے "کمرشل لٹیگیشن کوریڈور” کی کیٹگری بھی متعارف کرائی گئی، جو نیشنل جوڈیشل پالیسی ساز کمیٹی کے فیصلے کے مطابق تھی۔
13 اگست 2025 کو جاری کیے گئے نوٹیفکیشن کے مطابق بینچ میں جسٹس بابر ستار اور جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان شامل تھے۔ انہیں ریونیو قوانین کے تحت دائر ریفرنسز، بشمول انکم ٹیکس آرڈیننس، سیلز ٹیکس ایکٹ، فیڈرل ایکسائز ایکٹ اور کسٹمز ایکٹ کے مقدمات کی سماعت اور فیصلے کرنے کی ذمہ داری دی گئی۔
نوٹیفکیشن میں کہا گیا کہ یہ انتظام نیشنل جوڈیشل پالیسی میکنگ کمیٹی کے 11 جولائی 2025 کو ہونے والے 35ویں اجلاس کے فیصلے اور اسلام آباد ہائی کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر رولز 2025 (والیوم پنجم) کے تحت کیا گیا، اور بینچ کو فوری طور پر فعال ہونے اور تا حکم ثانی برقرار رہنے کی ہدایت دی گئی۔
اسلام آباد ہائی کورٹ کے ذرائع کے مطابق اس نوٹیفکیشن کے بعد جسٹس بابر ستار اور جسٹس اعجاز اسحاق خان کو کئی ہفتوں سے صرف ٹیکس اور کمرشل مقدمات کی سماعت کی ذمہ داری سونپی گئی ہے، جبکہ آئینی یا عمومی دائرہ اختیار کے مقدمات ان کے سپرد نہیں کیے گئے۔
کرایہ داری ایکٹ کے تحت گرفتار ہونے والے عرفان صدیقی
ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ خصوصی "کمرشل لٹیگیشن کوریڈور” عدالتی اصلاحات کے وسیع منصوبے کا حصہ ہے، جس کا مقصد کمرشل تنازعات کے فوری فیصلے اور پاکستان کی عالمی کاروباری درجہ بندی میں بہتری لانا ہے۔
