عمران اسمبلی سے فارغ ہونے والے پہلے وزیراعظم کیوں ہوں گے؟

اپوزیشن کی جانب سے وزیر اعظم عمران خان کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک دائر کیے جانے کے بعد حکومتی حلقے یہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ یہ تحریک اس لیے ناکام ہوگی کہ ماضی میں بھی ایسی تمام تحریکیں ناکامی کا شکار ہوئی ہیں۔ تاہم حکومتی حلقے یہ حقیقت بھول رہے ہیں کہ ماضی میں بینظیر بھٹو اور نواز شریف کے خلاف تحاریک عدم اعتماد داخل ہونے کے بعد انکی اپنی جماعتوں میں پھوٹ نہیں پڑی تھی چنانچہ ان کے خلاف پیش کردہ عدم اعتماد کی تحریکیں ناکامی کا شکار ہوئیں۔
لیکن دوسری جانب اب یہ بات وثوق سے کہی جا سکتی ہے کہ عمران خان پاکستانی تاریخ کے پہلے وزیر اعظم بننے جارہے ہیں جن کے اقتدار کا خاتمہ عدم اعتماد کی تحریک کے نتیجے میں ہوگا اور پارلیمنٹ کے اندر سے تبدیلی آئے گی۔ وجہ یہ ہے کہ تحریک انصاف کے اندر پہلے ہی جہانگیر ترین اور علیم خان گروپس سامنے آ چکے ہیں جبکہ کپتان کی چاروں اتحادی جماعتیں یعنی قاف لیگ، ایم کیو ایم، بلوچستان عوامی پارٹی اور جی ڈی اے اب کپتان سے راستے جدا کر رہے ہیں۔
لہذا حکومت کا یہ موقف سراسر دیوانے کا خواب لگتا ہے کہ چونکہ آج تک کسی وزیر اعظم کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک کامیاب نہیں ہوئی لہذا عمران خان بھی بچ جائیں گے۔ ویسے تو وزیراعظم عمران خان کے خلاف اپوزیشن کی تحریک کا نتیجہ کیا نکلے گا یہ تو چند روز میں سامنے آ جائے گا لیکن سیاسی، صحافتی اور عوامی حلقوں میں ماضی میں وزرائےاعظم کے خلاف پیش ہونے والی ایسی ہی تحریکوں کے موازنے اور حوالے سننے اور پڑھنے کو مل رہے ہیں۔
اکتوبر 1989 میں سابق وزیراعظم بینظیر بھٹو کے خلاف پیش ہونے والی تحریک عدم اعتماد کی ناکامی کے علاوہ اگست 2006 میں شوکت عزیز کے خلاف اسی طرح کی ناکام تحریک کو حوالے کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔ یاد رہے کہ اکتوبر 1989 میں محترمہ بے نظیر بھٹو کے خلاف اپوزیشن جماعتوں کے اتحاد کمبائنڈ اپوزیشن پارٹیز نے ایوان میں عدم اعتماد کی قرارداد جمع کروائی تھی۔ بے نظیر بھٹو کی حکومت بننے کے صرف 11 ماہ بعد انکے سیاسی مخالفین نے انکو ایوان اقتدار سے رخصت کرنے کی ناکام کوشش کی۔ 33 برس قبل کے اخبارات کے جائزے اور موجودہ سیاسی کشمکش سے اس کے موازنے کے بعد اس مفروضے کی تصدیق کا کچھ سامان ہو جاتا ہے کہ ملک میں 1990 کی دہائی کی سیاست کا دور لوٹ آیا ہے۔
بے نظیر بھٹو کے خلاف تحریک کے دوران اتحادیوں کی حکومت سے علیحدگی کے اعلان نے سیاسی گرما گرمی پیدا کر دی تھی۔ آج بھی عدم اعتماد کی کامیابی یا ناکامی کو حکومت کے اتحادیوں کی مخالفت یا حمایت سے مشروط کیا جا رہا ہے۔
پیپلز پارٹی کی 237 کے ایوان میں 111 نشستیں تھیں اس کے اتحادیوں میں ایم کیو ایم کی 14، اے این پی کی دو اور آزاد امیدواروں کی حمایت شامل تھی۔ 23 اکتوبر کو تحریک عدم اعتماد اسمبلی میں جمع ہونے سے ایک دن قبل ایم کیو ایم نے حکومتی اتحاد سے علیحدگی اختیار کر لی۔ یہی نہیں بلکہ اس نے اپوزیشن اسلامی جمہوری اتحاد سے معاہدے کا اعلان بھی کر دیا۔ دونوں کے درمیان ستمبر میں وفاق اور صوبے میں شرکت اقتدار کا خفیہ معاہدہ ہو چکا تھا جسے اب منظرعام پر لایا گیا۔
اس دور میں صوبہ پنجاب کے وزیر اعلی نواز شریف اور ایم کیو ایم کے عظیم احمد طارق نے معاہدے پر دستخط کیے۔ متحدہ نے پیپلز پارٹی پر اقتدار میں شرکت سے محروم رکھنے کا الزام عائد کیا۔ حکومت کی دوسری اتحادی جماعت عوامی نیشنل پارٹی نے بھی حزب اختلاف کا ساتھ دینے کا فیصلہ کیا۔اسی روز پیپلز پارٹی دور میں پنجاب کے گورنر رہنے والے غلام مصطفی کھر ایک دفعہ پھر پیپلزپارٹی میں لوٹ آئے۔ انہوں نے اپنی جماعت نیشنل پیپلز پارٹی حکومتی جماعت میں ضم کرتے ہوئے تحریک عدم اعتماد کے خلاف میدان میں آنے کا اعلان کر دیا۔
حکومتی صفوں میں پہلی بغاوت وزیر مملکت طارق مگسی نے کی۔ بلوچستان سے آزاد منتخب ہونے والے ممبر اسمبلی نے عدم اعتماد کی تحریک کے اسمبلی میں جمع ہونے سے ایک روز قبل بغاوت کا اعلان کر دیا۔ انہوں نے پریس کانفرنس میں اپوزیشن کی حمایت اور وزارت سے مستعفی ہونے کا اعلان بھی کیا جبکہ سرکاری بیان میں پارٹی پالیسی کی خلاف ورزی پر ان کی برطرفی کا حکم نامہ جاری کیا گیا۔جہانیاں سے پیپلزپارٹی کے ممبر اسمبلی افضل داد واہلہ اور اقلیتی رکن رانا چندر سنگھ نے پارٹی پالیسی سے بغاوت کرتے ہوئے تحریک کی حمایت میں ووٹ دیا۔ بعد میں پیپلز پارٹی نے ان کے خلاف الیکشن کمیشن میں ریفرنس دائر کرنے کا اعلان بھی کیا۔
28 اکتوبر 1989 کو پنجاب کے وزیراعلیٰ نواز شریف نے الزام لگایا کہ حکومت نے سات اراکین قومی اسمبلی کو اغوا کرلیا ہے۔ ان میں پیپلزپارٹی کے دو ممبران اسمبلی قربان علی شاہ اور کرشن چندر کا نام بھی لیا گیا۔ یہ دونوں ارکان شروع میں اپوزیشن کا ساتھ دینا چاہتے تھے مگر بعد میں پیپلز پارٹی کی حمایت کا اعلان کرتے ہوئے پارٹی میں واپس آگئے۔ اپوزیشن نے اپنے پانچ اراکین کے مبینہ اغوا کا الزام بھی لگایا جن میں سے ایک شاہد سعید 30 اکتوبر کو ڈرامائی طور پر سوات سے فرار ہوکر لاہور پہنچ گئے۔ انہوں نے بتایا کہ انہیں چودھری شجاعت کی رہاش گاہ سے ملاقات کے بہانے بلا کر اغوا کر لیا گیا تھا۔
اسی طرح اسلامی جمہوری اتحاد کے ایک اور رکن اسمبلی ایوب کا معاملہ بھی دلچسپ صورتحال اختیار کرگیا۔ وہ اسلام آباد کے ایک ہسپتال میں زیر علاج تھے۔ اپوزیشن کے مطابق انھیں زبردستی پشاور کے ایک ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔ انہوں نے بیماری کے باعث رائے شماری میں بھی حصہ نہیں لیا۔ سیالکوٹ سے پیپلز پارٹی کے ایم این اے خورشید عالم چیمہ کے بدلتے سیاسی موقف اور وفاداری نے بھی مضحکہ خیز صورتحال اختیار کر لی تھی۔
رشتے میں وہ چوہدری پرویز الٰہی کے خالو تھے۔ ان کے قریبی دوستوں نے لاہور ہائی کورٹ میں رٹ دائر کی کہ انہیں پرویز الہی کی رہائش گاہ پر زبردستی روکے رکھا گیا ہے۔ عدالت نے ان کی بازیابی کے لیے بیلف مقرر کیا۔
تحریک پر ووٹنگ والے دن وہ پہلے تو اپوزیشن کے بینچوں پر بیٹھے رہے۔ حکومتی اراکین کی اسمبلی میں آمد پر وہ یہ کہتے ہوئے ان سے جا ملے کہ ’میں اپنے دوستوں کے پاس جا رہا ہوں۔‘
پیپلز پارٹی نے اپنے حامی اراکین کو دو خصوصی پروازوں کے ذریعے پشاور اور وہاں سے سوات منتقل کر دیا تھا۔ اسی طرح اسلامی جمہوری اتحاد کے ممبران اسمبلی مری میں ڈیرے ڈالے ہوئے تھے۔ دونوں اطراف سے یہ احتیاطی تدابیر اراکین کی وفاداریاں بدلنے کے خدشات اور اغوا کے امکانات کو سامنے رکھ کر کی گئیں۔ پیپلزپارٹی نے دعوی کیا کہ سوات میں اس کے حامی اراکین کی تعداد 126 ہے۔
حزب اختلاف کے رہنماؤں نواز شریف اور غلام مصطفی جتوئی نے تحریک پر رائے شماری سے ایک روز قبل مری میں پریس کانفرنس میں حکومت پر سرکاری وسائل دے اراکین کی وفاداریاں تبدیل کروانے کا الزام لگایا۔اپوزیشن جماعتوں کے وزارت عظمیٰ کے امیدوار مصطفیٰ جتوئی نے صدر غلام اسحاق خان کے نام خط میں حکومتی اراکین کی منتقلی کے لیے ایئرفورس اور پی آئی اے کے استعمال کی شکایت کی۔ انہوں نے حکومتی اراکین کو زبردستی ایف سی کے زیرنگرانی سوات میں رکھے جانے کا تذکرہ بھی کیا۔ غلام مصطفی جتوئی نے کراچی میں ان کے گھر پر حملے کے علاوہ حکومت کی جانب سے ممبران کی وفاداریاں خریدنے کے لیے پیسوں کے استعمال کا الزام بھی لگایا۔
یکم نومبر 1989کو اپوزیشن پارٹیز کی تحریک پر رائے شماری ہوئی۔ متحدہ اپوزیشن مطلوبہ 119 اراکین کی حمایت ثابت کرنے میں ناکام رہی۔ اس کے ممبران کی تعداد 107 سے نہ بڑھ سکی جبکہ حکومت نے 124 ممبران کی حمایت حاصل کر لی اور تحریک ناکام بنا دی۔ فاٹا کے چار اراکین نے اپوزیشن کا ساتھ دیا۔ عوامی نیشنل پارٹی کے صدر عبدالولی خان لندن میں ہونے کی وجہ سے اسمبلی سے غیر حاضر تھے۔ اس کے علاوہ پیپلز پارٹی کے وزیر ملک مختار اعوان قتل کے مقدمے میں نامزد ملزم ہونے کی وجہ سے اسمبلی نہ آ سکے۔ صوبہ سرحد کے سابق گورنر اور اپوزیشن کے ممبر اسمبلی فضل حق ان دنوں قتل کے الزام میں جیل کاٹ رہے تھے۔ تحریک پر ووٹنگ سے صرف ایک روز قبل سپریم کورٹ نے ان کی ضمانت منظور کر لی اور انہیں رہائی مل گئی۔ بیگم عابدہ حسین سمیت اور تین آذاد اراکین اسمبلی نے اپوزیشن کا ساتھ دیا۔
پنجاب سے تعلق رکھنے والے اسلامی جمہوری اتحاد کے تین اراکین اسمبلی نے کھلم کھلا حکومت کا ساتھ دیا۔ اپوزیشن کی صفوں سے ٹوٹنے والے ان ممبران اسمبلی میں رحیم یار خان سے تعلق رکھنے والے ریس شبیر احمد اور مخدوم احمد عالم انور کے علاوہ اوکاڑہ سے غلام محمد مانیکا بھی شامل تھے۔
پروپیگنڈا سے قومی ہم آہنگی متاثر ہوتی ہے
تاہم بے نظیر بھٹو کے خلاف اپوزیشن کی عدم اعتماد کی تحریک ناکام تو ہو گئی مگر اس نے حکومتی کمزوریوں کو بے نقاب کر دیا۔ پارلیمنٹ اور پارلیمنٹ سے باہر سیاسی دنگل سے پیپلز پارٹی کی حکومت کی اقتدار پر گرفت ڈھیلی پڑ گئی اور محض نو ماہ بعد صدر غلام اسحق نے صدارتی اختیار کے تحت اسمبلی توڑ کر حکومت کو گھر بھیج دیا۔ پیپلزپارٹی نے حکومت توڑنے کا فیصلہ سپریم کورٹ میں چیلنج کیا لیکن شنوائی نہ ہو سکی۔ تاہم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کی کامیابی اس لیے یقینی ہے کہ نہ صرف ان کی جماعت میں پھوٹ پڑ چکی ہے بلکہ ان کے چاروں اتحادی بھی ان سے علیحدہ ہونے جا رہے ہیں۔
