اچکزئی کپتان کے تابوت میں آخری کیل کیوں ثابت ہوں گے؟

معروف تجزیہ کار عمار مسعود نے کہا ہے کہ عمران خان اپنے پاؤں پر کلہاڑی مارنے میں ملکہ رکھتے ہیں، لیکن محمود خان اچکزئی کو قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر بنوا کر انہوں نے اپنے پاؤں پر کلہاڑی نہیں ماری بلکہ تحریک انصاف کے تابوت میں آخری کیل ٹھونک دی ہے۔
اپنے سیاسی تجزیے میں عمار مسعود کہتے ہیں کہ عمران کی جانب سے محمود اچکزئی کو قائدِ حزبِ اختلاف بنانے کا فیصلہ ایسا ہی ہے جیسے کہ جاوید ہاشمی کو پی ٹی آئی کا صدر بنانا۔ عمران خان کو اب تک اندازہ ہو جانا چاہیے تھا کہ محمود اچکزئی اور جاوید ہاشمی جیسے نظریاتی لوگ ایک سٹیج پر پہنچ کر ذاتی اور سیاسی مفادات کے بجائے نظریے کو اہمیت دینے لگتے ہیں۔ بطور صدر تحریک انصاف جاوید ہاشمی کی 2014 میں عمران کے دھرنے میں تقریر نے نواز شریف کے خلاف پی ٹی آئی اور تب کی اسٹیبلشمنٹ کی سازش کو بے نقاب کیا تھا۔ اب ایسی ہی توقع محمود خان اچکزئی سے بھی کی جا رہی ہے جنہیں عمران نے قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر بنوانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
عمار مسعود کہتے ہیں کہ ایک دن محمود خان اچکزئی نے اسی منصب پر بیٹھے ہوئے پی ٹی آئی کی نام نہاد مزاحمتی سیاست کا سارا کچا چٹھا کھول کر دنیا کے سامنے رکھ دینا ہے۔ تب عمران خان کو احساس ہو گا کہ خود کو پاکستان کی مقبول ترین سیاسی جماعت کا سربراہ کہنے والے عمران خان کی جماعت کے پاس قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر کا عہدہ بھی نہیں رہا۔ عمار کے بقول سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ محمود خان اچکزئی بطور پی ٹی آئی کے لیڈر آف اپوزیشن کیسے اپنے کردار کو نبھا پائیں گے۔ عمران اور اچکزئی کے طرزِ سیاست میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ دونوں کی سوچ، نظریہ، حکمتِ عملی اور سیاست ایک دوسرے سے کوسوں دور ہیں۔ اختلاف دونوں کرتے ہیں مگر طریقہ اور قرینہ بہت مختلف ہے۔ یہ آگ اور پانی کا کھیل نہیں بلکہ آگ اور پیٹرول کا تماشا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے جلتا کون اور بچتا کون ہے؟ شکست کس کو ہوتی ہے اور موقع سے فائدہ کون اٹھاتا ہے؟ سیاست کس کی بچتی ہے اور نظریہ کس کا قائم رہتا ہے؟
عمار مسعود کا کہنا ہے کہ محمود اچکزئی نظریاتی اور عمران خان تجرباتی سیاست دان ہیں۔ ایک اسٹیبلشمنٹ کے سیاست میں کردار کے خلاف ہے اور دوسرے کا وجود ہی اسی خمیر سے ہوا ہے۔ ایک سیاسی جماعتوں کے ساتھ ڈائیلاگ پر یقین رکھتا ہے، جبکہ دوسرا سیاسی جماعتوں سے ہاتھ تک ملانے کا روادار نہیں۔ ایک نے ساری عمر گالی گلوچ سے اجتناب کیا، سیاست میں شائستگی کو شیوہ بنایا۔ دوسرے کا طرہ امتیاز ہی گالی دینا، تضحیک کرنا اور تمسخر اڑانا ہے۔ ایک اسٹیبلشمنٹ سے مذاکرات کا سوچ بھی نہیں سکتا جبکہ دوسرا اب بھی فوجی اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے ’ایک خوش خبر کال‘ کا منتظر ہے۔
عمار مسعود بتاتے ہیں کہ عبدالصمد اچکزئی کے بیٹے محمود خان اچکزئی جنہوں نے اپنے والد کے انتقال کے بعد 1989 میں پختون خواہ ملی عوامی پارٹی کے چیئرمین کا عہدہ سنبھالا تھا، تاہم پی ٹی آئی کی پانچ ماہ کی جدوجہد کے بعد اب اچکزئی قومی اسمبلی میں لیڈر آف اپوزیشن بن گئے ہیں۔ بات صرف یہ نہیں کہ اچکزئی تحریک انصاف کی جانب سے تجویز کردہ ہیں اور ان کی ہی حمایت سے لیڈر آف اپوزیشن بنے ہیں، اصل بات یہ ہے کہ بلوچستان سے منتخب رکنِ قومی اسمبلی کا لیڈر آف اپوزیشن بننا بہت اہم واقعہ ہے۔ یہ بات بھی جاننا ضروری ہے کہ محمود خان اچکزئی کی سیاست اب بلوچستان میں دم توڑ رہی تھی۔ ثبوت اس کا یہ ہے کہ گزشتہ انتخابات میں ان کے سوا ان کی پارٹی کا کوئی رکن نہ صوبائی اسمبلی میں جیت سکا نہ قومی اسمبلی کی کوئی نشست ان کا مقدر بن سکی۔ انکی پارٹی کے نظریاتی حصے بخرے بھی ہو رہے ہیں۔ عثمان کاکڑ کے صاحبزادے خوشحال کاکڑ نے ایک نئی جماعت بنا لی ہے، جو کہ بلوچستان کے نارتھ میں روز بہ روز محمود خان اچکزئی کی سیاست کو شکست دے رہی ہے۔
عمار بتاتے ہیں کہ محمود خان اچکزئی میدانِ سیاست کے پرانے کھلاڑی ہیں۔ ان کی ابتدائی تعلیم قلعہ عبداللہ میں اور مکینیکل انجینئرنگ کی ڈگری انہوں نے پشاور یونیورسٹی سے حاصل کی۔ صرف 25 سال کی عمر میں پہلی دفعہ اپنی پارٹی کے چیئرمین منتخب ہوئے۔ اس وقت سے آج تک ان کی پارٹی میں کوئی اور چیئرمین نہیں بن سکا۔ محمود اچکزئی 1974 میں پہلی دفعہ ایک ضمنی انتخاب میں بلوچستان اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔ 1993 میں پہلی مرتبہ قومی اسمبلی کے رکن بنے اور اب تک چار مرتبہ یہ اعزاز حاصل کر چکے ہیں۔
سیاسی اعتبار سے محمود خان اچکزئی اینٹی اسٹیبلشمنٹ سیاست کے حامی اور فوج کے سیاسی کردار کے مخالف رہے۔ افغانستان سے ان کی پرانی الفت رہی ہے۔ یہ اب بھی اس کو ’وطن‘ کہہ کر پکارتے ہیں۔ مکالمے کی سیاست ان کی خواہش رہی۔ پاکستان میں 90 کی دہائی کے بعد جتنے بھی سیاسی اتحاد بنے، ان میں یہ پیش پیش رہے۔ یہ عمران خان کی حکومت کے خلاف چلنے والی پی ڈی ایم تحریک کا بھی نہ صرف حصہ رہے ہیں بلکہ اُس زمانے میں بلوچستان میں پی ڈی ایم کے ایک جلسے کا انعقاد بھی کروا چکے ہیں جس میں مریم نواز کا شاندار استقبال کیا گیا تھا۔ اس زمانے میں یہ پی ٹی آئی سے نجات کے لیے تمام جماعتوں کو اکٹھا کرنے میں مگن تھے۔ دوسری جانب عمران جلسوں میں سر پر دوپٹہ پہن کر ان کی نقلیں اتارتے، رکیک الفاظ سے پکارتے، طنز، تضحیک اور تحقیر کا نشانہ بناتے۔
عمار مسعود کہتے ہیں کہ قومی اسمبلی میں محمود اچکزئی کا بطور ’لیڈر آف اپوزیشن‘ انتخاب کئی مراحل سے گزرا۔ اس میں 5 ماہ لگ گئے۔ عمر ایوب 9 مئی کے کیسز میں مجرم قرار پانے کے بعد قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر کے عہدے سے ہٹا دیے گئے۔ پاکستان کے پہلے فوجی ڈکٹیٹر ایوب خان کے صاحبزادے نے عدالت میں اس فیصلے کے خلاف اپیل کر دی۔ ایاز صادق اسی اپیل کو بنیاد بنا کر اس تعیناتی میں تعطل سے کام لیتے رہے۔ وہ کہتے رہے کہ جب تک معاملہ عدالت میں ہے ان کے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں۔ لیکن پھر پی ٹی ائی نے عدالت سے درخواست واپس لے لی اور محمود اچکزئی کو اپوزیشن لیڈر نامزد کرنے کا فیصلہ کیا۔
بقول عمار مسعود، محمود خان اچکزئی کا نام پی ٹی آئی کی جانب سے آنا اچنھبے کی بات تھی۔ زیادہ تر لوگ دو طرح کے اعتراضات کر رہے ہیں۔ ایک طبقہ معترض تھا کہ بیرسٹر گوہر، اسد قیصر اور علی محمد کے ہوتے ہوئے کیا پی ٹی آئی میں ایک شخص بھی اس قابل نہیں جو اس عہدے کا مستحق ہو۔ دوسرے وہ لوگ تھے جو ماضی میں محمود اچکزئی کے عمران مخالف اور عمران کے اچکزئی مخالف بیانات یاد دلا کر دونوں پر لعن طعن کر رہے ہیں۔
بیرسٹر گوہر نے جوڈیشل کمیشن اجلاس میں شرکت عمران خان سے ملاقات سے مشروط کردی
عمار مسعود کہتے ہیں کہ محمود خان اچکزئی کو نواز شریف سے خاص نسبت ہے۔ وہ انہیں پنجاب کا نہیں پاکستان کا بڑا لیڈر سمجھتے ہیں۔ انہوں نے شہباز شریف حکومت پر اکثر تنقید کی ہے مگر آج تک ایک لفظ بھی نواز شریف کے خلاف نہیں کہا۔ ذرائع یہ بھی بتاتے ہیں کہ ان کی بطور قائدِ حزبِ اختلاف تعیناتی میں بھی بڑے میاں صاحب کا بہت ذیادہ ہاتھ ہے۔ کہنے والے کہتے ہیں کہ اگر جاتی امرا سے ان کی تعیناتی کے حوالے سے گرین سگنل نہ ملتا تو آج بھی ایاز صادق ان کی تعیناتی کے حوالے سے کسی نہ کسی طرح لیت و لعل سے کام لے رہے ہوتے۔
