گنڈاپورسرکارکےپیروں کے نیچےسے اقتدارکیوں کھسکنےلگا؟

سیاسی جوڑ توڑ، آئینی موشگوفیوں، عدالتی فیصلے اور پارلیمانی طاقت کی کشمکش کی وجہ سے خیبر پختونخوا ملکی سیاست کا نیا میدان جنگ بن چکا ہے۔ مخصوص نشستوں بارے عدالتی فیصلے کے بعد اب سادہ اکثریت کے حصول کیلئے اپوزیشن اتحاد کو صرف 20 اراکینِ اسمبلی کی حمایت درکار ہے، اگر اپوزیشن ایسا کرنے میں کامیاب ہو جاتی ہے تو جہاں وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور کیلئے خطرے کی گھنٹی بج سکتی ہے وہیں پی ٹی آئی کی گنڈاپور سرکار بھی زمین بوس ہو سکتی ہے۔
خیال رہے کہ سپریم کورٹ کے مخصوص نشستوں بارے حالیہ فیصلے اور الیکشن کمیشن کے بعد ازاں جاری کردہ اعلامیے کے بعد خیبر پختونخوا اسمبلی میں مخصوص نشستوں کی نئی تقسیم نے اپوزیشن کی پوزیشن کو واضح طور پر مستحکم کر دیا ہے۔ اب اپوزیشن اتحاد کی مجموعی تعداد 53 ہو چکی ہے۔ واضح رہے کہ ایوان میں سادہ اکثریت حاصل کرنے کے لیے 73 ممبران کی حمایت درکار ہے۔
واضح رہے کہ خیبرپختونخوا اسمبلی کے صوبائی ایوان میں 115 منتخب ممبران ہیں جبکہ 26 نشستیں خواتین اور 4 مخصوص نشستیں اقلیتی ممبران کیلئے مختص ہیں خیبر پختونخوا اسمبلی میں پی ٹی آئی حکومت کے پاس 92 ممبران ہیں جبکہ پوزیشن اتحاد کی مجموعی تعداد 53 ہو چکی ہے۔ جمعیت علمائے اسلام (ف) کے پاس 7 منتخب نشستیں ہیں، جنہیں 10 خواتین اور 2 اقلیتی مخصوص نشستیں ملنے کے بعد ان کی تعداد 19 ہو گئی ہے۔ مسلم لیگ (ن) کو 6 منتخب نشستوں کے ساتھ 9 مخصوص نشستیں ملی ہیں، جس سے ان کی مجموعی تعداد 15 ہو چکی ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی کو 4 منتخب نشستوں کے ساتھ 6 خواتین اور ایک اقلیتی مخصوص نشست ملی، یوں ان کے اراکین کی تعداد 11 ہو گئی ہے۔ عوامی نیشنل پارٹی کو 2 منتخب اور ایک مخصوص نشست ملی ہے، جس سے وہ 3 نشستوں پر پہنچ گئی ہے، جبکہ پی ٹی آئی پارلیمنٹرینز کے پاس بھی 2 منتخب اور ایک مخصوص نشست کے ساتھ مجموعی طور پر 3 ارکان ہیں۔ اس کے علاوہ آزاد حیثیت میں کامیاب ہونے والے علی بادی اور ہشام انعام اللہ کی غیر رسمی حمایت بھی اپوزیشن اتحاد کو حاصل بتائی جاتی ہے۔ یوں اپوزیشن ایک منظم بلاک کی شکل اختیار کر چکا ہے جو حکومت کے لیے چیلنج بننے کی مکمل پوزیشن میں ہے، تاہم سادہ اکثریت کے لیے اسے اب بھی مزید 20 اراکین کی حمایت درکار ہے۔
مبصرین کے مطابق اس وقت حکومت اور اپوزیشن دونوں اپنی اپنی چالیں چلنے میں مصروف ہیں، فی الوقت اپوزیشن کھل کر میدان میں نہیں اتری، لیکن اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے آزاد ارکان سے رابطے تیز کیے جا رہے ہیں۔ تاہم ابھی تک اپوزیشن کی جانب سے تحریک عدم اعتماد پیش کرنے کے حوالے سے کوئی حتمی حکمت عملی سامنے نہیں آئی، مگر اپوزیشن اتحاد کے ذرائع بتاتے ہیں کہ وہ مناسب وقت اور ارکان کی حمایت مکمل ہونے کا انتظار کر رہے ہیں۔ جیسے ہی انھیں مطلوبہ حمایت مل جائے گی وہ فوری گنڈاپور سرکار کو گھر بھجوا دینگے۔
مبصرین کے بقول موجودہ حالات میں دلچسپ بات یہ ہے کہ جہاں اپوزیشن نسبتاً پرسکون نظر آ رہی ہے، وہیں پی ٹی آئی کی صفوں میں شدید بے چینی پائی جا رہی ہے۔ پی ٹی آئی کے اندر صف بندی اور آئندہ حکمت عملی کے لیے مشاورت جاری ہے۔ وزیر اعلیٰ علی امین گنڈا پور نے مخصوص نشستوں سے محرومی کو چیلنج کرنے کا اعلان کرتے ہوئے عدالت سے رجوع کرنے بارے مشاورت شروع کر دی ہے۔ ان کا مؤقف ہے کہ انہوں نے آزاد حیثیت میں نہیں بلکہ "پی ٹی آئی” کے ٹکٹ پر کاغذات نامزدگی جمع کرائے تھے، اس لیے مخصوص نشستوں سے محرومی غیر آئینی ہے۔
تاہم تجزیہ کاروں کے مطابق مخصوص نشستوں بارے پی ٹی آئی کو اس کی اپنی حکمت عملی نے مروایا ہے کیونکہ 2024کے عام انتخابات سے قبل جب الیکشن کمیشن نے انٹرا پارٹی انتخابات نہ کرانے پر پی ٹی آئی کا انتخابی نشان واپس لے لیا تھا۔ تو پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ امیدواروں نے آزاد حیثیت میں مختلف نشانات پر الیکشن لڑا تھا۔ بعد ازاں، ان امیدواروں نے سنی اتحاد کونسل میں شمولیت اختیار کی تاکہ مخصوص نشستیں حاصل کی جا سکیں، لیکن چونکہ سنی اتحاد کونسل نے کوئی انتخابی فہرست جمع نہیں کرائی تھی، اس لیے سنی اتحاد کونسل کا مخصوص نشستوں کا مطالبہ کالعدم قرار پایا۔ اب سپریم کورٹ اور الیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی کو مخصوص نشستیں نہ دینے کے حکم پر مہر تصدیق ثبت کر دی ہے۔ عدالتی فیصلے نے پی ٹی آئی قیادت کی نیندیں اڑا رکھی ہیں۔
مبصرین کے مطابق اگرچہ وزیر اعلیٰ علی امین گنڈاپور اور مشیر اطلاعات بیرسٹر سیف دعویٰ کر رہے ہیں کہ حکومت مستحکم ہے اور تمام ارکان متحد ہیں، لیکن زمینی حقائق اور مسلسل عدالتی و قانونی داؤ پیچ نے حکومت کو دباؤ میں رکھا ہوا ہے۔ اگرچہ وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور مسلسل دعوے کرتے دکھائی دے رہے ہیں کہ خیبرپختونخوا میں حکومت کی تبدیلی بارے اپوزیشن کے خواب کبھی پورے نہیں ہوں گے، مگر حقیقت یہ ہے کہ اگر اپوزیشن اتحاد سینیٹ انتخابات سے قبل 20آزاد اراکین کو اپنا ہمنوا بنا کر گنڈاپور کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش کردیتا ہے تو گنڈاپور حکومت کی ہچکولے کھاتی کشتی بیچ بھنور غرق ہو سکتی ہے۔
تجزیہ کاروں کے بقول خیبر پختونخوا اسمبلی میں عددی اکثریت کی یہ جنگ آئندہ چند ہفتوں میں صوبے کی سیاست کا رخ بدل سکتی ہے۔ پی ٹی آئی کی قانونی جنگ جاری ہے اور اپوزیشن کی سیاسی حکمت عملی روبہ عمل ہے۔ مبصرین کے مطابق فی الوقت خیبرپختونخوا کی صوبائی اسمبلی میں فضا متحرک اور غیر یقینی کا شکار ہے۔ اپوزیشن کی خاموشی اور حکومت کی سرگرمی اس تاثر کو مزید گہرا کر رہی ہے کہ کوئی بڑا سیاسی موڑ آنے والا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ تحریک انصاف عدالتی محاذ پر بازی پلٹتی ہے یا اپوزیشن 20 مزید ارکان کو ساتھ ملا کر سیاسی میدان مارتی ہے۔
