صدر ٹرمپ کو پچھتانا کیوں پڑے گا؟ حامد میر کی وارننگ

 

 

 

جیو نیوز سے وابستہ اینکر پرسن حامد میر نے صدر ٹرمپ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ہے کہ آپ نے ایران پر نہیں بلکہ امریکہ پر حملہ کیا ہے۔ انکا کہنا ہے کہ اسرائیل تو پہلے ہی دنیا بھر میں نفرت کی علامت بن چکا تھا۔ اب ٹرمپ امریکا کو بھی دنیا بھر میں نفرت کی علامت بنا رہے ہیں۔

 

روزنامہ جنگ کے لیے اپنے تجزیے میں حامد میر کہتے ہیں کہ پاکستان سمیت مسلم دنیا کے وہ حکمران جو ٹرمپ کی زبانی اپنی تعریفیں سُن کر بہت خوش ہوا کرتے تھے اب یہ دعا مانگیں گے کہ ٹرمپ دوبارہ اُنکی کبھی تعریف نہ کرے کیونکہ ٹرمپ اب امریکا میں بھی نفرت کی علامت بنتا جا رہا ہے۔ انکا کہنا تھا کہ نفرت کی اس علامت کو نوبل امن انعام کیلئے نامزد کرنیوالے حکمران بہت جلد پچھتائیں گے کہ ہم نےموت کے سوداگر کو امن کا پیامبر کیوں قرار دیا؟

 

حامد میر کے مطابق امریکی اخبار نیو یارک ٹائمز نے 28 فروری 2026ء کو اپنے اداریے میں صدر ٹرمپ سے سوال کیا ہے کہ انہوں نے ایران کے خلاف دوبارہ جنگ کیوں شروع کی ہے؟ وہ بتاتے ہیں کہ امریکا اور اسرائیل کی طرف سے ایران پر ایک اور حملے سے چند گھنٹے قبل عالمی میڈیا یہ خبر نشر کر رہا تھا کہ عمان کی کوشش سے جنیوا میں امریکا اور ایران کے مذاکرات درست سمت میں آگے بڑھ رہے ہیں۔ ٹرمپ نے ان مذاکرات کو بھی دھوکے کیلئے استعمال کیا اور مذاکرات کے دوران ہی ایران پر حملہ کر دیا۔ اس حملے کے نتیجے میں ایک نئی جنگ کی آگ پورے مشرق وسطیٰ میں پھیل چکی ہے۔

 

حامد میر کے مطابق ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت کے بعد اس جنگ کے شعلے مزید بھڑکیں گے۔ بظاہر ٹرمپ کا مقصد ایران میں حکومت کو تبدیل کرنا نظر آتا ہے لیکن سوال یہ ہے کہ کیا حکومت کی تبدیلی سے ایران میں استحکام آجائیگا؟ صدر ٹرمپ اور نیتن یاہو نے ملکر دنیا کو ایک تیسری عالمی جنگ کے دہانے پر لاکھڑا کیا ہے۔ اس ناچیز نے یکم جنوری 2026ء کو روزنامہ جنگ میں خدشہ ظاہر کیا تھا کہ دنیا ایک تیسری عالمی جنگ کی طرف بڑھ رہی ہے اور اس جنگ سے بچنے کیلئے 2026ء میں سب کو مل کر نیتن یاہو کو روکنا ہو گا۔ نیتن یاہو کو صرف ٹرمپ روک سکتے تھے لیکن افسوس کہ وہ اسکے پارٹنر بن گئے اور خامنہ ای کی موت کا اعلان کر کے داد طلب کر رہے ہیں۔

 

حامد میر سوال کرتے ہیں کہ کیا یہ جنگ صرف ایران میں حکومت کی تبدیلی تک محدود رہیگی؟ نیو یارک ٹائمز امریکی صدر سے جنگ شروع کرنیکی وجہ کیوں پوچھ رہا ہے؟ کیا نیویارک ٹائمز کے ایڈیٹوریل بورڈ نے اسرائیل میں امریکی سفیر مائیک ہاکبی کا وہ انٹرویو نہیں سنا جس میں موصوف نے کھل کر گریٹر اسرائیل کی حمایت کی تھی؟ اس جنگ کے آغاز سے پہلے دو اہم واقعات پیش آئے جن کا گریٹر اسرائیل کے منصوبے سے بہت گہرا تعلق ہے۔ پہلا واقعہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کا دورہ اسرائیل تھا۔ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے اس دورے کے آغاز سے ایک دن پہلے کہا کہ وہ بھارت کیساتھ ملکر شیعہ انتہا پسندوں اور سنی انتہا پسندوں کیخلاف ایک وسیع تر علاقائی اتحاد بنانے جا رہے ہیں۔ اس دعوے میں یہ عزم نظر آ رہا تھا کہ اسرائیل اور بھارت ملکر مسلمانوں کو فرقہ وارانہ بنیادوں پر تقسیم کرینگے اور اُن کیخلاف جنگی جارحیت کا ارتکاب کرینگے۔ دوسرا اہم واقعہ یہ تھا کہ جیسے ہی مودی اسرائیل پہنچے تو افغان طالبان نے پاکستان سے ملحقہ سرحد پر 51 حملے کر دیئے۔ پاکستان نے ان حملوں کا برق رفتاری سے سخت جواب دیا اور پہلی بار افغانستان کو یہ احساس دلایا کہ اُس نے کسی ایٹمی طاقت کو چھیڑا ہے۔

 

سینیئر صحافی کا کہنا ہے کہ میں پاکستان پر ان حملوں میں اور مودی کے دورہ اسرائیل میں زبردستی کوئی تعلق تلاش نہیں کر رہا۔ میں صرف اتنا جانتا ہوں کہ اسرائیل میں بھارت کے موجودہ سفیر جے پی سنگھ نومبر 2024ء میں کابل گئے تھے اور طالبان کے وزیر خارجہ امیر خان متقی سمیت دیگر اہم افغان رہنماؤں سے ملاقاتیں کی تھیں۔ جے پی سنگھ اسلام آباد میں بھی فرائض سر انجام دے چکے ہیں۔ انہوں نے افغان طالبان کو دہلی کے قریب لانے میں بہت اہم کردار ادا کیا۔ افغان طالبان مانیں یا نہ مانیں لیکن سب کو نظر آ رہا ہے کہ بھارت انہیں پاکستان کیخلاف استعمال کر رہا ہے۔ 26 اور 27فروری کی درمیانی شب جب افغان طالبان نے پاکستان پر حملے کئے تو ہم مودی کی اسرائیل میں موجودگی کو نظر انداز نہیں کر سکتے۔ کسے معلوم کہ طالبان کو پاکستان پر حملے کا مشورہ دینے والے دراصل مسلمانوں کو مسلمانوں سے لڑانے کی سازش کر رہے تھے۔

 

حامد میر کے بقول پاکستان کو بھارت اور اسرائیل کی پارٹنر شپ کا بہت اچھی طرح پتہ ہے اور یہ خدشہ موجود تھا کہ اس پارٹنر شپ کے نتیجے میں ان دونوں کی طرف سے پاکستان کیخلاف کوئی جارحیت کی جا سکتی ہے جس میں بالواسطہ یا بلاواسطہ افغان طالبان بھی شامل ہو سکتے ہیں لہٰذا ایسا کوئی وقت آنے سے قبل ہی انہیں افغانستان کے اندر گھس کر جواب دیا گیا۔ اب آیئے ٹرمپ اور نیتن یاہو کی طرف سے شروع کی گئی نئی جنگ کی طرف جو مشرق وسطیٰ سے جنوبی ایشیا کی طرف بڑھ رہی ۔جب اسرائیل میں امریکی سفیر مائیک ہاکبی نے گریٹر اسرائیل کی حمایت کی تو مجھے 2006ء کی لبنان اسرائیل جنگ یاد آگئی۔ اس جنگ کے دوران میں نے کئی ہفتے لبنان اور شام میں گزارے تھے۔ تب برطانوی صحافی رابرٹ فسک بیروت میں تھے اور دنیا بھر سے جنگ کی رپورٹنگ کیلئے بیروت آنیوالے صحافی ان کی باتیں بہت غورسے سنتے تھے۔ میں نے فسک کی زبان سے گریٹر اسرائیل کے منصوبے کی تفصیل پہلی بار سنی۔ فسک کہا کرتے تھے کہ صیہونی اس منصوبے کا جواز انجیل اور تورات سے تلاش کرتے ہیں لیکن یہ درحقیقت دنیا پر سیاسی و اقتصادی غلبہ قائم کرنے کا ایک منصوبہ ہے۔ وہیں پر میں نے ایک امریکی یہودی کرنل رالف پیٹرز کے بارے میں سنا جس نے 2006 ء میں امریکی آرمڈ فورسز جرنل میں نئے مشرق وسطیٰ کا نقشہ شائع کیا تھا جس میں شام، اردن، لبنان ، مصر اور عراق کے علاوہ سعودی عرب کی سرحدیں بھی بدل دی گئیں۔ رالف پیٹرز کے نقشے میں آزاد کردستان اور آزاد بلوچستان بھی شامل تھا۔ آزاد کردستان بنانے کیلئے عراق اور ترکی کو توڑنا ضروری تھا اور آزاد بلوچستان بنانے کیلئے ایران، پاکستان اور افغانستان کے بلوچ اکثریتی علاقوں کو ایک دوسرے سے جوڑنا تھا۔ کرنل رالف پیٹرز نے اپنے اس نقشے کو سامنے رکھ کر کئی مضامین لکھے ۔

 

حامد میر کے مطابق کرنل رالف پیٹرز نے پاکستان اور سعودی عرب کو غیر حقیقی ریاستیں قرار دیا۔ اس نے سعودی عرب کے کچھ علاقے اُردن میں شامل کر دیئے۔ ایران کے کئی علاقے آذربائیجان کو دے دیئے اور کچھ علاقے آزاد بلوچستان میں شامل کر دیئے۔ کرنل رالف نے اس نئے نقشے کو خون کی سرحدیں قرار دیا۔ خون کی ان سرحدوں کے پیچھے دراصل گریٹر اسرائیل کا منصوبہ تھا جیسے مائیک ہاکبی جیسے امریکی آج کھلم کھلا سپورٹ کر رہے ہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ مودی کا گریٹر اسرائیل سے کیا مفاد وابستہ ہے؟ مودی دراصل مسلمانوں کا دشمن ہے۔ مسلمانوں پر ظلم اور انہیں تقسیم کرنے کا ہر منصوبہ اُسکے دل کی آواز ہے۔ وہ گریٹر اسرائیل اور اکھنڈ بھارت کو ایک ہی سلسلے کی کڑی سمجھتا ہے۔ مودی سرکار نے بھارتی پارلیمنٹ میں اکھنڈ بھارت کا نقشہ لگا رکھا ہے جس کے تحت وہ پاکستان، افغانستان، بنگلہ دیش، نیپال، سری لنکا، مالدیپ اور تبت کے کچھ علاقوں کو بھارت میں شامل کرنا چاہتا ہے۔ افغان طالبان نے آج تک اکھنڈ بھارت کی مذمت نہیں کی یا پھر انہیں اسکا ابھی ادراک ہی نہیں۔

امریکہ اور ایران کی جنگ میں پاکستان بال بال کیسے بچا؟

حامد میر کہتے ہیں کہ اسرائیل اور انڈیا دو نئی عالمی طاقتیں بننا چاہتے ہیں۔ اس مقصد کیلئے اسرائیل کی صہیونی لابی امریکا کے صدر ٹرمپ کو استعمال کر رہی ہے۔ امریکا کے بہت سے یہودی دانشور گریٹر اسرائیل کے منصوبے کی سخت مخالفت کر رہے ہیں کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ یہ منصوبہ اصل میں صہیونی تحریک کو ایک ایسی نئی عالمی طاقت بنانے کا ہے جو امریکا پر بھی غلبہ پانا چاہتی تھی۔ مختصر یہ کہ ٹرمپ نے جو جنگ شروع کی ہے یہ جنگ در اصل امریکا کیخلاف جنگ ہے۔ اسرائیل تو پہلے ہی دنیا بھر میں نفرت کی علامت بن چکا۔ ٹرمپ امریکا کو بھی نفرت کی علامت بنا رہے ہیں۔

Back to top button