گورنر راج سے PTI کا نقصان کی بجائے فائدہ کیوں ہو گا؟

 

اگر وفاقی حکومت نے خیبر پختونخوا میں گورنر راج نافذ کرنے کی غلطی کی تو یہ فیصلہ صوبے میں تحریک انصاف کے مردہ گھوڑے میں دوبارہ جان ڈال دے گا۔ اس وقت صوبے میں 13 برس سے حکمرانی کے مزے لوٹنے والی پی ٹی آئی کی عوامی مقبولیت مسلسل گرتی چلی جا رہی ہے اور اس کی کارکردگی پر سوالات اٹھ رہے ہیں، لیکن گورنر راج کے نفاذ جیسا غیر دانشمندانہ فیصلہ تحریک انصاف کے لیے سیاسی آکسیجن ثابت ہو گا۔

خیبر پختون خواہ کی سیاست پر نظر رکھنے والے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ صوبے کے عوام کو یہ احساس ہو چکا ہے کہ عمران خان کی جماعت نے ان کی فلاح و بہبود یا صوبے کی ترقی کے لیے کھوکھلے دعوؤں کے سوا کچھ نہیں کیا۔ انکے مطابق وقت گزرنے کے ساتھ پی ٹی آئی کے ووٹرز اور سپورٹرز میں یہ تاثر گہرا ہوتا جا رہا ہے کہ خان کے وعدے تو بہت تھے، لیکن صوبے پر 13 برس کی بلاشرکت غیر حکمرانی کے باوجود انکی جماعت کی عملی کارکردگی نہ ہونے کے برابر رہی۔

معروف صحافی اور تجزیہ کار مزمل سہروردی کے مطابق 26 نومبر 2024 کو ناکامی کا شکار ہونے والے اسلام آباد دھرنے کے بعد تحریک انصاف نے جتنی بھی احتجاجی کالز دیں وہ سب بری طرح ناکام ہوئیں۔ پارٹی کے حالیہ یومِ سیاہ میں تو ایک ہزار لوگ بھی جمع نہ ہو پائے تھے۔ صوبے میں کارکردگی دکھانے کے لیے بڑھتے ہوئے عوامی دباؤ نے عوام کو پی ٹی آئی سے بددل کر دیا ہے۔ انکے مطابق پی ٹی ائی کا گڑھ سمجھے جانے والے ہری پور ہزارہ کے ضمنی الیکشن کا نتیجہ سب کے سامنے ہے جہاں عمر ایوب خان کی اہلیہ اپنے شوہر کی پکی سیٹ ہار گئی ہیں۔

ایسے میں مزمل سہروردی وفاقی حکومت سے سوال کرتے ہیں کہ خیبر پختونخوا میں گورنر راج لگا کر آپ پی ٹی آئی کو شہید بنانے کی کوشش کیوں کر رہے ہیں؟ ان کے مطابق پہلے بھی فیصلہ سازوں سے ایسی ہی غلطی ہوئی تھی۔ بطور وزیر اعظم عمران خان غیر مقبول ہو چکے تھے لیکن موصوف کو ایک تحریک عدم اعتماد کے ذریعے وزارت عظمی سے نکالنے سے سارا ماحول بدل گیا۔ بعد میں عمران خان نے پنجاب اور کے پی کی اسمبلیاں بھی اسی لیے توڑ دیں کہ وہ کارکردگی کے بجائے مظلومیت کا بیانیہ بنا سکیں۔ آج ایک بار پھر فضا ایسی بنتی جا رہی ہے کہ بات کارکردگی پر آ رہی ہے، صوبے کے عوام سوالات پوچھ رہے ہیں، لہٰذا ایسے ماحول میں پارٹی کو سیاسی شہادت کا تحفہ دینا بہت بڑی غلطی ہوگی۔

مزمل سہروردی کا کہنا ہے کہ خیبر پختون خواہ میں گورنر راج کا نفاذ وہاں مردہ تحریک انصاف کے جسم میں نئی روح پھونک ڈالے گا، اور خود پی ٹی آئی کی خواہش بھی یہی ہوگی کہ اسے شہادت کہ مرتبے پر فائز کر دیا جائے۔ اس لیے فیصلہ سازوں کے لیے بہتر یہی ہے کہ صبر سے کام لیں اور پی ٹی آئی کو اپنی سیاسی موت آپ مرنے دیں۔ تاہم کچھ تجزیہ کاروں کے مطابق مسئلہ یہ ہے کہ دوسری طرف فیصلہ سازوں کی بھی برداشت ختم ہو رہی ہے۔ انہیں یقین ہے کہ حالات کو دانستہ اس نہج پر لایا گیا ہے۔ انکے خیال میں وزیرِ اعلیٰ سہیل آفریدی کو بھی اسی حکمت عملی کے تحت تبدیل کیا گیا تاکہ کشیدگی بڑھے اور ٹکراؤ ناگزیر ہو جائے۔

ان تجزیہ کاروں کی رائے ہے کہ خیبر پختونخوا میں گورنر راج کا نفاذ اب آخری آپشن کے طور پر دیکھا جا رہا ہے لیکن وہ اس بات سے بھی اتفاق کرتے ہیں کہ یہ کوئی مستقل حل نہیں ہے۔ انکے مطابق گورنر راج زیادہ سے زیادہ چھ ماہ نافذ رہ سکتا ہے جس کے بعد اسمبلی بھی بحال ہو جائے گی اور حکومت بھی۔ لیکن تب تک تلخی کئی گنا بڑھ چکی ہو گی۔ اگر گورنر راج کی مدت کو مذید بڑھانا ہو تو آئینی ترمیم درکار ہوگی ورنہ چھ ماہ کا گورنر راج مسئلے کا حل نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ وفاق اور فوج بھی بند گلی میں کھڑے ہیں اور تحریک انصاف بھی۔ دونوں طرف سے راستہ نہیں نکل رہا اور سیاسی گھٹن بڑھتی جا رہی ہے۔

مزمل سہروردی کے مطابق تحریک انصاف کے بانی کی بہنوں کے بھارتی میڈیا کو متنازعہ انٹرویوز نے بھی فضا کو بہت خراب کیا ہے۔ مماثلتیں نکالی جا رہی ہیں کہ ماضی میں جب بانی ایم کیو ایم نے بھارت نوازی شروع کی تو ریاست نے اسے برداشت نہیں کیا تھا۔ اب بھی بھارتی بیانیے کے ساتھ ہم آہنگی کو کسی صورت قبول نہیں کیا جائے گا۔ ریاست 1971 کے بعد اس معاملے میں بہت حساس ہے اور ایسا کوئی رجحان سامنے آئے تو اسے ابتدا میں ہی ختم کر دیا جاتا ہے۔ اگر پی ٹی آئی کی قیادت بھارت کے کندھوں پر بیٹھ کر سیاست کرنا چاہتی ہے تو پھر اسی نظر سے دیکھا جائے گا۔

ایک رائے یہ بھی سامنے آ رہی ہے کہ کے پی کے نئے وزیرِ اعلیٰ کے ساتھ ورکنگ ریلیشن قائم کرنے کی کافی کوششیں کی گئیں۔ پہلے وزیرِ اعظم نے انہیں مبارک باد کا فون کیا، جس کا سوشل میڈیا پر مذاق بنایا گیا۔ پھر کور کمانڈر پشاور ان سے ملنے انکے دفتر گئے۔ یہ دونوں کوششیں تعلقات کو نارمل رکھنے کے لیے تھیں لیکن ان کا کوئی مثبت جواب نہیں ملا۔ لیکن بعض حلقوں کا یہ خیال ہے کہ اگر ضد نہ کی جاتی اور عمران خان سے ایک ملاقات کروا دی جاتی تو معاملات معمول پر آ سکتے تھے۔ لیکن دوسری طرف کا کہنا ہےکہ سیاسی ملاقاتوں کا کارڈ بہت پرانا ہو چکا ہے۔ درجنوں مرتبہ ملاقاتیں ممکن بنائی گئیں مگر صورتحال میں بہتری نہیں آئی، اس لیے اب سیاسی ملاقاتیں بند ہیں۔ جیسے اور کسی قیدی کو سیاسی ملاقات کی اجازت نہیں، اسی طرح بانی کو بھی اجقزت نہیں۔

ادھر تحریک انصاف اور خصوصاً وزیرِ اعلیٰ کے پی نے اڈیالہ کے باہر احتجاج کا اعلان کر رکھا ہے۔ پوری کوشش کی جا رہی ہے کہ زیادہ سے زیادہ لوگ اسلام آباد پہنچیں۔ اگر تو پی ٹی آئی کے ورکرز کی بڑی تعداد جمع ہو گئی تو امن و امان کا مسئلہ پیدا ہو سکتا ہے۔ محمود خان اچکزئی پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ اڈیالہ پر حملہ کر کے بانی کو چھڑانا چاہیے۔ اس لیے یہ احتجاج ایک بڑے چیلنج کی صورت اختیار کر سکتا ہے۔ یاد رہے کہ علیمہ خان اور ابکے وزیرِ اعلیٰ کے پہلے دھرنے چند گھنٹوں میں ناکام ہو گئے تھے کیونکہ لوگ ان کے ساتھ نہیں تھے، لہٰذا اب بھرپور کوشش کی جا رہی ہے کہ ورکرز کی حاضری پوری ہو۔

مزمل سہروردی کہتے ہیں کہ اگر امن و امان خراب ہوا تو سختی ہو گی، کوئی رعایت نہیں ملے گی، اور ممکن ہے کہ بانی کو اڈیالہ سے کسی دور دراز جیل، شاید بلوچستان منتقل کر دیا جائے تاکہ کوئی وہاں تک نہ پہنچ سکے۔ یوں احتجاج کو بھی حکومت اور فوج اپنے فائدے میں استعمال کر سکتی ہیں۔ حکومتی مؤقف ہے کہ اسوقت پاکستان کی افغانستان کے ساتھ کشیدگی چل رہی ہے، دہشت گردی کے خطرات بڑھ رہے ہیں، افغانوں کی واپسی، سمگلنگ کی روک تھام اور منشیات کے خلاف آپریشن جیسے اہم کام چل رہے ہیں، اور ان سب میں کے پی حکومت کسی قسم کا تعاون نہیں کر رہی۔ ایسے میں معاملات نہیں چل سکتے اور گورنر راج پر سنجیدگی سے غور ناگزیر ہوتا جا رہا ہے۔

دوسری طرف پی ٹی آئی کا ردِعمل روایتی ہے کہ گورنر راج کل کیوں ، آج لگا دو؛ لیکن بیچ میں پریشانی بھی ہے کیونکہ کے پی کی حکومت ہی مفرور قیادت کی واحد پناہ گاہ ہے۔ اگر اس سے یہ سہارا بھی چھن گیا تو بہت کچھ بدل جائے گا۔

ایک رائے یہ بھی ہے کہ وفاق نے گورنر راج لگانے کی صرف دھمکی دی ہے اور اگر صوبائی حکومت نے اسکے بعد بھی رویہ نہ بدلا تو مزید اقدامات پر غور کیا جائے گا۔ اس صورت حال میں فیصلہ ساز ایک مشکل مقام پر کھڑے ہیں۔ ان کا اگلا قدم کیا ہوگا؟ سب اسی کے منتظر ہیں۔

Back to top button