سہیل آفریدی کا انجام گنڈاپور سے مختلف کیوں نہیں ہو گا؟

خیبرپختونخوا میں وزارتِ اعلیٰ کی تبدیلی نے تحریک انصاف کی اندرونی سیاست، پارٹی مزاج اور لیڈر شپ کے فیصلوں کی سمت پر ایک بار پھر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ بانی پی ٹی آئی عمران خان کی ہدایت پر علی امین گنڈاپور کو ہٹانے کے بعد نوجوان رکن اسمبلی سہیل آفریدی کو وزیرِ اعلیٰ بنایا گیا تھا، مگر تبدیل شدہ چہرے اور جوان عمری کے باوجود سہیل آفریدی اور علی امین گنڈاپور میں مجموعی طور پر زیادہ فرق نظر نہیں آتا۔
سابقہ اور موجودہ وزیراعلی خیبر پختون خواہ کو جاننے والے صحافیوں کا کہنا ہے کہ دونوں کی سیاسی حکمتِ عملی، طرزِ حکومت اور رویوں میں بنیادی مماثلتیں موجود ہیں، اور بظاہر ایسا دکھائی دیتا ہے کہ سہیل آفریدی بھی وہی خطرناک راستہ اختیار کر رہے ہیں جو گنڈاپور کی فراغت کا سبب بنا۔ یہی وجہ ہے کہ سہیل آفریدی کا انجام بھی گنڈاپور کے انجام سے مختلف دکھائی نہیں دیتا۔
علی امین گنڈاپور طویل عرصے سے خیبرپختونخوا کی سیاست میں سرگرم رہے ہیں اور جوڑ توڑ کے ماہر سمجھے جاتے ہیں۔ گروپ بندی اور داخلی حمایت کے ذریعے وہ نہ صرف صوبائی صدر کے عہدے تک پہنچے بلکہ وزارتِ اعلیٰ بھی حاصل کر لی۔ پشاور کے سینئر صحافی لحاظ علی کے مطابق گنڈاپور کو عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی حمایت بھی حاصل رہی جس نے ان کے عروج میں اہم کردار ادا کیا، مگر وہ حکومت چلانے میں بُری طرح ناکام رہے۔ عمران خان کی احتجاجی کالز پر کارکنوں کو متحرک کرنے میں ناکامی، گورننس کے مسائل اور تنظیمی بغاوت نے گنڈاپور کی اقتدار پر گرفت کمزور کر دی تھی۔ لحاظ علی کے بقول آخر میں تو کارکنوں نے انہیں جوتے دکھا دیے اور عمران خان کے پاس انہیں فارغ کرنے کے سوا کوئی راستہ نہیں بچا تھا۔
سینیئر صحافی سہیل وڑائچ کا کہنا ہے کہ عمران خان نے سہیل آفریدی کو جارحانہ سیاست کے لیے چنا ہے اور ان کا ابتدائی طرزِ عمل بھی اسی مزاج کی عکاسی کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آفریدی نئی نسل سے ہیں، پہلی مرتبہ اسمبلی میں پہنچے ہیں، اور طلبہ سیاست سے آگے بڑھے ہیں۔ لیکن وہ اس تاثر کو مسترد کرتے ہیں کہ کم عمری یا ناتجربہ کاری انکی کارکردگی کی راہ میں رکاوٹ بنے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ فرق صرف یہ ہے کہ علی امین گنڈاپور بیوروکریسی سے ٹکراؤ کی سیاست کرتے تھے جبکہ سہیل آفریدی گفت و شنید سے کام چلانے کی کوشش کرتے ہیں۔ البتہ وہ دو پہلؤں میں گنڈاپور سے مماثلت رکھتے ہیں: ایک یہ کہ وہ بھی پشاور سے زیادہ اسلام آباد میں وقت گزارتے ہیں، اور دوسرا یہ کہ وہ بھی پی ٹی آئی کے سوشل میڈیا بریگیڈ سے خوفزدہ ہیں، جس کے باعث فیصلہ سازی میں ہچکچاہٹ پیدا ہوتی ہے۔
دوسری جانب جیو نیوز پشاور کے بیورو چیف شکیل فرمان علی کا کہنا ہے کہ گنڈاپور طویل سیاسی کیریئر کے ساتھ وزارتِ اعلیٰ تک پہنچے تھے جبکہ سہیل آفریدی پہلی مرتبہ ایم پی اے منتخب ہوئے اور اُن کے پاس انتظامی تجربہ بہت کم ہے۔ ان کے مطابق ابھی حکومت اور سیاست کی پیچیدگیوں پر آفریدی کی گرفت مضبوط نہیں ہو سکتی۔ شکیل فرمان نے یاد دلایا کہ علی امین گنڈاپور پر یہ الزام بھی لگایا جاتا تھا کہ وہ عمران کی رہائی میں سنجیدہ نہیں۔ انہوں نے یہ واضح کر دیا تھا کہ وہ کسی ایسے احتجاج کا حصہ نہیں بنیں گے جس میں جانی نقصان کا خطرہ ہو۔ اس کے برعکس سہیل آفریدی نے ابتدا سے ہی یہ مؤقف اپنایا کہ عمران خان کی رہائی اُن کا بنیادی سیاسی مشن ہے، اور اسی وجہ سے ان کی عمران خان سے ملاقات نہیں ہونے دی جا رہی۔
شکیل فرمان کا کہنا ہے کہ علی امین گنڈاپور چونکہ تجربہ کار تھے اور بیوروکریسی کے ساتھ ان کے پرانے تعلقات بھی تھے، اس لیے گورننس پر ان کی گرفت آفریدی سے بہتر تھی۔ چونکہ آفریدی کا مزاج ٹکراؤ اور جارحیت پر مبنی ہے، اس لیے ان کا طریقہ کار مختلف ہوگا اور شاید زیادہ غیر متوقع بھی۔ وہ کہتے ہیں کہ آفریدی کے پاس محدود تجربہ ہے لہذا کچھ وقت گزرنے کے بعد ہی اُن کی کارکردگی کا صحیح جائزہ لیا جا سکے گا۔
پشاور کے سینئر صحافی سیف الاسلام سیفی کا کہنا ہے کہ علی امین گنڈاپور کو ہٹانے کی ایک بڑی وجہ یہ بھی تھی کہ فوجی اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ ان کے قریبی تعلقات عمران خان کی رہائی کی صورت میں سامنے نہیں آئے۔ پارٹی کے اندر کئی مرتبہ کارکنوں نے گنڈاپور کو ہی عمران کی رہائی میں رکاوٹ قرار دیا۔ اس کے برعکس سہیل آفریدی شروع دن سے ہی جارحانہ موقف اپنا کر چل رہے ہیں، چاہے وہ اسمبلی کی تقاریر ہوں، یا اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج ہو۔ سیفی کے مطابق ایسے وقت میں عمران خان کو ایک ایسے ہی نوجوان، جذباتی اور جارحانہ لیڈر کی ضرورت تھی جو کارکنوں کو میدان میں لا سکے اور مرکز کے خلاف سیاسی دباؤ بڑھا سکے۔ یہی وجہ ہے کہ سہیل آفریدی کو وزارتِ اعلیٰ دی گئی ہے۔
عمران خان کی فوج کے خلاف نفرت کھل کر باہر کیسے آئی؟
سیف الاسلام سیفی کے مطابق قبائلی علاقوں سے تعلق رکھنے کی وجہ سے سہیل آفریدی کی توجہ ضم اضلاع پر زیادہ ہوگی جہاں کی سیاسی اور انتظامی امیدیں صوبہ بھر سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ اگرچہ ابھی تک آفریدی کے خلاف کوئی بڑا گروہ نہیں بنا لیکن علی امین گنڈاپور کے برخلاف وہ مختلف دھڑوں کو ساتھ ملا کر چلنے کی کوشش کرتے دکھائی دیتے ہیں، اور اسی لیے اُن وزرا کو بھی کابینہ میں واپس لایا گیا ہے جنہیں پہلے گنڈاپور نے باہر نکالا تھا۔ تاہم تجزیہ کاروں کے مطابق سہیل آفریدی کا انجام بھی گنڈاپور سے مختلف اس لیے نہیں ہوگا کہ انہیں بھی عمران خان کی ہدایات پر ہی آگے بڑھتے ہوئے احتجاج اور انتشار کی سیاست کرنی ہے۔
