پاکستان میں سولرپینل کے صارفین نیٹ میٹرنگ سےکیوں ہٹنےلگے؟

پاکستان میں ہر گزرتے دن کے ساتھ جہاں سولر توانائی استعمال کرنے والوں کی تعداد میں اضافہ ریکارڈ کیا جا رہا ہے وہیں دوسری جانب سولر صارفین میں آف گرڈ سولر سسٹم کی جانب رجحان میں تیزی دیکھنے میں آ رہی ہے۔ ناقدین کے مطابق نیٹ میٹرنگ بارے بدلتی حکومتی پالیسیوں، بجلی کے ناقابلِ برداشت بلوں اور لوڈشیڈنگ سے تنگ آ کر لاکھوں گھر، دکانیں اور فیکٹریاں نیشنل گرڈ سے مکمل طور پر لاتعلق ہو چکے ہیں۔ پاور ڈویژن کے مطابق ملک بھر میں 12 سے 13 ہزار میگاواٹ سے زائد آف گرڈ سولر سسٹم نصب ہو چکے ہیں ناقدین کے مطابق وہ وقت دور نہیں جب بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کے پاس وافر بجلی تو ہوگی، مگر اسے خریدنے والے صارفین موجود نہیں ہوں گے۔

سولر انڈسٹری سے وابستہ ماہرین کے مطابق بیشتر صارفین حکومتی پالیسیوں سے حد درجے مایوس ہو چکے ہیں۔ وہ نیشنل گرڈ سے منسلک رہ کر نہ تو نیٹ میٹرنگ کے پیچیدہ نظام میں پڑنا چاہتے ہیں اور نہ ہی بدلتی حکومتی پالیسیوں کے رحم و کرم پر رہنے کے لیے تیار ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ لوگ اپنی چھتوں پر سولر پینلز اور بیٹری سسٹم لگا کر بجلی کی پیداوار میں مکمل خود کفالت اختیار کرنا چاہتے ہیں۔ اسی طرزِ فکر نے ملک میں آف گرڈ سولر سسٹمز کے رجحان میں نمایاں اضافہ کر دیا ہے۔

ماہرین کے بقول آف گرڈ سولر سسٹم اس وقت پاکستان میں توانائی کا سب سے تیزی سے پھیلتا ہوا شعبہ بن چکا ہے۔ درحقیقت ملک میں 15 ہزار میگاواٹ سے بھی زیادہ آف گرڈ تنصیبات ہو چکی ہیں کیونکہ 70 فیصد سے زائد صارفین اپنا سسٹم رجسٹر ہی نہیں کرواتے۔ لوگ کہتے ہیں کہ “جب گرڈ پر بھروسہ ہی نہیں تو نیٹ میٹرنگ کا کیا فائدہ؟”اس لئے وہ اس کے جھنجھٹ میں ہی نہیں پڑتے۔ ماہرین کا مزید کہنا ہے کہ حالیہ کچھ عرصے میں آف گرڈ سسٹمز کی طلب میں غیر معمولی اضافہ دیکھا گیا ہے؛ پہلے صارفین 5 سے 10 کلو واٹ کے سسٹم لگاتے تھے، اب اوسطاً 20 سے 50 کلو واٹ تک کے سسٹم نصب کیے جا رہے ہیں۔ ان کے بقول اکثر صارفین کا پہلا مطالبہ ہی یہی ہوتا ہے: “مجھے گرڈ سے مکمل آزاد کر دیں، بل صفر ہونا چاہیے۔”

 

سولر توانائی سے وابستہ ماہرین کے مطابق حکومت کی جانب سے نیٹ میٹرنگ پر نت نئے ٹیکسز اور سولرپالیسیوں میں بار بار تبدیلی نے صارفین کو یہ سبق سکھا دیا ہے کہ آف گرڈ سسٹم ہی زیادہ محفوظ اور فائدہ مند راستہ ہے۔ لتھیم بیٹریوں کی درآمد میں تیزی سے اضافہ بھی اسی رجحان کی علامت ہے۔ ان کے مطابق ایک عام 3 بیڈ روم گھر 15 کلو واٹ پینلز اور 20 کلو واٹ بیٹری کے ساتھ سالانہ 3 سے 4 لاکھ روپے بجلی کے بل کی مد میں بچا سکتا ہے۔ آف گرڈ سولر سسٹم استعمال کرنے والے ایک صارف علی کے مطابق انھوں نے گھر میں 5 کلو واٹ پینل اور 15 کلو واٹ لیتھیم بیٹری نصب کر رکھی ہے جس کے بعد ان کا ماہانہ بجلی کا بل مکمل طور پر صفر ہو چکا ہے۔ ان کے مطابق “گرڈ کا میٹر اب صرف شوپیس ہے، کیونکہ نیٹ میٹرنگ بارے ہر کچھ عرصے بعد نئی حکومتی پالیسی سننے کو ملتی ہے۔ بہتر ہے کہ بیٹری لے لی جائے اور سکون سے رہا جائے۔”

ماہرین متفق ہیں کہ ملک میں جاری آف گرڈ انقلاب اب تھمنے والا نہیں۔ جب تک بجلی کے نرخوں میں نمایاں کمی اور نیشنل گرڈ پر اعتماد بحال نہیں ہوتا، لاکھوں پاکستانی ہر ماہ گرڈ کو چھوڑتے رہیں گے اور اپنی چھتوں کو اپنا ذاتی پاور ہاؤس بناتے جائیں گے۔

خیال رہے کہ بجلی کے بڑھتے نرخوں اور طویل لوڈشیڈنگ نے پاکستانی عوام کو متبادل ذرائع کے استعمال پر مجبور کر دیا ہے۔ شمسی توانائی کا ’’خاموش انقلاب‘‘ اب پاکستان میں متمول طبقے سے آگے بڑھ کر متوسط اور کم آمدنی والے گھرانوں تک پہنچ چکا ہے۔ حکومتی اعداد و شمار کے مطابق2021ء میں نیٹ میٹرنگ کے ذریعے 321 میگاواٹ بجلی پیدا کی جا رہی تھی جو اکتوبر 2024ء تک بڑھ کر 3300 میگاواٹ جبکہ سال 2024 کے اختتام پر 4124 میگاواٹ تک پہنچ چکی تھی، جبکہ  دسمبر 2024ء تک ملک میں نیٹ میٹرنگ صارفین کی تعداد 2 لاکھ 83 ہزار سے تجاوز کر چکی تھی۔ ، جبکہ ماہرین کے مطابق یہ صلاحیت مستقبل میں 12 ہزار میگاواٹ تک جا سکتی ہے۔ توانائی کے عالمی تھنک ٹینک ’’ایمبر‘‘ کے مطابق 2020 میں پاکستان کے توانائی کے مجموعی حجم میں شمسی توانائی کا حصہ دو فیصد سے بھی کم تھا، جو 2024 میں بڑھ کر 10.3 فیصد تک جا پہنچا ہے۔ حیران کن طور پر 2025 کے پہلے پانچ ماہ میں یہ حصہ دوگنا ہو کر 24 فیصد تک پہنچ گیا ہے اور پہلی مرتبہ شمسی توانائی ملک کا سب سے بڑا توانائی کا ذریعہ بن کر سامنے آئی ہے۔ شمسی توانائی کے استعمال میں تیزی نے گیس، کوئلے، جوہری توانائی حتیٰ کہ دہائیوں کی سرمایہ کاری والے ہائیڈرو پاور کو بھی پیچھے چھوڑ دیا ہے وہ وقت دور نہیں جب ملکی توانائی کا 60 فیصد حصہ قابلِ تجدید ذرائع سے حاصل کیا جائے گا۔

Back to top button