مارچ میں بجلی کے بل عوام کی چیخیں کیوں نکال دیں گے؟

وفاقی حکومت نے خاموش واردات ڈالتے ہوئے پروٹیکٹڈ و نان پروٹیکٹڈ صارفین پر بجلی بم گرا دیا ہے جس کا خمیازہ عوام کو آنے والے مہینوں میں بھاری بجلی کے بلوں کی صورت میں بھگتنا پڑے گا۔ نیپرا کی جانب سے تمام بجلی صارفین پر عائد کردہ فکسڈ چارجز کی وجہ سے جہاں چھوٹے گھریلو صارفین کو بھی بجلی کم استعمال کرنے یا حتیٰ کہ استعمال نہ کرنے کی صورت میں بھی سرچارج کی ادائیگی لازم ہو گی جبکہ بجلی زیادہ استعمال کرنے والوں کیلئے بھی حکومت نے پہلے سے عائد کردہ سرچارج میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ حکومتی منظوری کے بعد عائد کردہ فکسڈ سرچارجز نے عوام کی چیخیں نکلوا دی ہیں اور سوشل میڈیا پر اس حوالے سے سخت رد عمل دیکھنے میں آ رہا ہے۔
خیال رہے کہ نیپرا نے پروٹیکٹد اور نان پروٹیکٹڈ گھریلو صارفین پر فکسڈ چارجز عائد کر دئیےہیں یعنی اب تمام بجلی صارفین کیلئے ماہانہ بل کے ساتھ اضافی رقم ادا کرنا لازم ہو گی۔ نیپرا کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق پاکستان میں پہلی مرتبہ 300 یونٹ تک استعمال کرنے والے پروٹیکٹڈ اور نان پروٹیکٹڈ دونوں صارفین پر فکسڈ چارجز عائد کئے گئے ہیں۔ نیپرا کے فیصلے میں بتایا گیا ہے کہ ’ماہانہ 100 یونٹ استعمال کرنے والے پروٹیکٹڈ صارفین کو 200 روپے جبکہ 200 یونٹس تک استعمال کرنے والے صارفین کو ماہانہ 300 روپے تک فکسڈ چارجز ادا کرنا ہوں گے۔‘اسی طرح ماہانہ 100 یونٹ استعمال کرنے والے نان پروٹیکٹڈ صارفین پر 275 روپے تک فکسڈ چارجز عائد کیے گئے ہیں جبکہ 200 یونٹ تک کے نان پروٹیکٹڈ صارفین پر 300 روپے تک فکسڈ چارجز عائد ہوئے ہیں۔نیپرا کے نوٹیفکیشن کے مطابق ماہانہ 300 یونٹ تک استعمال کرنے والے نان پروٹیکٹڈ صارفین پر 350 روپے اور 400 یونٹ تک بجلی استعمال کرنے والے نان پروٹیکٹڈ صارفین پر 200 روپے کے اضافے کے بعد 400 روپے فکسڈ چارجز عائد ہوئے ہیں۔ماہانہ 500 یونٹ استعمال کرنے والے بجلی صارفین کی بات کی جائے تو ان کے لیے فکسڈ چارجز میں 100 روپے کے اضافے کے بعد یہ رقم 500 روپے کر دی گئی ہے، جبکہ 600 یونٹ استعمال کرنے والے صارفین کے فکسڈ چارجز میں 75 روپے کے اضافے کے بعد یہ رقم 675 روپے ہو گئی ہے۔
نیپرا کی جانب سے کم بجلی استعمال کرنے والے صارفین کو فکسڈ سرچارج کی صورت میں جہاں 240واٹ کا جھٹکا دیا گیا ہے وہیں زیادہ یونٹ استعمال کرنے والے صارفین کو ریلیف فراہم کرتے ہوئے فکسڈ چارجز میں کمی کر دی گئی ہے۔ فیصلے کے مطابق ماہانہ 700 یونٹ تک بجلی کے استعمال پر فکسڈ چارجز میں 125 روپے کی کمی کی گئی ہے اور اب یہ چارجز 675 روپے کر دئیے گئے ہیں، جبکہ 700 یونٹ سے زائد بجلی استعمال کرنے پر فکسڈ چارجز میں 325 روپے کی کمی کے بعد سرچارجز 675 روپے ہو گئے ہیں۔ معاشی ماہرین کے مطابق فکسڈ سرچارجز کے ذریعے حکومت نے مجموعی طور پر گھریلو بجلی صارفین پر 132 ارب روپے کا اضافی بوجھ ڈالا ہے، جبکہ دوسری جانب صنعتی ٹیرف میں 4 روپے 58 پیسے فی یونٹ تک کمی کی گئی ہے۔
استعفیٰ قبول ہونے کے بعد سردار اختر مینگل کی سیاست فارغ ؟
توانائی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ ’حکومت ایک طرف صنعتوں کے لیے بجلی سستی کر رہی ہے، تو دوسری جانب گھریلو صارفین پر فکسڈ چارجز عائد کرنا ان پر مالی بوجھ بڑھانے کے مترادف ہے۔‘ ناقدین کے مطابق حکومت نے پروٹیکٹڈ صارفین پر فکسڈ چارجز عائد کر کے ایک نئی مثال قائم کی ہے،جس کے بعد تاریخ میں پہلی بارپروٹیکٹڈ صارفین بھی بجلی پر عائد مختلف ٹیکسز اور چارجز کے دائرہ کار میں آ گئے ہیں۔‘ ناقدین کے مطابق حکومت کی جانب سے یہ فیصلہ ایک ایسے وقت میں آیا ہے جب عام صارفین پہلے ہی مہنگائی، اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ اور روزمرہ زندگی کے دیگر مالی دباؤ سے دوچار ہیں۔ اس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ حکومت کی پالیسی صنعتی صارفین اور گھریلو صارفین کے درمیان توازن قائم کرنے کی کوشش کے نام پر سب سے زیادہ کمزور اور کم آمدنی والے طبقے پر اثر انداز ہو رہی ہے۔ جس نے مہنگائی کی چکی میں پسے عوام کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے۔
