اپوزیشن کی 8 فروری کی احتجاجی کال ناکام کیوں ہو گی؟

محمود خان اچکزئی کی قیادت میں تحریکِ تحفظِ آئینِ نے 8 فروری کو ملک گیر احتجاج کا اعلان تو کر دیا ہے لیکن قوی امکان ہے کہ یہ احتجاج بھی ماضی میں تحریکِ انصاف کی جانب سے دی گئی احتجاجی کالز کی طرح ناکام ہو جائے گا۔ سیاسی حلقوں میں اس اعلان کو ایک ایسے وقت میں دی جانے والی کال قرار دیا جا رہا ہے جب اپوزیشن بالخصوص تحریکِ انصاف خود عوام کو سڑکوں پر نکالنے کی صلاحیت کھوتی دکھائی دے رہی ہے۔
تحریکِ تحفظِ آئینِ پاکستان دراصل اڈیالہ جیل میں قید عمران خان کے بیانیے پر قائم کی گئی ہے، جس کا بنیادی مقصد مختلف اپوزیشن جماعتوں کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کر کے عمران خان کی رہائی کے لیے ایک مؤثر سیاسی اور عوامی دباؤ پیدا کرنا ہے۔ اس اتحاد میں اگرچہ بظاہر قیادت محمود خان اچکزئی کے ہاتھ میں ہے، تاہم حقیقت یہ ہے کہ اس اتحاد کی سب سے بڑی اور مرکزی جماعت تحریکِ انصاف ہی ہے، جسکی سیاسی طاقت اور عوامی رابطہ کاری گزشتہ ایک برس کے دوران شدید کمزوری کا شکار رہی ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ محمود خان اچکزئی اور عمران خان کے درمیان ماضی میں سیاسی تعلقات شدید کشیدگی کا شکار رہے ہیں۔
عمران خان بطور وزیراعظم اپنے عوامی جلسوں اور تقاریر میں نہ صرف محمود اچکزئی کے سیاسی مؤقف پر تنقید کرتے رہے بلکہ ان کے روایتی انداز، خصوصاً چادر اوڑھنے کے انداز کا بھی مذاق اڑاتے رہے اور بعض مواقع پر انہیں جوکر تک قرار دیا گیا۔ تب عمران خان اچکزئی کو فرسودہ سیاست کی علامت کے طور پر پیش کیا کرتے تھے، تاہم حالات نے ایسا پلٹا کھایا کہ آج وہی عمران خان عملی طور پر محمود اچکزئی کی قیادت تسلیم کرنے پر مجبور دکھائی دیتے ہیں۔ اسی لیے تحریکِ انصاف نے اپنے ووٹوں کے زور پر محمود اچکزئی کو قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف بنوایا، جو پاکستانی سیاست میں بدلتے اتحادوں اور مجبوریوں کی واضح مثال ہے۔
تحریکِ تحفظِ آئینِ پاکستان کی جانب سے اعلان کیا گیا ہے کہ 8 فروری کو فروری 2024 کے عام انتخابات کی دوسری برسی کے موقع پر ملک بھر میں یومِ سیاہ منایا جائے گا، شٹر ڈاؤن اور پہیہ جام ہڑتال کی جائے گی اور عوام سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ تمام سرگرمیاں معطل کر کے احتجاج کا حصہ بنیں۔ محمود خان اچکزئی کا کہنا ہے کہ یہ احتجاج کسی صورت واپس نہیں لیا جائے گا اور آئندہ مرحلے میں جیل بھرو تحریک سمیت مزید سخت اقدامات بھی کیے جا سکتے ہیں۔
تحریک کے اجلاس میں تحریکِ انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان، اسد قیصر، سینیٹر علامہ راجہ ناصر عباس، اور دیگر سیاسی رہنماؤں نے شرکت کی، جہاں یہ فیصلہ کیا گیا کہ احتجاج کو کامیاب بنانے کے لیے قومی، صوبائی اور بین الاقوامی سطح پر کمیٹیاں تشکیل دی جائیں۔
اجلاس کے شرکا نے 8 فروری کو قوم کے لیے ذلت کا دن قرار دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ عوام کو ان کے بنیادی حقِ رائے دہی سے محروم کیا گیا اور انہیں سیاسی طور پر بے اختیار بنا دیا گیا۔ تاہم سیاسی تجزیہ کار اس پورے منصوبے کو غیر مؤثر اور زمینی حقائق سے متصادم قرار دے رہے ہیں۔ ان کے مطابق تحریکِ انصاف گزشتہ ایک برس کے دوران عمران خان کی رہائی کے لیے درجنوں احتجاجی کالز دے چکی ہے، لیکن ان میں سے کوئی بھی عوامی سطح پر بڑی تحریک میں تبدیل نہ ہو سکی۔ جلسے جلوس ہوں یا شٹر ڈاؤن کی اپیلیں، پارٹی کی سٹریٹ پاور واضح طور پر کمزور ہو چکی ہے، جس کے باعث اب ایک نئے نام اور نئے پلیٹ فارم کے تحت عوام کو متحرک کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ چونکہ تحریکِ تحفظِ آئینِ پاکستان کی ریڑھ کی ہڈی خود تحریکِ انصاف ہے اور وہی جماعت عوام کو باہر نکالنے میں ناکام ثابت ہو رہی ہے، اس لیے محمود اچکزئی کے پاس ایسا کوئی غیر معمولی سیاسی جادو نہیں کہ وہ اچانک عوام کو سڑکوں پر لے آئیں اور حکومت کے خلاف ایک مؤثر احتجاجی لہر پیدا کر سکیں۔ ان کے مطابق اتحاد کی قیادت تبدیل کرنے سے زمینی حقائق تبدیل نہیں ہوتے اور جب تک عوامی سطح پر حقیقی سیاسی توانائی موجود نہ ہو، ایسے احتجاج محض بیانات اور اعلانات تک محدود رہتے ہیں۔
تیراہ وادی سے عوام کی نقل مکانی، PTI کا دوغلا چہرہ بے نقاب
تجزیہ کاروں کے مطابق 8 فروری کو دیا گیا احتجاجی کال بھی ماضی کی طرح جزوی یا مکمل طور پر ناکام ثابت ہونے کا خدشہ رکھتا ہے، کیونکہ نہ تو اپوزیشن میں مکمل اتفاقِ رائے موجود ہے اور نہ ہی عوام اس وقت کسی بڑے تصادم یا تحریک کے لیے تیار دکھائی دیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ تحریکِ تحفظِ آئینِ پاکستان کا یہ اعلان بھی ایک بار پھر سیاسی دباؤ بڑھانے کی کوشش تو ہو سکتا ہے، مگر اسے ایک فیصلہ کن عوامی تحریک میں ڈھلتا دیکھنا بظاہر مشکل نظر آتا ہے۔
