8 فروری کو اپوزیشن کی احتجاجی کال ٹھس کیوں ہو جائے گی؟

تحریکِ تحفظِ آئینِ پاکستان نے تحریکِ انصاف کے دباؤ پر 8 فروری کو مبینہ الیکشن دھاندلی کے خلاف ملک گیر شٹر ڈاؤن ہڑتال اور احتجاج کا اعلان تو کر دیا ہے، لیکن ماضی کی احتجاجی کالز کی طرح اس کال کے بھی ناکام ہونے کا امکان واضح طور پر نظر آتا ہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق اس وقت ملک کی سیاسی اور معاشی صورتحال ایسی بری نہیں ہے کہ عوام حکومت کے خلاف سڑکوں پر نکل آئیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ تحریک تحفظِ آئینِ کی سب سے بڑی جماعت یعنی تحریک انصاف کی اپنی سٹریٹ پاور تقریباً ختم ہو چکی ہے، اور عوام احتجاج کے لیے باہر نکلنے پر تیار نہیں ہے۔ ایسے میں 8 فروری کی کال طاقت کے مظاہرے سے زیادہ بیانیے کی بقا کی کوشش کے مترادف ہو سکتی ہے۔ انکا کہنا ہے کہ گذشتہ سال کی احتجاجی کالز کا نتیجہ بتاتا ہے کہ تحریک انصاف کی سٹریٹ پاور میں مسلسل کمی ہو رہی ہے۔ مثال کے طور پر، گزشتہ دسمبر میں ہونے والی ملک گیر احتجاجی کال کے دوران بڑے شہروں میں صرف چند مقامات پر محدود احتجاج دیکھنے کو ملا، جبکہ پنجاب اور سندھ میں عام عوام کی شرکت نہ ہونے کے برابر تھی۔ اسی طرح دیگر چھوٹے احتجاجی مظاہرے بھی زیادہ تر علامتی نوعیت کے رہے اور حقیقی طور پر کوئی ٹریفک جام، کاروباری بندش یا سڑکوں پر بڑے پیمانے پر دھرنے سامنے نہیں آئے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق 2024 کے الیکشن کے بعد سے پاکستان میں نہ صرف سیاسی استحکام آیا ہے بلکہ معیشت بھی بہتر ہوئی ہے لہذا تحریک تحفظ آئین پاکستان کی احتجاج اور ہڑتال کی کال کی ناکامی نوشتہ دیوار ہے۔ دوسری جانب اپوزیشن نے 8 فروری کے لیے اپنی تنظیموں اور اراکین کو متحرک ہونے کی ہدایات جاری کر دی ہیں، اس تناظر میں تحریکِ تحفظِ آئینِ پاکستان کے سربراہ محمود اچکزئی نے بھی جیل بھرو تحریک کا عندیہ دیا ہے۔ تاہم، اس مرتبہ سب سے بڑا چیلنج پی ٹی آئی کو درپیش ہے، کیونکہ پارٹی کی سٹریٹ لیول پر طاقت کمزور ہوتی جا رہی ہے۔
پختونخوا میں پی ٹی آئی کی حکومت ہونے کے باعث امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ 8 فروری کو ہڑتال اور احتجاج کا فوکس وہیں پر ہوگا، پنجاب، سندھ اور دیگر صوبوں میں احتجاج کے لیے کارکنوں کا متحرک ہونا تحریک تحفظ آئین پاکستان اور تحریک انصاف کی قیادت کے لیے ابھی ایک سوالیہ نشان ہے۔
سیاسی تجزیہ کار کہتے ہیں کہ 8 فروری کی ہڑتال کی کال اپوزیشن کی جانب سے طاقت کے مظاہرے سے زیادہ بیانیے کی بقا کی کوشش ہے۔ ان کے مطابق یہ کال ملک گیر سطح پر کامیاب نہیں ہو سکتی، جبکہ پہیے جام جیسے بڑے احتجاج کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ تاہم، اس کال کے ذریعے پی ٹی آئی یہ پیغام دے سکتی ہے کہ وہ ایک سیاسی قوت کے طور پر اب بھی موجود ہے اور اپنی مزاحمت جاری رکھے گی۔
تجزیہ کاروں کے مطابق 8 فروری کی ہڑتال پر حکومتی ردِ عمل ماضی کے تجربات اور موجودہ طاقت کے ڈھانچے کی روشنی میں خاموش تماشائی والا نہیں ہو گا۔ انتظامی مشینری اپنے روایتی انداز میں ایسا ماحول پیدا کرے گی کہ کوئی مؤثر احتجاج یا مظاہرہ نہ ہو سکے۔ یہ امکان بھی ہے کہ ہڑتال اور احتجاج کے روز سرگرم اپوزیشن عہدیداران اور کارکنوں کو حراست میں لے لیا جائے۔
وفاقی حکومت کئی مواقع پر اپنے اس موقف کا اظہار کر چکی ہے کہ ملک معاشی طور پر بہتری کی جانب گامزن ہے اور بین الاقوامی سطح پر پاکستان کی مثبت تصویر اُبھری ہے۔ لہذا حکومت کا کہنا ہے کہ ہڑتال یا احتجاج سیاسی انتشار کو ہوا دینے کی کوشش ہے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق پی ٹی آئی نے 8 فروری کو ہڑتال اور احتجاج کی کال بہت سوچ سمجھ کر دی ہے اور اتوار کا دن منتخب کرنے کی سٹریٹیجک وجہ یہ ہے کہ اس روز عوام چھٹی مناتے ہیں اور سڑکوں پر کم ہی نکلتے ہیں۔ ادھر سیاسی امور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ 9 مئی 2023 کو تحریک انصاف کی جانب سے ملک بھر میں فوجی تنصیبات پر حملوں نے پاکستان میں احتجاجی اور مزاحمتی سیاست کے سامنے ایک مضبوط بند باندھ دیا ہے، اور اب ریاست اور حکومت کسی جماعت کو ہنگامی یا غیر معمولی صورتحال پیدا کرنے کی اجازت دینے کو تیار نہیں۔ اس لیے 8 فروری کو اپوزیشن کی جانب سے احتجاج اور ہڑتال کی کال بھی ناکامی کا شکار ہوتی نظر آتی ہے۔ اگرچہ خیبر پختونخوا میں ہڑتال اور احتجاج کے امکانات موجود ہیں، لیکن یہ مقامی نوعیت کے رہیں گے اور ان کے اثرات پورے ملک کی سیاسی صورتحال پر مرتب ہونے کا امکان بہت کم ہے۔
کیا فوج دوبارہ غیر سیاسی ہونے کی شعوری کوشش کر رہی ہے؟
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پنجاب، سندھ اور بلوچستان میں پی ٹی آئی کی خیبر پختون خواہ جیسی سٹریٹ پاور دکھائی نہیں دیتی، جس کی وجہ سے ملک گیر شٹر ڈاؤن اور احتجاج کی کال کامیاب نہیں ہو سکے گی۔
