ٹرمپ عمران خان کیلئے پاکستان سے پنگاکیوں نہیں لے گا؟

سینئر صحافی جاوید چودھری کا کہنا ہے کہ امریکا کے 1952 سے پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ قائم کردہ تعلقات آج تک جاری اور ساری ہیں‘ پاکستانی سیاست دان امریکی ترجیحات کی اس فہرست میں پانچویں یا چھٹے نمبر سے اوپر نہیں آتے چنانچہ امریکہ عمران خان کے لیے کبھی اپنے دیرینہ دوست یعنی پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ تعلقات خراب نہیں کرے گا‘ روزنامہ ایکسپریس کیلئے اپنے تازہ سیاسی تجزیہ میں ٹرمپ کے اقتدار سنبھالنے کے بعد پاک امریکہ تعلقات کے تناظر میں ایک مقتدر شخصیت سے اپنی ملاقات کا احوال بیان کرتے ہوئے جاوید چودھری کا مزید کہنا ہے کہ مقتدر شخصیت کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ 20 جنوری کو حلف لے گا لیکن پاکستان کی باری مارچ اپریل میں اس وقت آئے گی جب ہمیں آئی ایم ایف کی ضرورت پڑے گی کیونکہ ٹرمپ کا پہلا چیلنج یوکرائن اور غزہ ہو گا‘ غالب امکان ہے امریکی اسٹیبلشمنٹ اسے شروع میں ہی گھیر لے اور یہ غزہ اور یوکرائن ہی سے باہر نہ آ سکے گا اگر ایسا ہو گیا تو پھر ہماری باری جلد نہیں آئے گی لیکن اگر ٹرمپ نے یوکرائن اور غزہ جلد نبٹا لیا تو پھر اپریل میں ہماری باری آ جائے گی۔

 یہ افغانستان کے ساتھ ہمیں بھی لپیٹ لے گا‘ طالبان کو ہر ہفتے امریکا سے 40 ملین ڈالر ملتے ہیں‘ یہ بند کر دیے جائیں گے اور اس کے بعد امریکہ ہم پر دباؤ ڈالے گا کہ تم لوگ افغانستان سے طالبان کی چھٹی کراؤ‘ کولیشن گورنمنٹ بناؤ اور ہم اس دباؤ میں پھنس جائیں گے‘‘ جاوید چودھری کے مطابق میں نے پوچھا ’’کیا افغانستان میں کولیشن گورنمنٹ ہمیں سوٹ کرتی ہے؟‘‘ وہ ہنسے اور پھر بولے ’’اس کا دارومدار حالات پر ہے اگر امریکا ہمارے ساتھ پیار سے پیش آتا ہے‘ یہ ہمارے مطالبات مان لیتا ہے اور ملک کے موجودہ جمہوری نظام کو سپورٹ کرتا ہے تو پھر ہم دس دن میں طالبان حکومت کا تختہ الٹ دیں گے لیکن اگر ہمیں فوری فائدہ نہیں ہوتا تو بھی ہم یہ کام کریں گے مگر اس میں سال چھ مہینے لگ جائیں گے کیوں کہ طالبان کے بعد افغانستان میں جو حکومت آئے گی وہ بھارت کو دوبارہ قونصل خانے کھولنے کی اجازت دے گی اور اس کے بعد ایک بار پھر کابل میں کلبھوشن یادیو جیسے لوگ آ کر بیٹھ جائیں گے اور یہ ہم افورڈ نہیں کر سکتے‘‘

جاوید چودھری کے بقول اس پر انھوں نے پوچھا ’’کیا ڈونلڈ ٹرمپ عمران خان کے لیے دباؤ ڈالیں گے؟‘‘ صاحب نے چونک کر میری طرف دیکھا اور ایک لمبا شیطانی قہقہہ لگایا‘ وہ دیر تک ہنستے رہے‘ یہ ان کی ایکسائٹمنٹ کی دلیل ہوتی ہے‘ وہ رکے اور یک دم سنجیدہ ہو کر بولے ’’ضرور کرے گا لیکن اس کوشش کے پیچھے تین موٹو ہو سکتے ہیں‘ ہمارا ری ایکشن ان تینوں میں الگ الگ ہو گا مثلاً اگر امریکا ہمیں لیبیا‘ شام یا عراق بنانا چاہتا ہے تو پھر یہ بانی پی ٹی آئی کو رہا کرا کر سڑکوں اور گلیوں میں چھوڑ دے گا اور وہ چند ماہ میں پاکستان کو شام یا لیبیا بنا دے گا‘ ایسی صورت میں آپ یہ یاد رکھیں پاکستان میں لیبیا اور شام سے زیادہ قتل وغارت گری ہو گی کیوں کہ ہمارے ملک میں بے تحاشا اسلحہ ہے اور اگر خدانخواستہ یہ ایک بار باہر آ گیا تو پھر حالات کو سمیٹنا ممکن نہیں رہے گا لہٰذا امریکا اگر صرف بانی پی ٹی آئی کی رہائی چاہے گا تو پھر ریاست کو خوف زدہ ہو جانا چاہیے اور یہ ہو جائے گی اور اس کے بعد اس کو یہ فیصلہ کرنا ہو گا عمران خان یا پھر ملک‘ آپ سمجھ دار ہیں۔ آپ اچھی طرح جانتے ہیں ریاست ان حالات میں کیا فیصلہ کرے گی‘ دوسرا موٹو امر یکا عمران خان کو اقتدار میں دیکھنا چاہتا ہے‘ یہ اگر بانی پی ٹی آئی کو اقتدار میں لانا چاہے گا تو یہ پھر اس کی اسٹیبلشمنٹ سے صلح کرائے گا بالکل اسی طرح جس طرح امریکا نے ابوظہبی میں 2007میں بے نظیر بھٹو اور جنرل پرویز مشرف کو آمنے سامنے بٹھا دیا تھا‘ امریکا عمران خان کے کیس میں بھی کسی نہ کسی دوست ملک کو درمیان میں ڈالے گا اور وہ ملک جنرل عاصم منیر اور عمران خان کو اکٹھا بٹھا دے گا اور اس کے بعد نیا جمہوری سفر شروع ہو جائے گا لیکن یہاں پر یہ سوال پیدا ہوتا ہے صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایسا کیوں کرے گا؟ اس کی دو وجوہات ہو سکتی ہیں‘ پہلی وجہ امریکا پاکستان میں امن چاہتا ہے اور اس کی خواہش ہے پاکستان جمہوری اور معاشی طور پر ترقی کرے‘ جو ظاہر ہے خوش فہمی کے سوا کچھ نہیں‘ امریکا پاکستان کو معاشی اور جمہوری لحاظ سے کام یاب اور توانا کیوں بنائے گا؟ اور دوسری وجہ امریکا خان سے وہ کام کرانا چاہتا ہے جو اسٹیبلشمنٹ یا جنرل عاصم منیر نہیں کر سکتے یا نہیں کرنا چاہتے چناں چہ ٹرمپ جب صلح کی کوشش کرائے گا تو ہمارے لوگ فوراً محتاط ہو جائیں گے۔ یہ سمجھ جائیں گے عمران خان کو اقتدار میں لانے کا مقصد کیا ہے لہٰذا یہ صلح کے باوجود عمران خان کو اقتدار میں نہیں آنے دیں گے اور اس کے لیے انھیں کچھ بھی کرنا پڑا یہ کر گزریں گے‘ مجھے خطرہ ہے عمران خان کے کیس میں کہیں ایسا نہ ہو جائے‘ ڈونلڈ ٹرمپ صلح کرائے‘ نئے الیکشن کا سلسلہ شروع ہو ‘ اقتدار پی ٹی آئی کو مل جائے لیکن عمران خان مائنس ہو جائیں‘‘ جاوید چودھری کے مطابق صاحب نے کہا کہ مجھے یقین ہے تم میری تھیوری کو سازشی قرار دو گے لیکن تم ذرا اس گیند کو میدان میں رکھ کر دیکھو‘ تمہیں بے شمار حقیقتیں نظر آنے لگیں گی اور میں اب تیسرے آپشن کی طرف آتا ہوں‘‘۔

’’آپ فرض کرو ڈونلڈ ٹرمپ کو عمران خان اور پاکستان دونوں میں کوئی دل چسپی نہیں اور یہ ہم سے افغانستان یا ایران سے متعلق کوئی کام لینا چاہتا ہے‘ اس کی خواہش ہے ہم افغانستان میں حکومت ختم کر دیں یا پھر ایران پر حملے میں امریکا یا اسرائیل کی مدد کریں اگر ٹرمپ یہ چاہے گا تو پھر یہ عمران خان کو بطور بارگیننگ چِپ استعمال کرے گا‘ یہ انسانی حقوق اور عدل وانصاف کی بات کرے گا‘ یہ ٹویٹ کرے گا پاکستان میں عدل اور انصاف کی بری حالت ہے‘ عمران خان کے ساتھ عدالتوں میں برا سلوک ہو رہا ہے اور جیل میں بھی اسے وہ سہولتیں حاصل نہیں ہیں جو ایک سابق وزیراعظم کو ملنی چاہییں وغیرہ وغیرہ‘ یہ پی ٹی آئی کے جمہوری حقوق کی بات بھی کرے گا‘ آئی ایم ایف کو بھی پاکستان کو ٹف ٹائم دینے کا اشارہ کرے گا اور پاکستان پر دہشت گردی کا الزام بھی لگائے گا‘ اس دباؤ کا مقصد عمران خان کی رہائی یا اقتدار میں واپسی نہیں ہو گا۔

بیرسٹر گوہر کی آرمی چیف سے ملاقات خوش آئند ہے : عمران خان

 اس کا واحد مقصد پاکستان سے مزید رعایتیں لینا ہو گا اور اگر یہ ہوا تو پھر پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کا رویہ مکمل مختلف ہو گا‘ ریاست یہ دباؤ برداشت کرے گی اور ساتھ ساتھ امریکی اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ ڈائیلاگ کرے گی اور آخر میں امریکا کے ساتھ سمجھوتہ کرلے گی جس کے بعد امریکا عمران خان کو بھول جائے گا اور ہم امریکا کے مطالبات مان لیں گے اور یوں معاملہ نبٹ جائے گا‘‘ جاوید چودھری کے مطابق اس آپشن کھ بعد میں نے پوچھا ’’آپ کو زیادہ چانسز کس آپشن کے محسوس ہوتے ہیں؟‘‘ صاحب نے ایک اور شیطانی قہقہہ لگایا اور بولے ’’تیسرے آپشن کے‘ کیونکہ امریکا کے پاکستان کے ساتھ تمام تر تعلقات دفاعی رہے ہیں۔امریکا نے 1952 میں ہماری اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ تعلقات بنائے اور یہ آج تک جاری اور ساری ہیں‘ سیاست دان ترجیحات کی اس فہرست میں پانچویں یا چھٹے نمبر سے اوپر نہیں آتے چناں چہ یہ عمران خان کے لیے کبھی اپنے دیرینہ دوست یعنی پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ تعلقات خراب نہیں کرے گا‘ دوسرا امریکا نے پچھلے 25برسوں میں بھارت پر بہت سرمایہ کاری کی‘ امریکا کا خیال تھا بھارت چین کی اقتصادی ترقی کے راستے میں رکاوٹ بنے گا مگر انڈیا چین کو روک نہیں سکا‘ انھوں نے مزید کہا کہ اس خطے میں چار ایٹمی طاقتیں ہیں‘ روس‘ چین‘ بھارت اور پاکستان‘ ان چار میں سے تین امریکا کے خلاف ہیں‘ روس‘ چین اور بھارت لہٰذا خطے میں امریکا کا واحد دوست پاکستان ہے۔ یہ چھوٹا سا ملک ہے لیکن اس نے سوویت یونین کو بھی توڑ دیا اور اس نے آج تک بھارت کو بھی ہلنے نہیں دیا‘ یہ درست ہے پاکستان کے چین کے ساتھ برادرانہ تعلقات ہیں لیکن ہماری دوستی کی ترجیحات میں امریکا چین سے پہلے آتا ہے لہٰذا امریکا کبھی بھی اس خطے میں اپنا واحد دوست عمران خان کیلئے ضائع نہیں کرے گا۔

Back to top button