فضل الرحمٰن عمران کی رہائی کےلیےکوشش کیوں نہیں کریں گے؟

عمران خان کی اہلیہ بشری بی بی اور بہن علیمہ خان کی جیل سے رہائی کے بعد سے سیاسی حلقوں میں افواہیں گرم ہیں کہ مولانا فضل الرحمن بانی پی ٹی آئی کی جیل خلاصی کےلیے پس پردہ متحرک ہیں اور عمران خان کی کو قید سے چھٹکارا دلانے میں اپنا کردار ادا کر رہے ہیں تاہم اب جہاں مولانا نے عمران خان کی رہائی میں اپنے کسی کردار کی تردید کر دی ہے اور کہا ہے کہ عمران خان کی رہائی فی الحال ممکن نظر نہیں آتی، تاہم ملکی سیاست میں کسی بھی وقت تبدیلی آسکتی ہے، تاہم دوسری جانب مبصرین کے مطابق عمران خان کی اسٹیبلشمنٹ یا حکومت کے ساتھ کسی قسم کی ڈیل کے امکانات معدوم ہیں۔ مولانا کے مقتدر حلقوں سے اپنے تعلقات کشیدہ ہیں وہ کسی اس لئے وہ کسی اور کی سفارش کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں۔
تاہم یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا واقعی مولانا فضل الرحمان نے عمران خان کی رہائی کے لیے کوشش کی ہے جو ثمر آور نہیں ہو سکی؟ اور کیا اب جے یو آئی، پی ٹی آئی کے 24 نومبر کے احتجاج میں شامل ہو گی؟
سینیئر تجزیہ کار مجیب الرحمٰن شامی کے مطابق مولانا فضل الرحمان نے عمران خان کی رہائی کے لیے کوئی کوشش نہیں کی ہو گی، جو رہائی سے متعلق بیان دیا ہے وہ تو ایک جمہوری روایت کو برقرار رکھتے ہوئے دیا ہے، اس سے زیادہ کچھ بھی نہیں ہے، دوسری بات یہ ہے کہ مولانا فضل الرحمن کے کوشش کے باوجود بھی اس وقت تو عمران خان جیل سے باہر نہیں آ سکتے اس لیے بھی مولانا فضل الرحمان نے کوئی خاص کوشش بھی نہیں کی ہو گی۔
مجیب الرحمٰن شامی کے بقول مولانا فضل الرحمان اور پی ٹی آئی کا اس وقت تک تو کوئی اتحاد سامنے نہیں ہے، حال ہی میں پی ٹی آئی کی خواہش کے برعکس جے یو آئی نے آئینی ترمیم کے حق میں ووٹ بھی دیا تھا، پی ٹی آئی نے جو 24 نومبر کو احتجاج کی کال دی ہے اس سے جے یو آئی کو کوئی سیاسی فائدہ نہیں ہے، بلکہ پی ٹی آئی کا ساتھ دے کر نقصان ہی نقصان ہے، پی ٹی آئی نے جو کال دی ہے اس کی تو ابھی تک محمود خان اچکزئی وغیرہ نے بھی حمایت نہیں کی، میرے خیال میں پی ٹی آئی اس احتجاج میں اکیلی ہی ہو گی۔
سیاسی تجزیہ کار اور سینیئر صحافی انصار عباسی کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ مولانا فضل الرحمان عمران خان کی رہائی کےلیے کوشش کبھی نہیں کریں گے، البتہ بطور ایک سیاسی قائد عمران خان کی رہائی کے لیے بیان ضرور دیں گے۔ مولانا فضل الرحمان کے علاوہ کوئی اور بھی کبھی بھی عمران خان کی رہائی کے لیے کوشش نہیں کرے گا، پاکستان تحریک انصاف کے بھی تمام رہنما اس کوشش میں سنجیدہ نہیں، صرف چند رہنما ہی عمران خان کی رہائی کے لیے کوشش کر رہے ہیں۔
انصار عباسی نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان اور جمیعت علمائے اسلام کا اگر کسی سیاسی جماعت کے ساتھ مقابلہ ہے تو وہ صرف پی ٹی آئی کے ساتھ ہے، مولانا فضل الرحمان جو کہتے ہیں کہ عام انتخابات میں ان کی نشستیں کسی اور کو دی گئی ہیں تو وہ دراصل خیبرپختونخوا کہ ہی نشستیں ہیں، جو پی ٹی آئی نے جیتی ہیں۔ اس لئے مولانا پی ٹی آئی کے ساتھ اتحاد میں اس حد تک آگے نہیں جائیں گے۔
