ایران دشمن کی جنگی ٹیکنالوجی کا مقابلہ کیوں نہیں کر پائے گا؟

جیو نیوز سے وابستہ معروف اینکر پرسن سہیل وڑائچ نے کہا ہے کہ ایران کے سپریم لیڈر خامنہ ای کی شہادت سے ثابت ہو گیا ہے کہ اسرائیل اور امریکہ اپنی جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے دنیا میں جس بھی شخص کو چاہیں آسانی سے نشانہ بنا لیتے ہیں۔ ان کے بقول جدید ٹیکنالوجی کی برتری کے باعث اسرائیل اور امریکہ نے گراؤنڈ پر ایک بھی فوجی اتارے بغیر مسلم دنیا کی شدت پسند قیادت کو ختم کیا، جبکہ بڑے بڑے دعوے کرنے والے رہنما ایسی محفوظ پناہ گاہیں بھی نہ بنا سکے جہاں وہ خود کو بچا سکتے۔
روزنامہ جنگ کے لیے اپنے سیاسی تجزیے میں سہیل وڑائچ نے کہا کہ ایرانی سپریم لیڈر خامنہ ای کی شہادت کے بعد مسلم دنیا ایک بار پھر ایک بڑے فکری دوراہے پر کھڑی ہے۔ انکے مطابق چاہے کوئی ایرانی نظام کا حامی ہو یا مخالف، سب کے لیے یہ لمحہ فکریہ ہے کہ اب آگے کا راستہ کیا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ سوال یہ ہے کہ کیا مسلم دنیا ایران کی طرح مزاحمت کا راستہ اپنائے اور غزہ کی طرح قربانیاں دے کر اسرائیل اور امریکہ کو اخلاقی طور پر شکست دینے کی کوشش کرے، یا پھر مغرب کے ساتھ باعزت اشتراک کا کوئی نیا راستہ تلاش کرے۔
سینئیر صحافی کے مطابق تہذیبوں کے تصادم کی بحث مسلم دنیا کو بار بار اسی سوال پر واپس لے آتی ہے جو پہلی اور دوسری جنگ عظیم کے بعد سے جاری ہے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ نوآبادیاتی نظام کے خاتمے کے بعد جب پچاس سے زائد مسلم ممالک وجود میں آئے تو بنیادی سوال یہی تھا کہ آیا مغربی تہذیب اور ٹیکنالوجی کا مقابلہ روایتی مذہبی شناخت کے ساتھ کیا جائے یا مغربی اقدار کو اختیار کر کے مذہب کو ذاتی معاملہ قرار دے دیا جائے۔ ان کے بقول کبھی اس کشمکش کو اسلام بمقابلہ مغرب کہا جاتا ہے، کبھی جمہوریت اور اس کے مخالف نظریات کی جنگ اور کبھی طاقت کے غلبے کی کشمکش۔
انہوں نے کہا کہ غزہ کی تباہی، عراق کی بربادی، لیبیا کی تقسیم، شام کی خانہ جنگی اور ایران میں حالیہ واقعات نے مسلم دنیا کے سامنے وہی پرانا سوال پھر سے لا کھڑا کیا ہے کہ سلامتی، شناخت اور خوش حالی کے لیے کون سا راستہ اپنایا جائے۔ ان کے مطابق اب یہ ذمہ داری مذہبی، سیاسی اور سماجی قیادت پر عائد ہوتی ہے کہ وہ واضح سمت کا تعین کرے۔ انہوں نے تاریخ کی مثالیں دیتے ہوئے بتایا کہ مصطفی کمال اتا ترک نے ترکی میں مغربی طرز اصلاحات نافذ کیں، حتیٰ کہ رسم الخط بھی تبدیل کر دیا۔ دوسری جانب جناح اور اقبال نے مغربی سائنس اور جمہوریت کو سراہتے ہوئے اندھی تقلید سے گریز کا راستہ اختیار کیا۔ ان کے مطابق پاکستان میں پارلیمانی جمہوریت اور بعد ازاں 1973ء کا آئین اسی فکری تسلسل کا نتیجہ تھا جس میں اسلام اور جمہوریت کو یکجا کیا گیا۔
سہیل وڑائچ نے کہا کہ دوسری طرف مسلم دنیا میں مغرب کو مکمل طور پر رد کرنے کی سوچ بھی مضبوط رہی ہے۔ مسلم برادر ہڈ، جماعت اسلامی اور دیگر مذہبی تحریکوں نے اسلام کو مکمل ضابطۂ حیات کے طور پر پیش کرتے ہوئے متبادل نظام کی بات کی۔ ایران میں اسلامی انقلاب کے بعد فقہ جعفریہ کے تحت سپریم لیڈر کا ماڈل اپنایا گیا جبکہ کچھ ممالک میں بادشاہتیں برقرار رہیں۔ انہوں نے کہا کہ کئی مسلم رہنماؤں نے مغرب کو للکارنے کی کوشش کی مگر انہیں دیرپا کامیابی حاصل نہ ہو سکی۔ ملائیشیا کے مہاتیر محمد، لیبیا کے معمر قذافی اور عراق کے صدام حسین کی مثالیں دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ عالمی طاقتوں سے مستقل محاذ آرائی کے نتائج اکثر تباہ کن نکلے۔
سہیل وڑائچ نے اس تناظر میں افغانستان اور عالمی جہادی تنظیموں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اسامہ بن لادن کے امریکہ میں نائن الیون حملوں کے بعد مسلم دنیا کو فائدے سے زیادہ نقصان ہوا۔ انکے مطابق جواب میں امریکہ کی جانب سے افغانستان میں طالبان اور القاعدہ کی قیادت کو ڈرون ٹیکنالوجی کے ذریعے نشانہ بنایا گیا، جس سے یہ واضح ہوا کہ ٹیکنالوجی کی جنگ میں برتری کس کے پاس ہے۔ انہوں نے کہا کہ غزہ اور لبنان میں اسرائیلی یونٹس نے مصنوعی ذہانت کے ذریعے اہم شخصیات کو ٹارگٹ کیا۔
ایران میں زمینی افواج بھیجے بغیر ریجیم چینج ممکن کیوں نہیں؟
ان کے مطابق ایران میں بھی اسرائیل اور امریکہ جس فرد کو نشانہ بنانا چاہتے ہیں، جدید ٹیکنالوجی اور انٹیلی جنس کی مدد سے آسانی سے بنا لیتے ہیں۔ مسلم دنیا سائنس اور ٹیکنالوجی میں مغرب سے اس قدر پیچھے ہے کہ دونوں کا تقابل ممکن نہیں۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مسلم دنیا کو اس وقت کسی ایسے مدبر اور وژنری رہنما کی ضرورت ہے جو لڑائیوں کے بجائے علم، تحقیق اور ٹیکنالوجی کی طرف توجہ دلائے۔ ان کے بقول محض جذباتی نعروں یا عسکری مزاحمت سے پائیدار ترقی حاصل نہیں کی جا سکتی۔
سہیل وڑائچ نے برصغیر کی فکری روایت کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ مرزا غالب اور سر سید احمد خان کو جدید مغربی علوم کی طرف متوجہ ہونے کا مشورہ دیا تھا۔ اسی فکری تسلسل نے آگے چل کر اقبال کے تصور اور پاکستان کے آئینی ڈھانچے کو متاثر کیا۔ ان کے مطابق پاکستان کا آئین اسلام اور جمہوریت کے امتزاج کی ایک مثال ہے، مگر افسوس کہ نہ پاکستان میں اس پر مکمل عمل ہو سکا اور نہ ہی باقی مسلم دنیا نے واضح سمت اختیار کی۔ انہوں نے کہا کہ لائحہ عمل موجود ہے، ضرورت صرف سنجیدگی سے اس پر عملدرآمد کی ہے۔
