عمران کی رہائی کے لیے ٹرمپ پاکستان سے پنگا کیوں نہیں ڈالے گا؟

معروف لکھاری اور تجزیہ کار سینیٹر عرفان صدیقی نے کہا ہے کہ اگر امریکہ ایبٹ آباد میں اسامہ بن لادن کے ٹھکانے کا پتہ دینے والے پاکستانی ڈاکٹر شکیل آفریدی کے لیے اپنا قومی مفاد داؤ پر نہیں لگا سکا تو عمران خان کےلیے اُس کی ممتا کیوں انگاروں پہ لوٹے لگے گی اور وہ پاکستان سے پنگا کیوں ڈالے گا؟ ان کا کہنا ہے کہ کسی بھی پاکستانی حکومت نے پچھلے 13 برس میں تمام تر دباؤ کے باوجود اگر امریکہ کے عظیم محسن، ایوارڈ یافتہ ہیرو اور اعزازی شہری ڈاکٹر شکیل آفریدی کو رہا نہیں کیا تو عمران خان کے حوالے سے اُس کا دِل کیوں یکایک موم ہوجائے گا؟
روزنامہ جنگ کےلیے اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں عرفان صدیقی کہتے ہیں کہ کیا نو منتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ تمام تر سفارتی آداب، باہمی تعلقات کی نزاکتوں حتّی کہ امریکی مفادات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے اپنی توانائیاں اس عمران خان کی رہائی کےلیے وقف کر دیں گے جس نے امریکہ پر سائفر سازش کا الزام لگایا، اور کیا پاکستان ایسا مطالبہ مان لے گا؟ اِن سوالوں کے جواب جاننے کےلیے شکیل آفریدی نامی شخص کی کہانی کی طرف رجوع کرنا پڑے گا جو بارہ برس سے پاکستان کی کسی جیل میں 33 سالہ قید کاٹ رہا ہے۔
یہ سزا ادے دو ایسے جرائم میں دی گئی ہے جن کا تعلق اُس کے اصل جرم سے نہیں۔ ڈاکٹر شکیل آفریدی وہ پاکستانی ہے جس نے پولیو ویکسی نیشن مہم کی آڑ میں اُسامہ بن لادن کے گھر تک پہنچ کر اس کا سراغ لگایا اور امریکیوں کو اپنے ہدف تک پہنچنے میں مدد دی جس کے بعد القاعدہ کا سربراہ ایبٹ اباد میں امریکی ریڈ میں مارا گیا۔ چنانچہ امریکہ شکیل آفریدی کو اپنا محسن اور ہیرو مانتا ہے۔ اُسے امریکی کانگریشنل گولڈ میڈل اور امریکی شہریت دینے کی قراردادیں آ چکی ہیں۔ اُس کی گرفتاری کے دو سال بعد، جون 2014 میں کانگریس مین ڈینا نے ایوان میں تقریر کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’’امریکہ کیوں ایک ایسے ملک کو انسدادِ دہشت گردی کےلیے پانچ سو ملین ڈالر کی مدد دے رہا ہے جس نے ہمارے منہ پر زناٹے کا طمانچہ رسید کرتے ہوئے شکیل آفریدی کو جیل میں ڈال رکھا ہے۔‘‘
کانگریس مین ٹیڈ نے 2017 میں ایوان کے اندر شعلہ بار تقریر کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’’پاکستان پرلے درجے کا منافق ملک ہے کیونکہ شکیل آفریدی جیسا شخص جو کہ سب سے بڑے امریکی تمغے کا مستحق ہے، وہ جیل میں پڑا ہے۔ لہٰذا پاکستان پر آفریدی کی رہائی کےلیے دباؤ ڈالا جائے اور وہ نہ مانے تو اُسے دہشت گرد ملک قرار دے دیا جائے۔‘‘
سینٹر عرفان صدیقی کے مطابق شکیل آفریدی سے امریکیوں کی شدید جذباتی وابستگی کا عالم یہ ہے کہ اُس کی 33 سالہ قید کی مناسبت سے امریکی سینیٹ نے ہر سال کے عوض ایک ملین ڈالر کے حساب سے پاکستان کو دی جانے والی امداد میں 33 ملین ڈالر کی کٹوتی کر دی۔ وہ یاد دلاتے ہیں کہ خود خان صاحب کی ہمشیرہ، علیمہ خان نے حال ہی میں مقامی لب و لہجہ میں نہایت عمدگی سے گُتھی سلجھاتے ہوئے کہا ہے __ ’’ٹرمپ کوئی ہمارا ابا لگتا ہے؟‘‘ لیکن خان صاحب کے فدائین کو کون سمجھائے؟ عمران خان کی کتابِ سیاست ٹوٹتے عہدوپیماں، موسموں کے ساتھ تبدیل ہوتے نظریوں، اور خود پرستی و خود مفادی پر مبنی متضاد بیانیوں کی طلسم ہوشربا ہے۔
لہٰذا غلامی سے نجات اور حقیقی آزادی کا عمرانی قافلۂِ سخت جان امریکی پرچم لہراتا اور ٹرمپ زندہ باد کے نعرے لگاتا ہوا صوابی آن پہنچا ہے اور انقلابی قبیلے کا یر فرد اب امریکی دہلیز پر سجدے کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ سے عمران خان کی رہائی کی درخواست کر رہا ہے تا کہ پاکستانیوں کو حقیقی آزادی دلوا کر امریکی غلام بنایا جا سکے۔
یاد رہے کہ یہ وہی عمران ہیں جنہوں نے امریکہ پر سائفر سازش کا الزام لگاتے ہوئے کہا تھا کہ امریکہ نے ’ڈونلڈ لُو‘ کی زبانی پیغام بھیجا ہے کہ اگر عمران اقتدار میں رہا تو پاکستان کو سنگین نتائج بھگتنا ہوں گے۔خان صاحب نے مذید کہا تھا کہ ’’ڈونلڈ لُو کے ذریعے ہمارے جرنیلوں کو بھی سازش میں شریک کر لیا گیا ہے۔‘‘ اِن جرنیلوں کو میرجعفر اور میر صادق کے نام دے دیے گئے تھے۔
کیا ڈونلڈ ٹرمپ کی بجائے کمیلا ہیرس امریکی صدر بننے جا رہی ہیں؟
اسکے بعد پی۔ٹی۔آئی کے سوشل میڈیا نے ’ڈونلڈ لُو‘ کی کردار کشی اور امریکہ کے’’ دشمنانہ کردار ‘‘کو اپنی پہلی ترجیح بنالیا۔ امریکہ کی ’غلامی‘ سے نجات کے نعرے لہو گرمانے لگے۔ ہو سو ’’حقیقی آزادی‘‘ کی للکار اُٹھی۔ ’’ہم کوئی غلام ہیں؟‘‘ کا انقلابی نعرہ ایجاد ہوا۔ ’’غلامی نامنظور‘‘ کی گونج سے دَرودِیوار تھرتھرانے لگے۔ پی۔ڈی۔ایم کی حکومت کو ’’اِمپورٹڈ‘‘ یعنی امریکہ کی مسلّط کردہ کٹھ پتلی انتظامیہ قرار دے دیاگیا۔ اس کہانی کو کم وبیش پونے تین سال بیت چکے ہیں۔ لہذا اب جب ٹرمپ دوبارہ صدر منتخب ہو چکے ہیں تو انہیں اپنا "ابا” بناتے ہوئے تحریک انصاف والوں نے عمران خان کی رہائی کی تمام امیدیں انہی سے وابستہ کر لی ہیں۔
