کیا شہباز شریف کے بعد آدھی مدت کے لیے بلاول وزیراعظم بنیں گے؟

 

 

 

اسلام آباد کے سیاسی حلقوں میں یہ بحث زور پکڑ گئی ہے کہ کیا پیپلز پارٹی اور نون لیگ کی اتحادی حکومت کے تشکیل کے وقت کوئی ایسا فارمولا طے پایا تھا، جس کے مطابق وزارتِ عظمیٰ کی پانچ سالہ مدت میں سے پہلے ڈھائی برس شہباز شریف اور بقیہ ڈھائی برس بلاول بھٹو نے وزیرِاعظم بننا تھا؟

 

اس بحث کا آغاز تب ہوا جب چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی نے حال ہی میں یہ بیان دیا کہ حکومت کی تشکیل کے وقت مسلم لیگ نواز اور پیپلز پارٹی کے درمیان شہباز اور بلاول کی ہاف ٹرم کی وزارت عظمی کا معاہدہ ہوا تھا۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ وہ خود ان مذاکرات کا حصہ نہیں تھے، لیکن انکے پاس اس حوالے سے مصدقہ معلومات پہنچی تھیں۔ یوسف رضا گیلانی کا کہنا ہے کہ انہیں 2024 کے الیکشن کے بعد اتحادی حکومت کی تشکیل کے وقت دونوں جماعتوں کی قیادت نے بتایا تھا کہ ایک پاور شئیرنگ فارمولے پر اتفاق ہوا ہے، جس کے مطابق وزیرِاعظم، سپیکر اور سینیٹ چیئرمین کی مدت دونوں جماعتوں کے درمیان نصف نصف طے کرنے کی بات ہوئی۔ گیلانی کے مطابق حکومت میں شیئرنگ کے یہ اصول اب بھی لیڈرشپ کے درمیان برقرار ہیں اور یہ مکمل طور پر قیادت کا اندرونی معاملہ ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ وزیراعظم اور سپیکر کی مدت پر بھی ہاف ٹرم کے لیے اتفاق ہوا تھا۔

 

اسلام آباد کے سیاسی حلقوں میں کہا جا رہا ہے کہ شاید یہی وجہ ہے کہ بلاول بھٹو نے اب تک اتحادی حکومت میں ماضی کی طرح کوئی حکومتی عہدہ قبول نہیں کیا۔ پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما قمر زمان کائرہ نے بھی اس بارے میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ عام انتخابات کے نتیجے میں اتحادی حکومت کے قیام سے قبل مسلم لیگ نون اور پیپلز پارٹی کے درمیان ایک تحریری معاہدہ ہوا تھا جس کی کاپی دونوں جماعتوں کے پاس موجود ہے۔ اس معاہدے میں وزیراعظم کی تبدیلی یا ڈھائی ڈھائی سال کی ٹرم کی بات تحریری طور پر تو شامل نہیں تھی، البتہ یہ معاملہ حکومت کی تشکیل کے وقت دونوں جماعتوں کی قیادت کے درمیان زیرِ بحث ضرور آیا تھا۔ یہ تجویز بھی سامنے رکھی گئی تھی کہ ڈھائی سال شہباز شریف اور ڈھائی سال بلاول بھٹو وزیرِاعظم ہوں۔

 

تاہم بلاول بھٹو کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ انہوں نے اتحادی حکومت کی تشکیل کے وقت ہی اعلان کر دیا تھا کہ الیکشن میں مسلم لیگ نون اکثریتی جماعت کے طور پر ابھری ہے اور وزارتِ عظمیٰ اسی کا حق ہے۔ ذرائع کے مطابق بلاول بھٹو نہ تو پہلے کسی حکومتی عہدے کے خواہشمند تھے اور نہ ہی اب ہیں۔

 

ادھر نون لیگی حلقے بھی کسی پاور شیئرنگ فارمولے کے حوالے سے لاعلمی کا اظہار کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر ایسے کسی فارمولے کے تحت آدھی مدت کے لیے شہباز شریف کی جگہ بلاول کو وزیراعظم بننا ہے تو کیا اس صورت میں آصف زرداری بھی آدھی مدت کے لیے صدر رہیں گے؟ اسی طرح کیا یوسف رضا گیلانی بھی آدھی مدت کے لیے چیئرمین سینیٹ رہیں گے؟ نون لیگی حلقوں کا سوال ہے کہ اگر ایسا کوئی فیصلہ ہوا تھا تو اس کے بارے میں پہلے کبھی کوئی بات کیوں نہیں ہوئی؟ ان کا کہنا ہے کہ اب بھی اس حوالے سے بات یوسف رضا گیلانی نے کی ہے بلاول بھٹو نے نہیں۔

دوغلی پالیسی PTIکی شکست فاش کی وجہ کیسے بنی؟

نون لیگی ذرائع کے مطابق اگر واقعی کوئی معاہدہ ہوا تھا تو اسے خفیہ کیوں رکھا گیا؟ ان کا کہنا ہے کہ اگر یوسف رضا گیلانی کا دعویٰ درست ہے تو اب تک تو اس کی تیاریاں نظر آنی شروع ہو جاتیں، لیکن فی الحال ایسی کوئی صورتحال دکھائی نہیں دے رہی۔ ان کے مطابق اب تو ویسے بھی مسلم لیگ نون کو قومی اسمبلی میں اتحادیوں کے ساتھ، اور پیپلز پارٹی کے بغیر، سادہ اکثریت حاصل ہو چکی ہے۔

سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق اس وقت مسلم لیگ نون اور پیپلز پارٹی دونوں یہ تسلیم کرتے ہیں کہ ملک میں ایک ہائبرڈ نظامِ حکومت چل رہا ہے، جس میں وزیراعظم شہباز شریف اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ بہت زیادہ ہم آہنگ ہو چکے ہیں۔ لہٰذا ایسا کوئی امکان نظر نہیں آتا کہ انہیں وزارتِ عظمیٰ سے ہٹا کر بلاول بھٹو کو ان کی جگہ دی جائے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ویسے بھی ملکی معیشت بڑی مشکل سے سنبھلی ہے اور بیرون ملک سے سرمایہ کاری آنا شروع ہوئی ہے، لہٰذا اگر اس وقت حکومت تبدیل ہوتی ہے تو سرمایہ کاروں کا اعتماد متاثر ہوگا۔ اسی لیے کسی بھی قسم کی تبدیلی یا پاور شیئرنگ فارمولے پر عملدرآمد کے امکانات نہ ہونے کے برابر ہیں۔

Back to top button