انڈین شہری اپنے دشمن ملک پاکستان کی شہریت کیوں لینےلگے؟

پاکستان اور بھارت کے مابین کشیدگی اور مودی سرکار کے الزامات کے باوجود پاکستان بھارتی شپہریوں کیلئے دشمن ملک کی بجائے ایک محفوظ پناہ گاہ بن چکا ہے۔ تازہ ترین اعدادو شمار سے انکشاف ہوا ہے کہ بھارت سے تعلق رکھنے والے 161 افراد نے محض چھ سال کے دوران اپنی پرانی شناخت کو خیر باد کہہ کر پاکستان کو اپنا مستقل گھر چن لیا ہے یعنی دونوں ممالک میں تناؤ کے باوجود اب بھی پاکستانی شہریت حاصل کرنے والوں میں بھارتی شہری سرفہرست ہیں۔

پاکستانی امیگریشن حکام کے مطابق 2019 سے 2024 تک 221 غیر ملکیوں نے پاکستانی شہریت حاصل کی، جن میں اکثریت بھارتی شہریوں کی تھی۔ یہ فیصلے کسی اتفاقیہ رجحان کا نتیجہ نہیں بلکہ سرحد پار رشتوں، منقسم خاندانوں، انسانی جذبات، اور قانونی مجبوریوں کی ایسی داستانیں ہیں جو ہر سال خاموشی سے لکھی جا رہی ہیں۔ جہاں حکومتیں نفرت بو رہی ہیں، وہیں عام انسان، محبت، رشتوں اور شناخت کے نئے تعارف لکھ رہے ہیں اور یہی پہلو اس کہانی کو غیرمعمولی بنارہا ہے۔ مبصرین کے مطابق جب دشمنی کی سرحدیں مٹنے لگیں اور انسانی رشتے ریاستی نفرتوں سے بلند ہو جائیں، تب ہی وہ لمحہ آتا ہے جب "دشمن ملک” کہلانے والے بھارت کے شہری، اپنی شناخت، پاسپورٹ اور ماضی چھوڑ کر پاکستانی بننے کا فیصلہ کرتے ہیں۔پاکستانی شہریت حاصل کرنے والوں میں بھارتی شہریوں کا سرفہرست ہونا نہ صرف ایک غیر معمولی رجحان ہے بلکہ دونوں ممالک کے درمیان موجود انسانی المیوں، منقسم خاندانوں اور سرحد پار محبتوں کی خاموش گواہی بھی ہے

ناقدین کے مطابق گزشتہ چھ برسوں میں 161 بھارتی شہری تو اپنی شہریت ترک کر کے پاکستانی شہریت اختیار  کرنے میں کامیاب رہے ہیں تاہم منقسم کشمیری خاندانوں کے بہت سے لوگ اب بھی ایسی حالت میں ہیں کہ نہ بھارت انہیں اپنا رہا ہے اور نہ ہی پاکستان واپس لے رہا ہے۔

قانونی ماہرین کے مطابق پاکستان میں شہریت حاصل کرنا آسان نہیں۔ تاہم غیر ملکی شہری نیچرلائزیشن، رجسٹریشن، یا خصوصی حکومتی منظوری کے تحت پاکستانی شہریت حاصل کر سکتے ہیں۔ نیچرلائزیشن کے لیے کم از کم پانچ سال کی قانونی رہائش، اچھی شہرت اور مقامی زبان پر عبور ضروری ہے جبکہ پاکستانی مردوں سے شادی کرنے والی غیر ملکی خواتین رجسٹریشن کے آسان عمل کے ذریعے پاکستانی شہریت کی درخواست دے سکتی ہیں، جبکہ انسانی ہمدردی کی بنیاد پر بھی کچھ کیسز قابلِ غور ہوتے ہیں۔ تاہم ماہرین کے مطابق پاک-بھارت حساس تعلقات کے باعث بھارتی شہریوں کے لیے یہ عمل خاصا پیچیدہ اور طویل ہوتا ہے۔ماہرین کے مطابق، ”پاکستان کی شہریت پالیسی مجموعی طور پر سخت ہے۔ مستقل شہریت کا حصول تو دور، محض عارضی رہائش کے اجازت نامے کے لیے بھی پیچیدہ مراحل طے کرنے پڑتے ہیں۔” تاہم پاکستان کی شہریت حاصل کرنے والے ایک شہری تنویر الحسن کا کہنا ہے کہ بھارت کے باسیوں کے لیے پاکستان کی شہریت کا حصول نسبتاً آسان ہے، جبکہ پاکستانی شہریوں کے لیے بھارتی شہریت حاصل کرنا تقریباً ناممکن ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کی اہلیہ کا پاسپورٹ صرف اس بنیاد پر منسوخ کر دیا گیا کہ وہ شادی کے بعد پاکستان آ گئی تھیں، حالانکہ وہ بھارتی شہری تھیں۔ وہ کہتے ہیں، ”بھارت کی یہ پالیسی ہزاروں کشمیریوں کو ان کے خاندانوں سے جدا کر چکی ہے۔

انسانی حقوق کے علمبردار انصار برنی کے مطابق پاک-بھارت کشیدگی کا اصل بوجھ عام شہریوں پر پڑ رہا ہے۔ انہوں نے بھارت میں بے سروسامانی کے عالم میں احتجاج کرتی دو سو سے زائد خواتین و بچوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا، ”نہ بھارت انہیں شہریت دے رہا ہے، نہ پاکستان انہیں واپس قبول کر رہا ہے۔ یہ منقسم کشمیری اپنے والدین سے ملنے بھارت گئے تھے، مگر اب بے وطن ہو چکے ہیں۔”

Back to top button